خالد سہیل اور حامد یزدانی کی مشترکہ محبوبہ


کتاب کے سرورق پر ”مشترکہ محبوبہ“ کا عنوان سامنے آتے ہی دل میں ایک شرارتی سی جنبش ہوتی ہے اور پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یہ کسی سانجھی معشوقہ کی داستانِ دلفریب کا بیانیہ ہو گا۔ یا کوئی جادوگر حسینہ کی کتھا جو دو افراد پر عاشق ہو گئی ہے۔ اور اب اپنی کتھا سنا رہی ہے۔ مگر اس دلفریب عنوان کے نیچے اس مخمصے کو ایک بریکٹ کے اندر یہ تحریر لکھ کر دور کر دیا گیا کہ دراصل یہ دو دوستوں کی ادبی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ گویا مشترکہ محبوبہ کوئی خاتون نہیں بلکہ استعارہ ہے اور کتاب ادبی فن پاروں پر مشتمل ایک سنجیدہ مگر دلچسپ دستاویز ہے جو اپنے اندر ہلکا پھلکا مزاح بھی رکھتی ہے۔ کتاب کے شریک مصنفین ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی صاحب ہیں۔

پونے تین سو صفحات پر مشتمل کتاب کو چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ’کچھ اشتراکی معرکے‘ کے عنوان سے پہلا باب حامد یزدانی کے مضامین اور خالد سہیل کے ان مکتوباتی کالموں پر مشتمل ہے جو انٹرنیٹ جرنل ”ہم سب“ پر شائع ہو چکے ہیں۔ ان تحریروں میں مزاح بھی ہے اور دانائی کی باتیں بھی۔ دوستی کی چاشنی بھی ہے اور ادبی فہم و فراست بھی ہے۔ بالغ نظری بھی ہے اور ہم جیسے نئے لکھاریوں کے لیے ادبی تربیت کا سامان بھی ہے۔

دوسرے باب کا عنوان ’تین پیاسے‘ ہے۔ اس باب میں پاکستان کے نامور اردو اور پنجابی شاعر پروفیسر عارف عبدالمتین کی شخصیت اور فن پر مضامین ہیں۔ عارف عبدالمتین ڈاکٹر خالد سہیل کے چچا، حامد یزدانی کے والد گرامی یزدانی جالندھری کے ہم عصر شاعر تھے۔ اس میں ایک مکتوباتی مضمون عارف صاحب کے فرزند جناب نوروز عارف صاحب کا بھی ہے۔ گویا یہ تینوں افراد عارف عبدالمتین کی محبت کی پیاس آج بھی محسوس کرتے ہیں۔

’باتیں اور ملاقاتیں‘ کے عنوان سے تیسرا باب ان مضامین پر مشتمل ہے جو چند ادبی اکابرین کی زندگیوں پر لکھے گئے اور ’ہم سب‘ کی زینت بنے۔ ان شخصیات میں، نامور شاعر اختر حسین جعفری، ترقی پسند نقاد پروفیسر محمد حسن، برصغیر کے اہم شاعر یزدانی جالندھری، منیر نیازی، زاہد ڈار اور اقبال ساجد شامل ہیں۔

کتاب کا تیسرا باب بھی نہایت دلچسپ ہے۔ اس میں شریک مصنفین خالد سہیل اور حامد یزدانی کے درمیان لکھے گئے مکتوبات نے کتاب مشمولات کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ ان خطوط کے موضوعات میں : ادبی اور پیشہ ورانہ زندگی کا رشتہ، نویدِ صبح ہیں سارے جہاں کے بچے، کیا آپ کی داڑھی سفید ہو رہی ہے؟ ، کیا آپ کو نانی اور دادی بننے کا شوق ہے؟ حامد یزدانی اور خالد سہیل کی مشترکہ محبوبہ، ہم خواب کس زبان میں دیکھتے ہیں؟ درویش کی زنبیل سے تین تحفے اور ماہِ رمضان میں رومانوی ڈیٹ، شامل ہیں۔ ماہِ رمضان میں رومانوی ڈیٹ میں خالد سہیل رقمطراز ہیں :

”میری محبوبہ نے مجھ سے پوچھا : ’آپ روزے کیوں نہیں رکھتے؟‘ میں نے جواب دیا : ’زندگی ایک سفر ہے اور سفر میں روزہ معاف ہے۔ ‘ میری توجیہہ سُن کر وہ بہت ہنسیں اور کہنے لگیں :“ کوئی تاویلیں آپ سے سیکھے۔ ”میں روزہ نہ بھی رکھوں پھر بھی ان کے اصرار کے باوجود کہ آپ کھانا جلد کھا لیں، میں شام کے کھانے میں ان کی افطاری تک انتظار کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے اس طرح تھوڑا سا ثواب مجھے بھی مل جائے۔ ان کے روزے کے انتظار میں، میں رومانوی فاصلہ رکھتا ہوں اور افطاری کا انتظار کرتا ہوں۔ لیکن انتظار کی بھی حد ہوتی ہے۔ کبھی کبھی صبر کا پیمانہ لبریز بھی ہو ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے روزہ دار کا محبوب بھی رومانوی روزہ رکھ رہا ہے۔“ (صفحہ 262 )

حامد یزدانی خالد سہیل کی بذلہ سنجی کا جواب بہت خوبصورت پیرائے میں یوں دیتے ہیں :

”کون کہتا ہے کہ آپ روزہ نہیں رکھتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دوسرے جسمانی روزہ رکھتے ہیں اور آپ رومانوی۔ اور اس کا اجر بھی لازماً رومانوی ہی ہو گا جو آپ کے حسبِ منشا ہے۔ آپ کی احترام رمضان کی انسان دوست پالیسی بھی لائقِ تحسین ہے کہ آپ نہ گناہ و ثواب کے قائل ہیں اور نہ ثواب و گناہ کے۔ مگر عادتاً نامِ خدا لینے میں مضائقہ نہیں سمجھتے۔ چلیے کسی بہانے سہی، ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں :

”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے“

”۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ دنیا اور زندگی کے بارے میں میرے مثبت طرز فکر کا سبب شاید یہ ہے کہ میں اپنے پاپا کے ذہن سے سوچتا ہوں، اپنی امی کے دل سے محسوس کرتا ہوں اور اپنی بیگم اور بچوں کی آنکھوں سے دیکھتا ہوں۔ اس لیے زندگی میرے سامنے ایک خوبصورت منظر کی طرح ابھرتی ہے۔“ (صفحہ 267 )

مشترکہ محبوبہ کا پانچواں باب شریک مصنفین کے ایک دوسرے سے کیے گئے انٹرویوز پر مشتمل ہے جن کے عنوانات بہت دلچسپ اور بامعنی ہیں :

( 1 ) سنجیدہ ادیب لمبی دوڑ کا کھلاڑی اور ایک میراتھن رنر ہوتا ہے۔
( 2 ) آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟
کتاب کا چھٹا حصہ خالد سہیل اور حامد یزدانی کی منتخب شاعری پر مشتمل ہے۔
خالد سہیل کی غزلوں کے انتخاب میں سے چند اشعار :

اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا

کیا سادہ ہیں ہم لوگ کہ ان مردہ دلوں میں
نسلوں سے کوئی زندہ خدا ڈھونڈ رہے ہیں

کتنی محنت سے ہم نے حاصل کی
ایسی ہر چیز جو گنوانی ہے

رات بھی جلتا رہا ہوں میں سہیل اس آس میں
میں تو بجھ جاؤں گا لیکن روشنی رہ جائے گی

بڑھاپے میں دبے پاؤں جوانی لوٹ آئی ہے
کہ جیسے اب فسانے میں کہانی لوٹ آئی ہے

وہ دریا بن کہ بہتا تھا تو کتنا شور کرتا تھا
سمندر میں وہ جب سے آ ملا خاموش رہتا ہے

وقت اک بحرِ بیکراں خالد
ہر ملاقات اک جزیرہ ہے

تھوڑا سا فاصلہ (نظم)

ایک ہاتھ لیتا
ایک ہاتھ دیتا ہے
اور دونوں ہاتھوں میں فاصلہ ہے تھوڑا سا
جس کو پار کرنے میں
سر کے کتنے بالوں میں
چاندی گھر بناتی ہے
عمر بیت جاتی ہے

حامد یزدانی کی شاعری کے انتخاب سے چند اشعار:

میرے خیال کے سب روپ اپنے حسن کی دھوپ
وہ لے اُڑا ہے مرے خواب سے گزرتے ہوئے

میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں
تم بھی تسبیح فراموشی پہ دہرانا مجھے

عکس کس سنگدل کا ابھرا تھا
آئینہ پھر سے ہو گیا پتھر
ایک پتھر تھا، ایک دل، حامد
میں نے بے ساختہ چنا پتھر

صورت نہ سہی اک خطِ امکاں تو کھینچا ہے
ہم صفحہِ دل کو کبھی سادہ نہیں رکھتے

ایک مشترکہ مطلع

رات کروٹ بدلتی رہی، برف گرتی رہی
یاد کی شمع جلتی رہی، برف گرتی رہی
(حامد یزدانی، خالد سہیل)

مشترکہ محبوبہ ادبی مضامین اور مکتوبی ادب کا حسین امتزاج اور اردو ادب میں خوبصورت اضافہ ہے۔ میں شریک مصنفین ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی کو اردو قارئین کو اپنی نگارشات کا یہ خوبصورت تحفہ عطا کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

(نوٹ: یہ کتاب آواز پبلیکیشنز راولپنڈی نے مارچ 2025 ء میں شائع کی ہے۔ منگوانے کے لیے 0300۔ 5211201 (WhatsApp) پر رابطہ کر کے آرڈر کی جا سکتی ہے )

Facebook Comments HS