عوامی گورنر“ پر تبصرہ”
(نوائے وقت مورخہ 12 مارچ 2025 میں مطبوعہ ”میاں حبیب“ کا کالم ”سپیڈ بریکر“ اور اس میں ”عوامی گورنر“ کی چاپلوسی)
پاکستانی سیاسی تاریخ میں چاپلوسی پر ایک باب تحریر کیا جائے گا تو اس کے مندرجات ساری پاکستانی تاریخ پر بھاری ہوں گے۔ جب جنگ عظیم دوئم کے دوران جرمنی کے آمر کو فیوہرر یعنی قائد کا لقب دیا گیا تو اس کے ساتھ اس کی پرستش کا بھی سلسلہ شروع ہوا جس سے بر صغیر کے سیاسی افق پر خاص طور پر مسلمانوں میں آمرانہ لیڈرشپ نے خوب رواج پایا۔ مذہبی سیاسی لیڈر تو ویسے بھی جمہوریت کو بے کار سے لے کر غیر شرعی طرز حکومت سمجھتے تھے۔ قائد اعظم جنہیں اگرچہ قائد کا لقب دیا گیا لیکن ان کا اپنا رویّہ بہت حد تک جمہوریت پسندانہ تھا لیکن ان کی وفات کے بعد قائدین کا سلسلہ پاکستان میں شروع ہوا جن کے اختیارات کی حدود میں اضافہ ہوتا ہی چلا گیا۔ بد قسمتی سے اس اخلاقی ڈھلوان کی طرف سفر میں لیڈروں اور چاپلوسوں میں گٹھ جوڑ ہو چکا ہے اور دونوں اطراف ایک دوسرے کی منافقت سے استفادہ کرتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔
ہمارے ایک مرحوم دوست نے چالیس سال پہلے پاکستان ویلفیئر پارٹی جرمنی بنائی اور اس کا ایک جلسہ ہمبرگ میں ایک بڑے ہال میں منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر سٹیج سیکریٹری نے بانی ٔپارٹی کی تعریف میں کہ وہ ”سورج ہیں ہم کرنیں ہیں“ وغیرہ قلابے ملائے۔ صدر پارٹی سٹیج پر نمودار ہوئے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا۔ ”ابھی جو میری تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں یہ سب جھوٹ ہے“ وہ اندر کے کھرے انسان تھے۔
آج کے مذکورہ بالا کالم میں گورنر حیدر سلیم کی میاں حبیب صاحب نے جتنی چاپلوسی فرمائی ہے۔ اگر یہ ملک محمود احمد سے دسواں حصّہ بھی کھرے ہوں تو اعلان کر دیں کہ یہ چاپلوسی مجھے گوارا نہیں۔ مستزاد یہ کی متضاد چاپلوسی جو سخت مکروہ ہے ان صاحب نے اس سے ذرا دریغ نہیں کیا۔ اور یہ لکھ کر کہ:
” اگر بات سیاست کی ہو تو سکہ رائج الوقت سیاست میں تو منافقت عروج پر ہے۔ چکر بازیوں کو ہی سیاست کی معراج تصور کر لیا گیا ہے“
موصوف کی بابت یہ فقرہ لکھ مارا ہے کہ:
”انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز طلباء سیاست سے کیا، ایم ایس ایف کے صدر رہے۔ لیکن عملی سیاست میں مسلم لیگ نے انھیں نظر انداز کیا تو انھوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 1997 ء میں ضلع کونسل کا الیکشن لڑا اور ممبر ضلع کونسل بنے۔“ یعنی پارٹی بدلنا تو عین معمول ہے۔
مزید ان کے مناقب میں لکھتے ہیں کہ :
· گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا شمار بھی ایسے چند سیاسی خاندانی لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا رکھی ہے۔
·انھوں نے گورنر کے عہدے کو پروٹوکول سے لاتعلق کر کے گورنر ہاؤس کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھول دیے۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی کے ورکروں کا پنجاب میں کوئی پرسان حال نہ تھا آج صادق آباد سے اٹک تک کا ورکر گورنر ہاؤس کو اپنا ٹھکانہ سمجھتا ہے۔
·ان کا تعلق علاقے کے قدیم اثر و رسوخ رکھنے والے سیاسی خانوادہ سے ہے۔
·وہ سابق وفاقی وزیر چوہدری نثار کی بھانجی سے بیاہے ہوئے ہیں۔
·سیاست ان کی گھٹی میں شامل ہے۔
·وہ گورنر ہاؤس جس کے باہر سے گزرتے ہوئے بھی جاہ و جلال ٹپکتا تھا اور پروٹوکول کا خاص خیال رکھا جاتا تھا، سردار سلیم حیدر نے سب روایتی پروٹوکول ختم کر کے گورنر ہاؤس کو ایک ڈیرہ بنا دیا ہے۔
·اوپر سے لاہور میں ان کو میاں سعید ڈیرے والا کی صحبت میسر ہے جو انسانی خدمت اور سادگی میں اپنی مثال آپ ہیں۔
·مزیدار پنڈی وال والی پنجابی بولتے ہیں، کرکٹ سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں،
·سکول اور کالج کی کرکٹ ٹیم کے اہم کھلاڑی رہے،
·تاحال اپنے آپ کو سمارٹ رکھا ہوا ہے، بہت کم کھاتے ہیں،
·اپنے آبائی علاقے اٹک میں 10 ہزار کنال زمین کے مالک ہیں۔ لیکن راولپنڈی میں 10 مرلہ کے مکان میں رہتے ہیں۔
·وہ اپنی سیاسی زندگی میں بلاول بھٹو کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔
·حقیقت پسند سیاستدان ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان کے انتخابی سسٹم سے نالاں ہیں۔ انتخابی نظام پر تحفظات رکھتے ہیں اور انتخابات میں مداخلت کے سخت خلاف ہیں۔
اور گورنر کی آخری خوبی اپنی 36 سالہ صحافتی زندگی میں دیکھنے والے تحریر فرماتے ہیں کہ :
·ان کا موقف ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کے احترام سے ہی جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے اور سیاسی نظام پنپ سکتا ہے۔
یہ تمام ”خوبیاں“ پاکستان کے کسی بھی سیاستدان میں آنکھیں بند کر دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس کے لئے 36 سال کی محنت شاقہ کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری طرف ہمارا نوائے وقت ان دونوں پارٹیوں سے چاپلوسی اشتہارات کی اچھی قیمت سرکاری خزانے سے وصول کر نے کے بعد ”منہ کھائے تے اکھاں شرماون“ کی حدود تیزی سے پھلانگ رہا ہے۔ حکومت کا آڈیٹر جنرل بیچارہ کیا کر سکتا ہے۔


