غزہ کے لیے ٹرمپ، نیتن یاہو پلان اور مصری تجاویز


غزہ کی حالیہ جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی جنگ میں عوام ہی سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ اسرائیلی بربریت نے پچاس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا، لاکھوں کو بے گھر کر دیا، مگر اس سب کے باوجود اسرائیل وہ ہدف حاصل نہیں کر سکا جو وہ چاہتا تھا۔ یعنی فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنا اور خطے پر مکمل قبضہ جمانا۔

اسرائیل کے جنگی عزائم کو دیکھتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے مطابق غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کروا کر وہاں ایک جدید ساحلی علاقہ ”غزہ ریویریا“ بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو یا تو مصر اور اردن میں پناہ لینے پر مجبور کیا جائے گا یا پھر ان کے لیے کوئی الگ بستیاں بنائی جائیں گی۔ بظاہر یہ ایک تجارتی اور ترقیاتی منصوبہ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ فلسطینیوں کو ان کے اپنے ہی علاقے سے بے دخل کرنے کی ظالمانہ سازش ہے۔ اسرائیل یہ سب کچھ طاقت کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، اس لیے اب اسے ایک ”معاشی منصوبے“ کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس کے برعکس، مصر نے ایک ایسا امن منصوبہ پیش کیا ہے جسے نہ صرف عرب ممالک بلکہ عالمی برادری کی بھی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت:

سب سے پہلے غزہ میں جنگ ختم کی جائے اور حماس کو غیر مسلح کیا جائے۔
ایک غیر جانبدار اتھارٹی غزہ کا کنٹرول سنبھالے تاکہ وہاں انتظامی معاملات معمول پر لائے جا سکیں۔

غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کیا جائے، جو اسے ایک قانونی فلسطینی حکومت کے طور پر چلائے۔

عرب ممالک غزہ کی تعمیر نو کریں تاکہ لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کو دوبارہ بسایا جا سکے اور بنیادی سہولتیں بحال کی جا سکیں۔

یہ منصوبہ عملی اور حقیقت پسندانہ ہے، کیونکہ اس سے فلسطینی عوام کو فوری ریلیف مل سکتا ہے اور ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حماس کی مسلح جدوجہد نے فلسطینی عوام کو ناقابلِ بیان مصائب میں مبتلا کر دیا ہے۔

• حماس نے اسرائیل کے خلاف جنگ چھیڑی، مگر غزہ کا دفاع نہ کر سکی۔

• اس جنگ کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، لاکھوں بے گھر ہو گئے، اور پوری غزہ پٹی تباہ ہو گئی۔

• اسرائیل کو اپنی جارحیت کا جواز مل گیا اور عالمی برادری میں فلسطینیوں کی تحریک کو نقصان پہنچا۔

یہ وقت ہے کہ حماس اپنی مسلح جدوجہد ترک کر کے ایک سیاسی جماعت کے طور پر کام کرے، تاکہ فلسطینی عوام کو مزید جنگوں اور تباہی سے بچایا جا سکے۔ اگر حماس واقعی فلسطینی عوام کی فلاح چاہتی ہے، تو اسے امن کو موقع دینا ہو گا۔

ٹرمپ، نیتن یاہو کا منصوبہ فلسطینیوں کے مکمل اخراج کی ایک خطرناک کوشش ہے، جبکہ مصری منصوبہ ایک حقیقت پسندانہ حل پیش کرتا ہے، جو غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے اور فلسطینیوں کو ایک مستحکم مستقبل دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

فلسطینیوں کو ایک نئی تباہ کن جنگ کے بجائے، سیاسی اور سفارتی حل کی طرف جانا ہو گا۔ عرب ممالک اور عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اس منصوبے کی حمایت کریں اور حماس کو اس پر عمل درآمد کے لیے آمادہ کریں۔ یہی فلسطینی عوام کے لیے بہتر، اور دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔

Facebook Comments HS