مافیا، فراعینِ مصر، منصور ملنگی اور بابو محکمے
رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے کیلے کا پھل بہاول پور شہر میں اسّی روپے درجن مل رہا تھا۔ میں نے اس لیے نہ خریدا کہ مغربی پنجاب یعنی پاکستانی پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ کی سخت وارننگ کے بعد یہ پرانی قیمت پہ ہی فروخت ہوتا رہے گا۔ ماہِ رمضان شروع ہوا تو معیاری کیلا تو بالکل ہی غائب ہو گیا، شاید عرب ممالک کو برآمد کر دیا گیا تھا لیکن جو کم کوالٹی والا دستیاب تھا اُس کی قیمت بھی بہت زیادہ بڑھ گئی۔ ماضی میں تو پکوڑے ندیدوں کی طرح پلیٹ بھر بھر کر کھائے لیکن اب تھوڑے سے پکوڑے بھی کھانے سے سینے میں جلن اور معدہ میں تیزابیت سی ہو جاتی ہے بھلا ہو پاکستانیوں، بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں کا جو پکوڑوں پہ مر مٹتے ہیں گویا پکوڑا نہ ہوا ٹرمپ کی مفت گولڈ کارڈ آفر ہوئی۔
روزہ افطار کھجور اور فروٹ چاٹ سے کرتا ہوں، ساتھ ہی اُسی وقت سالن روٹی کھا لیتا ہوں۔ دس مارچ 2025 کو کیلے تین سو روپے درجن کے حساب سے خرید کر لایا۔ اچھا، میں نے یوٹیوب ٹریول چینلز پہ انڈونیشیا اور ملائشیا پہ بنائی گئی جو ویڈیوز دیکھیں تو وہاں کیلے کو بیسن میں ڈبو کر گرم تیل میں فرائی کر کے بطور پکوڑا کھایا جاتا ہے۔ وہاں کچھ علاقوں میں کیلوں کو خشک کر کے ان کا آٹا بھی بنایا جاتا ہے۔ وہ لوگ اُبلے ہوئے چاولوں کے اوپر کیلے کے ٹکڑے ڈال کر بھی کھاتے ہیں۔
میں نے ایک علاقہ میں پشتون بھائیوں کو چاول اور بغیر دودھ والے قہوہ کے ساتھ روٹی کھاتے دیکھا تو بڑا عجیب لگا لیکن جب خود کھا کر دیکھا تو ذائقہ اچھا لگا۔ اب تو بہاول پور شہر کا کاروبار بڑی تیزی سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے آئے ہوئے پشتون اور بلوچ بھائیوں کے ہاتھ میں جا رہا ہے۔ جگہ جگہ کوئٹہ ٹی اسٹالز کھل گئے ہیں۔ ڈرائی فروٹ، کپڑا، گارمنٹس اور دیگر کئی کاروبار کی دکانوں پہ پشتون اور بلوچ براہوی بھائی بیٹھے ہیں۔ ان کی وجہ سے مقامی کاروبار کو فائدہ تو بہت ہو رہا ہے تاہم پشتون اور بلوچ کاروباری طبقے اور طلباء کی آمد سے بہاول پور شہر میں مکانوں کے کرائے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اور ساتھ ساتھ بلڈر مافیا نے رہائشی پلاٹوں کی قیمت بھی بہت زیادہ بڑھا دی ہے جس کی ادائیگی سفید پوش طبقے کے بس میں نہیں رہی۔
بڑے سالوں بعد اس بار میں نے سردیوں میں چلغوزہ جی بھر کر کھایا۔ بہاول پور ٹیکنالوجی کالج چوک پہ سوات سے آیا ہوا ایک بھلے مانس پشتون نوجوان ریڑھی پہ ہی چلغوزے کا ڈھیر لگا کے بیٹھا تھا۔ میں نے گزرتے ہوئے موٹر سائیکل کی بریک لگا کر ریٹ پوچھ لیا تو اس نے کہا ”تم امارہ پہلا گاہک اے، تم کو سستا دیوے گا۔ تمہارے بعد جو جو آوے گا اُس سے حساب برابر کر لیوے گا“ ۔ خیر، اس نے مارکیٹ سے بہت ہی کم قیمت پہ شاپر بھر دیا۔ خود بھی کھایا اور مہمانوں کو بھی کھلایا۔
بات ہو رہی تھی پھلوں کی قیمت کی۔ رواں ماہِ رمضان میں بہاول پور شہر کے ایک علاقہ میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے سڑک کنارے پھل بیچنے والے کو پچیس ہزار روپے کا جرمانہ کیا تو اُس نے کہا ”سر! آپ مجھ غریب پہ تو اتنا بڑا جرمانہ لگا رہے ہو، کبھی سبزی فروٹ منڈی جا کر بھی دیکھا کہ وہاں آڑھتی، ہول سیلر اور گودام سپلائر رمضان شروع ہونے کے بعد ہم پرچون فروشوں کو پھل کس قیمت پہ دے رہے ہیں؟“ صاحب جرمانہ کی رقم وصول کر کے غصّے میں چلے گئے۔
یہ حقیقت ہے پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش میں سبزیوں، پھلوں، دودھ، دہی، گندم، آٹا، گوشت، چاول، مصالحہ جات اور یہاں تک کہ صابن، شیمپو اور ٹوتھ پیسٹ کی منزل تک قیمتوں پہ حکومتوں کا نہیں بلکہ مافیا کا کنٹرول ہے چاہے وہ مافیا صنعت کار کے روپ میں ہے، بڑے تاجر کے روپ میں ہے، شہر کے مضافات میں گودام بنا کر سبزیوں، پھلوں، چینی، چاول اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی طریقے سے ان کی قلت پیدا کر کے ناجائز منافع خوری کرنے والے ذخیرہ اندوز کے روپ میں ہے یا وہ اس بیورو کریٹ، سرکاری افسر اور سرکاری اہلکار کے روپ میں ہے جو ناجائز منافع خوری کرنے والوں اور اشیاء ضرورت کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لیے انھیں گوداموں میں سٹاک کرنے والوں اور آڑھتیوں وغیرہ سے اپنا ”رشوتی حصّہ“ وصول کرتا ہے۔
حال تو یہ ہے کہ بہاول پور میں دریائے ستلج کے خشک پیٹ سے جو ریت مفت اٹھائی جاتی ہے وہ ٹریکٹر ٹرالی پہ لاد کر عوام کو پانچ ہزار روپے میں فروخت کی جا رہی تھی اب وہاں بھی مخصوص بھتہ مافیا نے اپنے قدم جما کر ریت کی ٹریکٹر ٹرالی کی قیمت ایک دم پانچ ہزار روپے سے بارہ ہزار روپے کر دی ہے۔ رواں ماہ مارچ میں ہی بہاول پور پریس کلب میں سول سوسائٹی بشمول صدر بہاول پور ہائی کوٹ بار، صدر ڈسٹرکٹ بار، صدر انجمن تاجران، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور صحافیوں نے بھتہ مافیا کے خلاف مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کچھ با اثر شخصیات اور کچھ سرکاری افسران بھی اس بھتہ مافیا سے اپنا ”حصّہ“ وصول کر رہے ہیں۔
بیس سال پہلے پانچ مرلہ کا جو ڈبل سٹوری مکان پندرہ بیس لاکھ روپے میں بھی بن جاتا تھا، کنسٹرکشن میٹیریل کے بہت زیادہ مہنگا کر دیے جانے کی وجہ اب اس پانچ مرلہ مکان کا صرف معیاری گرے سٹرکچر ایک کروڑ روپے تک لے رہا ہے۔ دیکھا جائے کہ رئیل اسٹیٹ سیکڑ کو درپیش بحران کے پیچھے بھی کوئی فرعونی مافیا تو نہیں؟
تحقیق کی جائے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے مختلف شعبوں میں بیٹھے مافیاز کے اندر فراعینِ مصر کے جینز تو نہیں؟ بائیولوجیکل سائنس کہتی ہے کہ کسی فرد میں اپنے بڑوں کا مزاج و عادات جینز کی صورت میں بارہ ہزار سال تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ فراعینِ مصر تو وصیّت کر جاتے تھے کہ ان کی قبروں میں ہیرے جواہرات اور دولت کو بھی ساتھ رکھا جائے۔ ویسے بھی تحقیق کنفرم کرچکی ہے کہ فراعین مصر کے نمائندے انڈیا تک پہنچ گئے تھے جس کا ثبوت ہندو مت میں پایا جانے والا لنگم اور یونی پوجا کلچر ہے جو دراصل وہاں سے ہی یہاں آیا۔ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام و خواص کی ایک تعداد کے اندر بھی دولت کی ہوس کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مرتے ہیں نہ جیتے ہیں بس پیسہ پیسہ کرتے ہیں۔
برِ صغیر کی تقسیم کو 76 سال ہو چلے اور ہم سسٹم میں بہتری کی امید لگائے اپنی جوانی گزار گئے۔ اس امید اس انتظار کو منصور ملنگی نے اپنے گیت میں کس خوبصورت طریقے سے بیان کیا ہے۔ ”تیڈی مُونجھ دا ماہِ رمضان لگا (تیری یاد اور تیرے انتظار کا ماہِ رمضان لگا) ۔“ میڈی سوچ اعتکاف اِچ بہہ گئی اے ” (یہاں تک کہ میری سوچ اعتکاف میں بیٹھ گئی) ۔“ ہنج تھئی مصروف تراویحاں و ِچ ” (آنسو تراویح میں مصروف ہو گئے ) ۔“ اَکھ سجدے دے وچ ڈھ گئی اے ” (اور آنکھ سجدے میں گر گئی)۔
اکبر شیخ اکبر کا خیال ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سرکاری محکموں میں پائی جانے والی مالی کرپشن اور وہاں عوام النّاس کے جائز کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کے منفی کلچر کو اس وقت تک ختم نہیں کر سکتے جب تک آپ ان بابو محکموں کے سارے نظام اور پراسیس کو سنٹرلائیزڈ اور ڈیجیٹلائزڈ نہیں کر دیتے۔ آپ نے چالیس کمروں کا ڈپٹی کمشنر آفس بنا کر سسٹم کو اتنا پیچیدہ کر دیا کہ جائز کام کی فائل چالیس دن تک مختلف کمروں میں گھومتی رہتی ہے بلکہ سالہا سال اسے سائیڈ پہ رکھ دیا جاتا ہے جب تک اس کے نیچے کرنسی نوٹ کے پہیے نہیں لگا دیے جاتے۔
آپ کئی کئی کمروں پہ مشتمل سرکاری محکموں کی تمام عمارتیں گرا دیں۔ تمام سرکاری محکموں کے لیے نئی عمارت بس ایک وسیع و عریض شیشے کے ہال پہ مشتمل ہو جس کی دیواریں بھی شیشے کی ہوں۔ اس کے اندر بڑے افسران چاہے وہ کمشنر ہو، ڈپٹی کمشنر ہو، چیف میونسپل افسر ہو یا جو بڑے افسران ہوں ان کے لیے شیشے کے کیبن ہوں اور باقی سارے ہال میں کمپیوٹرز پڑے ہوں جن پہ دیگر عملہ بیٹھا ہو۔ ہال کے اندر نگران کیمرے اور آواز ریکارڈ کرنے والے آلات لگے ہوں پھر دیکھیں بابو محکموں میں کام جلد ہوتے ہیں یا نہیں اور کرپشن ختم ہوتی ہے یا نہیں۔


