دریاؤں کے لئے کچھ کرنے کا دن


دریاؤں کے لئے کچھ کرنے کا عالمی دن تو 14 مارچ کو منایا جاتا ہے لیکن سندھ میں تو کئی دنوں سے سندھو دریا میں پانی کی کمی کے حوالے سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس وقت جب ہم مضامین لکھ رہے ہیں اور سیمینار کر رہے ہیں تو جامشورو کے پاس دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے ماہی گیر اس انتظار میں ہیں کہ کوٹری سے نیچے دریا میں زیادہ پانی آئے تو وہ مچھلیاں پکڑ سکیں کیونکہ یہی ان کی روزی کا ذریعہ ہے۔ سندھ کے عوام کو بجا طور پر خدشہ ہے کہ اگر کارپوریٹ فارمنگ پراجیکٹ کے لئے نہریں نکالی گئیں تو دریا کا پانی اور بھی کم ہو جائے گا۔ ہمارے ماہی گیر، ہمارے کسان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ دوسری طرف سندھ میں سمندر کی سطح بلند ہونے سے کھارا پانی زمین کے نیچے موجود میٹھے پانی کو بھی کھارا کر رہا ہے۔ سندھ کی زرعی زمینیں خاص طور پر ٹھٹھہ اور کیٹی بندر کے آس پاس بنجر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

یہاں ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں دریاؤں کے لئے ایکشن کا دن منانے کا آئیڈیا مارچ 1997 میں برازیل میں ڈیمز سے متاثرہ افراد کی پہلی بین الاقوامی میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ پہلے اسے ڈیمز کے خلاف دن کے طور پر منایا جاتا تھا۔ اس دن کا مقصد دریاؤں، پانی اور زندگی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور ڈیمز سے متاثرہ لوگوں کے حقوق کی وکالت کرنا ہے۔ 2025 میں اس عالمی دن کا موضوع ہے، ”ہمارے دریا۔ ہمارا مستقبل“ اور ہمیں سوچنا ہے دریائے سندھ کے بارے میں جسے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ یعنی پانی کی کمی، آلودگی، کلائمٹ چینج کے اثرات، اور پانی کے سرحدی جھگڑے۔ ان مسائل کی وجہ سے دریا کے کنارے آباد لوگوں کے روزگار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ جس طرح سے دریائے سندھ کو تباہ کیا گیا ہے، اس طرح دنیا کے کسی بھی دریائی سسٹم کو تباہ نہیں کیا گیا۔ اسے کاٹا گیا، بند کیا گیا، ڈیم بنائے گئے اور اس کا رخ موڑا گیا۔ ہماری حکومتوں نے جو دریائی معاہدے کیے ہیں اور پانی کی تقسیم کا جو نظام بنایا ہے، اس پر نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام کی وجہ سے ہماری صدیوں پرانی ثقافتیں تباہ ہو گئی ہیں، گاؤں بہہ گئے ہیں اور لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

سندھو دریا کی تباہی کا آغاز انگریزوں کے زمانے میں ہی ہو گیا تھا جب انہوں نے یہاں کینال کالونیاں بنانی شروع کیں۔ یہ سلسلہ آج تک رکا نہیں لیکن کیا ہم اسے اب بھی جاری رکھنا چاہیں گے خواہ یہ ہماری ثقافت اور روزگار کو تباہ کر دے۔

اس وقت ہم سب کے سروں پر پانی کی کمی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سندھ میں تھر کے لوگ خاص طور پر اس سے واقف ہیں کہ پیاس کیا ہوتی ہے اور پانی نہ ملے تو ہمارا کیا حال ہوتا ہے۔ ہماری آبادی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لئے پانی کی خاص طور پر زراعت کے لئے زیادہ ضرورت ہے۔ دریائے سندھ کی آبپاشی کا نظام پرانا اور ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے پانی ضائع بہت ہوتا ہے۔ زیادہ آبپاشی اور پانی کے نکاس کے ناقص نظام کی وجہ سے سیم اور تھور کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اور زمین ناقابل کاشت ہوتی جا رہی ہے۔ کسان ٹیوب ویل کے ذریعے زیر زمین پانی پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں جس سے زیر زمین پانی کم ہوتا جا رہا ہے۔ دیگر ممالک کے مقابلے میں ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کم ہے جس کی وجہ سے خشک سالی اور سیلاب دونوں سے ہی نمٹنا مشکل ہے۔ کلائمٹ چینج کی وجہ سے بھی پانی کم ہو رہا ہے۔ صنعتی فضلہ اور زراعت میں استعمال ہونے والے کیمیکلز بھی دریا کو آلودہ کر رہے ہیں۔ پلاسٹک کے استعمال سے بھی دریا کو نقصان پہنچا ہے۔

ماحولیاتی ایکٹوسٹ عافیہ سلام کا کہنا ہے کہ آج کل جو دریا میں سے نئی نہریں نکالنے کی بات ہو رہی ہے تو دریا کے آخری سرے پر آباد لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر آپ کوئی نہر نہیں بنا سکتے۔ اب دنیا مسائل کے فطری حل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بڑے ڈیمز اب ماضی کی بات ہو گئے ہیں۔ اب ہمیں دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔ ’

سندھ کو سالوں سے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ کسانوں کو اپنی زمینوں کو پانی دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو پینے کا پانی بھی مشکل سے ملتا ہے۔ سندھ کو اس کا جائز حق نہیں ملتا۔ نئی کینالز بنانا نا انصافی ہے۔ سندھو دریا پر سندھ کا آئینی اور تاریخی حق ہے لیکن اس کے پانی کو دوسرے علاقوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ زیریں سندھ کے کسانوں کو خاص طور پر بدین، ٹھٹہ اور سجاول میں پانی کی کمی کی وجہ سے سنگین مسائل کا سامنا ہے، پانی نہ ملنے کی وجہ سے ان کی زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ہیں۔ ماحول پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ غذائی عدم تحفظ بڑھتا جائے گا۔

سندھ کے پانی کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ کے لئے نئی نہروں کی تعمیر غیر قانونی ہے، اسے روکا جائے۔ سندھ کو اس کا جائز حق دیا جائے۔ اگر نا انصافی ہوتی رہی تو قدرتی آفات آتی رہیں گی۔ اور تباہی پھیلے گی۔ ابھی وقت ہے کہ انصاف سے سب کو پانی کا حصہ دیا جائے تا کہ ہم آنے والی آفات سے بچ سکیں۔

Facebook Comments HS