ڈارون کا نظریہ جمود

یہ جو ہم انسان نما مخلوق ہیں ہم ہیں کیا؟ چھوٹے ہوتے اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کر بیٹھتے تو بڑے ہمیشہ یہی کہتے ”بندے دا پتر بن“ یعنی انسان کے بچے بنو مطلب انسان بنو۔ یہ انسان ہے کیا؟ انسان بنتے کیسے ہیں؟ مشاہدہ بتاتا ہے، تاریخی قرائن بتاتے ہیں کہ ہم نے یعنی استاد ڈارون کے بندر نے ابھی تک انسان ہونے کے متعلق کوئی جواز ہیش نہیں کیا ہے سائنسی اور تکنیکی طور پر بے شک اس

Read more

جمہور، جمہوریت اور جمہوری رویے

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے علامہ اقبال نے تو جمہوریت کا بڑا سیدھا اور سادہ سا جواب دیا ہے کہ یہ ہے کیا۔ اس کے باوجود آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جمہوریت ہے کیا؟ حالانکہ اسے پڑھتے پڑھاتے، سمجھتے سمجھاتے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ پھر یہ جمہوریت نامی جو بلا ہے، آفت ہے، کوئی چیز ہے جو بھی ہے رب جانے کیا ہے؟ علامہ کے مطابق کہ

Read more

صحافت کے عطائی

صحافت مکمل طور پر ایک پیشہ ورانہ علم و تربیت کا عمل ہے۔ اس عمل کے لیے باقاعدہ طور پر جامعات اور کلیات اپنے یہاں ڈگری، ڈپلومہ اور سرٹیفیکیٹ پیش کرتے ہیں اور پیشہ ورانہ مہارت کے حصول کے بعد اسناد عطا کرتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے قانون کی ڈگری ہے مطلب وکالت کی سند۔ شعبہ طب میں مختلف امور سر انجام دینے کے سرٹیفیکیٹ اور اسناد موجود ہیں۔ مزید اس میں تخصیصی علوم اور مہارتوں کے لیے ڈگریاں اور

Read more

صحافی اور صحافت

صحافت کے طالب علم ہونے کے ناتے اساتذہ نے ایسے ایسے اسباق یاد کرا دیے کہ صحافت کرنا ہمارے بس کی بات نا تھا۔ صحافت مزاحمت کا دوسرا نام ہے۔ پر سوال یہ ہے کہ مزاحمت کس کے خلاف کرنی ہے؟ پھر مزاحمت کرنی کیوں ہے؟ اگر گھی سیدھی انگلی سے نکلتا ہو تو ٹیڑھی کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ تو جناب بات یہ ہے کہ گھی سیدھی انگلی سے نکلتا ہی نہیں ہے، جہاں موسم ہی گرم رہتا ہو

Read more

فلسطین کا نوحہ

” ڈاڈھے دی مار تے لسے دی گال“ ، مطلب طاقتور مارتا ہے اور کمزور برا بھلا کہتا رہتا ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے مغلظات کا رخ زور آور کی طرف کر دیتا ہے۔ ہم ایک عرصہ سے اپنے بے روح اجتماعات میں یہ دعا مانگتے آرہے ہیں یا اللہ ظالموں کو تباہ کردے۔ ان کے آلاتِ حرب کو زنگ آلود فرما دے، ان میں کیڑے پڑ جائیں۔ چوتھی نسل یہی دعائیں مانگتے چلے جا رہی ہے۔ مگر ظالم ٹس

Read more

وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو ایسے عید منا لیتے ہیں

زند گی میں جو اتفاق رونما ہوتے ہیں اس میں بھی کوئی نا کوئی سائنس تو ضرور موجود ہوتی ہوگی چونکہ سمجھ سے بالاتر ہے اس لیے ہم اسے اتفاق کہہ دیتے ہیں میری دانست میں یہ شعر کسی حد تک ان اتفاقات کی وضاحت کرتا نظر آتا ہے جو سائنس ان میں پوشیدہ پائی جاتی ہے مطلب ان اتفاقات میں جو سائنس موجود ہے وہ کچھ یوں ہے کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

Read more

ہو سکے تو میرا ایک کام کرو، کوئی تو شاہراہ میرے نام کرو

خیر ہم نے بھی قسم اٹھا رکھی ہے کہ بندے کے بچے نہیں بنیں گے، ایک دوسرے کو تُن کے رکھو، برسوں سے ایک ہی روایت چلتی آ رہی ہے اور ذرا بھی اس روایت میں فرق نہیں پڑا اور کیوں پڑے جب ہم یہ چاہتے ہی نہیں کہ فرق پڑے، آپ نے دیکھا ہو گا کہ تازہ بہ تازہ سڑک تعمیر ہوئی خواہ وہ گلی محلے کی ہو یا پھر مین شاہراہ اس کی افتتاحی تقریب کے فوری بعد

Read more

پلاسٹک کے نئے ذخائر کی دریافت

کیا واقعی ہمارے دماغ میں پلاسٹک کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، یہ سوال اس لیے ابھرا کے گزشتہ دنوں ایک رپورٹ نظر سے گزری شاید بی بی سی کی تھی یا پھر ڈوئچے ویلے مطلب وائس آف جرمنی پر دیکھی سنی اس رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ انسانی دماغ میں سے ایک چائے والے چمچ کے برابر پلاسٹک حاصل کیا

Read more

جذباتی بلیک میلنگ

جذباتی لوگ چتر چلاکی سے عاری ہوتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ سادہ مزاج لوگ ہوتے ہیں دل سے سوچتے ہیں اور دماغ کو کہتے ہیں میاں مداخلت مت کرو کیونکہ دماغ کہتا ہے عقل سے کام لے، محبت اور پیار کرنے والے لوگ ہوتے ہیں، دل احساسِ لطیف سے معمور ہوتا ہے پسیج جاتا ہے۔ یوں سادہ مزاج لوگ لٹتے رہتے ہیں، عقل والے لوٹتے ہیں جذبات کی دکانداری کرتے ہیں منڈی لگاتے ہیں ایسی ایسی دور کی کوڑیاں

Read more

ہمارا سماجی رویہ اور ملکی ترقی

انفرادی اور اجتماعی ترقی اور تنزلی میں انسانی رویہ بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخی طور پر قوموں کے عروج و زوال کی کہانی بیان کرتے ہوئے حضرت ابن خلدون نے بارہا لکھا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی اور تنزلی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم اس قوم کے افراد کے معیار کو دیکھتے ہیں، جس قدر ترقی یافتہ قوم ہو گی اتنا ہی اس قوم کا اخلاق اعلیٰ ہو گا اور تنزلی کی شکار اقوام کو

Read more

ہم صرف طفیلی تماشائی

ہم لوگ دیکھتے ہیں لطف اندوز ہوتے ہیں تالیاں بجاتے ہیں کھاتے ہیں پیتے ہیں سوتے ہیں جاگتے ہیں بچے پیدا کرتے ہیں اور یہ سلسلہ جیسے تھا ویسے کی بنیاد پر جاری و ساری ہے۔ ایسے ہی جاری و ساری ہے جیسے جوہڑ میں ٹھہرا پانی۔ ہم میں جستجو، فکر، سوچ ایسے ہی ناپید ہے جیسے گدھے کے سر پر سے سینگ۔ دنیا میں قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں جس قدر رقم ہیں ہم اسی قدر ان

Read more