وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو ایسے عید منا لیتے ہیں


زند گی میں جو اتفاق رونما ہوتے ہیں اس میں بھی کوئی نا کوئی سائنس تو ضرور موجود ہوتی ہوگی چونکہ سمجھ سے بالاتر ہے اس لیے ہم اسے اتفاق کہہ دیتے ہیں میری دانست میں یہ شعر کسی حد تک ان اتفاقات کی وضاحت کرتا نظر آتا ہے جو سائنس ان میں پوشیدہ پائی جاتی ہے مطلب ان اتفاقات میں جو سائنس موجود ہے وہ کچھ یوں ہے کہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

زند گی میں کچھ خوش نما اتفاق ہوتے ہیں جیسے ہم کسی دوست کے بارے میں سوچ رہے ہوں اور وہ جناب تشریف لائیں تو عجیب سی مسرت ہوتی ہے اور ہم بلا جھجک اور بلا توقف کہہ دیتے ہیں بڑی عمر پائی ہے ابھی تمہارے بارے میں سوچ رہا تھا، بہت جگری یار ہو تو کہہ دیتے ہیں، لو شیطان کے بارے میں ابھی سوچا ہی تھا وہ حاضر ہو گیا، بعض اوقات کسی چیز کی تلاش ہوتی ہے مگر کہیں سے نہیں مل پاتی اور ہم ویسے ہی بازار چلے جاتے ہیں روٹین کی کوئی چیز لینے اور عام سی دکان سے وہ مطلوبہ چیز مل جائے اچانک نظر آ جائے جس کی تلاش ایک عرصہ سے تھی تو کس قدر خوش کن اتفاق ہوا۔ ہم بعض اوقات بلا ارادہ کہیں چلے جاتے ہیں وہاں سے ہمیں کوئی قیمتی چیز مل جائے، کسی پسندیدہ شخصیت سے ملاقات ہو جائے، کوئی محبوب چہرہ مل جائے تو کیا بات ہے واہ کیا بات ہے، وہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں منشی جی بکنے آئے تھے یوسف اور مصر کی بادشاہی مل گئی۔ ریاض خیر آبادی کہتے ہیں نا

ہم بند کیے آنکھ تصور میں پڑے ہیں
ایسے میں کوئی چھم سے جو آ جائے تو کیا ہو

اوپر منشی جی کا ذکر بھی کچھ اسی طور آیا ہے پہلی دفعہ اسی طرح کا شعر شرابی فلم میں چھوٹے مالک کی زبانی سنا تھا، یہ چھوٹا مالک اور بڑا مالک کیا ہوتا ہے، بھائی مالک تو سب کا ایک ہے جو اوپر بیٹھا ہے، بڑا تو وہ ہے جس کی مونچھیں بڑی ہیں۔ مونچھیں ہوں تو نتھو لال جیسی ورنہ نا ہوں۔ بھائی ہمارا کیا یہاں تو چٹیل میدان ہے۔ کمال کے مکالمے ہیں جو ضمناً ذہن میں آ گئے۔ خیر ہم تو حسین اتفاقات کی بات کر ہے تھے۔ بعض اوقات اس کے متضاد بھی ہوتا ہے جسے ہم برا، بہت برا اور شدید برا اتفاق کہے دیتے ہیں اور ہمیں تو ایسے اتفاقات سے ہی پالا پڑا ہے۔ جناب حضرت قبلہ امانت چن صاحب نے اپنے کسی ڈرامہ میں فرمایا ہے جس کا اردو ترجمہ یہاں پیش کر رہا ہوں جس سے یقیناً آپ محظوظ نہیں ہو پائیں گے جس طرح اس ڈرامہ اور اندازِ امانت سے آپ حظ اٹھا سکتے ہیں۔ چلیں پہلے پنجابی لکھتا ہوں پھر ترجمہ ”سانوں تے خواب وی انج دے آندے نے، اگ لگ گئی، بھم آ گیا، مکان ڈگ گیا، پانی وچ ڈب گیا، کتے پے گئے“ مطلب خواب بھی کچھ اس انداز سے ہوتے ہیں کہ کہیں آگ لگ گئی، زلزلہ آ گیا، مکان گر گیا، پانی میں ڈوب گیا، کتے پیچھے پڑ گئے وغیرہ وغیرہ۔ ہم غریب پاکستانیوں کو بھی کچھ اسی طرح کے اتفاقات نے گھیر رکھا ہے۔ کچھ برس پہلے کی بات ہے کہ جب ہمارے یہاں دہشت گردی عروج پر تھی اور اسی طرح کے دہشت گرد حملے نے کرکٹ ہم سے چھین لی ایسے میں جب ہم زمبابوے اور کینیا سے جیت جاتے تو ہمارے یہاں ایسی خوشی منائی جاتی کہ جیسے انڈیا سے ہارا میچ جیت گئے ہیں۔ (اب تو خیر کرکٹ کی بات کرتے بھی دل گھبراتا ہے، شالا کوئی میچ ہی نا ہو کتنی شکستوں کا بوجھ اٹھائے گا یہ دل ناتواں اور وہ بھی انڈیا سے، خیر یہ مسئلہ بھی حساس طبیعت عوام کا ہے ورنہ ان کی تو دکانداری ہے ملک جیتے یا ہارے ہمارے پیسے کھرے ) ، ایک دفعہ یونہی ہوا اور میں اپنے شفیق استاد قبلہ شفیق احمد کمبوہ کے ہاں موجود تھا۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی اتنی خوشی کی بات نہیں جس پر شادیانے گولے پٹاخے بجائے جا رہے ہیں قبلہ فرمانے لگے عادل عزیز بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں خوشیوں کا شدید فقدان ہے دہشت گردی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا اور جب ہمیں اتنا بھی مل جائے تو عید سے کم نہیں ہوتا۔ اور کچھ ہی دیر بعد مون مارکیٹ میں پے در پے دھماکے ہو گئے، میں نے کہا اور منا لو خوشیاں۔ محبت کر تو لیں لیکن۔ محبت راس آئے بھی۔ ہائے ہمیں محبتیں راس نہیں آتی ہیں، ہجر و فراق کی وحشتوں نے ہمیں مار ڈالا ہے۔ کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔

ہمارے اتفاق ملاحظہ ہوں جو صرف ماہ رمضان میں رونما ہوتے چلے آرہے ہیں چند برس پہلے آپ کو یاد ہو گا کہ سیالکوٹ کے دو بھائی حافظ قرآن انتہائی بے دردی سے قتل کر دیے گئے جس پر پوری قوم سوگوار ہو گئی چونکہ واقعہ اتنا دل خراش تھا اب اسے دوبارہ سے کیسے تفصیل سے لکھا جائے۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ کچھ سال قبل اس ماہِ مقدس میں ایک آئل ٹینکر احمد پور شرقیہ میں الٹ گیا اور گرد و نواح کے لوگ وہاں سے تیل اکٹھا کرنے لگ گئے بہت سوں نے ڈرم بھرے کئیوں نے بالٹیاں، چھوٹے بڑے برتن بھرنے میں لوگ مصروف تھے کہ آگ نے لپیٹ میں لے لیا یاد ہے نا آپ کو، پھر ابھی کچھ تین چار سال پہلے کراچی میں جہاز اترتے ہوئے ایک گھر سے ٹکرا گیا تھا وہ بھی عید سے دو تین روز قبل کا وقوعہ ہے، ہاں یہ رمضان کا ہی مہینہ تھا کہ ہمارے ہر دل عزیز سیاست دان جناب قمر الزمان کائرہ صاحب کا جواں سالہ بیٹا کار کے حادثے میں جاں بحق ہوا، آپ کہیں گے کہ ایسے انفرادی واقعات تو ہوتے رہتے ہیں مگر میرے خیال میں کائرہ صاحب قومی سطح کے سیاست دان ہیں ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قومی واقعہ ہی تصور ہو گا۔ اور اب شومی قسمت دیکھئے یہ جعفر ایکسپریس کے ساتھ جو ہوا اسے برداشت کیا جا سکتا ہے ہم کس قدر المیہ کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ اتفاقات ہمارے ساتھ تواتر سے کیوں پیش آتے ہیں، انکل کیوں کہتے تھے آخر کیوں ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے آخر کیوں، کوئی ہے اس کیوں کا جواب کسی کے پاس، یہ کیوں نہیں سوچتے، یہ کیوں نہیں اس کا حل نکالتے، یہ کیوں نہیں میری کیوں کا جواب دیتے آخر کیوں۔ محترمہ فہمیدہ ریاض کہتی ہیں،

چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں
کسی آسیب کا سایہ ہے یہاں

بات بس اتنی سی ہے یہ اتفاقاتِ بد، سوئے اتفاق ہماری جان کیوں نہیں چھوڑتے اور جب عید کی آمد آمد ہوتی ہے تو ان سے دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے، کیا ایسے غموں سے بوجھل دل کے ساتھ عید منائی جا سکتی ہے؟ وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو ایسے عید منا لیتے ہیں۔

Facebook Comments HS