بھائی، اسٹینڈ اوپر کر لیں


بھائی، اسٹینڈ اوپر کر لیں! یہ جملہ ہر وہ شخص بخوبی سمجھتا ہو گا جو موٹر سائیکل چلاتا ہے۔ اگر نہیں بھی، تو کسی چلتی بائیک کا اسٹینڈ نیچے دیکھ کر ضرور یہ الفاظ پوری ذمہ داری سے کہے ہوں گے۔ یہ ہمارے عوام کی طرف سے دی جانے والی بلا معاوضہ فلاحِ عام کی سہولت ہے۔ جو اکثر بائیک چلاتے وقت سننے کو ملتی ہے، اگر خدانخواستہ آپ کا اسٹینڈ بھی نیچے رہ گیا ہو۔

یہ چھوٹی سی بات اصل میں ایک بڑی سوچ کو جنم دیتی ہے۔ کم از کم ہمیں اتنا شعور تو ہے کہ ایک نیچے رہ جانے والا اسٹینڈ کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے، اور ہمیں دوسروں کو اس سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ احساسِ ذمہ داری قابلِ تعریف ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے۔ کیا ہماری ذمہ داری صرف بائیک کے اسٹینڈ تک ہی محدود رہ گئی ہے؟

باقی ٹریفک قوانین کی پاسداری بھی ہماری ذمہ داری ہے، مگر صرف ایک اسٹینڈ کے لیے اتنی فکر کیوں؟ کیا اوور اسپیڈنگ، ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی، دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بغیر ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ چلانا، بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنا یا غلط اوورٹیکنگ کوئی مسائل نہیں ہیں؟

اسی سوچ کو اپنے معاشرے پر لاگو کریں جو ایک مصروف شاہراہ کی طرح ہی ہے، جہاں ہر طرف سماجی مسائل ”نیچے رہ جانے والے اسٹینڈ“ ہیں۔ جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔

بچوں کی تعلیم میں عدم دلچسپی، محض درجے پاس کرنا، علم اور سوچنے کی صلاحیت نہ لینا۔ کیا اس اسٹینڈ کو اوپر کرنے کی ضرورت نہیں؟

فحش گفتگو، بدتمیزی، جھگڑا، اور گالی گلوچ عام بات بن چکی ہے۔ کیا یہ ایک نیچے رہ گیا اسٹینڈ نہیں؟

گلیاں، بازار، اور سڑکیں کچرے سے بھری ہیں۔ کیا ہم صرف حکومت کو دوش دے کر اپنی ذمہ داری سے بھاگ سکتے ہیں؟

بغیر تصدیق ہر بات شیئر کر دینا ایک نیا فساد بنا رہا ہے۔ کیا اس اسٹینڈ کو بھی ٹھیک کرنا ضروری نہیں؟

عدم برداشت، نظم و ضبط کا فقدان، معاشی بدحالی، اور فرائض کی غیر ذمہ دارانہ ادائیگی۔ کیا یہ سب کسی چلتی بائیک کے نیچے رہ جانے والے اسٹینڈ سے کم ہیں؟

اگر ہم صرف باتیں کرنے کے بجائے ان مسائل کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لیں جتنی ایک بائیک کا اسٹینڈ اوپر کرنے کو دیتے ہیں، تو نہ صرف ہمارا معاشرہ بہتر ہو سکتا ہے، بلکہ آنے والی نسلیں بھی تباہی سے بچ سکتی ہیں۔ جس طرح ایک چھوٹی سی لاپرواہی جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتی ہے، اسی طرح ہماری چھوٹی چھوٹی غفلتیں ایک پوری نسل کی تباہی کا باعث بن سکتی ہیں۔

تو اپنے گرد نظر دوڑائیں۔ کہاں کہاں ”اسٹینڈ نیچے ہیں“ ، اور انہیں ٹھیک کرنے کی ذمہ داری اٹھائیں۔ اگر ہم صرف سوچنے کے بجائے عمل کریں، تو نہ صرف اپنی بائیک بلکہ پورا معاشرہ بہتر ہو سکتا ہے۔

تو سوچیے، آپ کے ارد گرد کون سے اسٹینڈ نیچے ہیں؟

Facebook Comments HS