چترال کے تعلیمی اداروں کی کامیابی میں خواتین کا کردار


پاکستان میں عمومی طور پر اور چترال میں خصوصی طور پر تعلیم غیر مخلوط ہے۔ یہاں لڑکوں کے لئے الگ اور لڑکیوں کے لئے الگ تعلیمی ادارے بنائے جاتے ہیں چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری۔ چترال کے گرد و نواح میں فیمیل اداروں کی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ اگر کسی بھی شعبے میں خواتین کو موقع دیا جائے تو وہ منیجمنٹ کے معاملے میں مردوں سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ اس مضمون میں چترال کے کچھ تعلیمی اداروں کو بطور ماڈل پیش کیا جا رہا ہے جن کی کامیابی میں خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، دروش:

اس کالج کو قائم ہوئے چند سال ہوئے ہیں لیکن ان چند سالوں میں ہی یہ عائشہ عمر صاحبہ کی قیادت میں ایک کامیاب ادارہ بن چکا ہے۔ انہوں نے اپنی منیجریل اسکلز کے ذریعے اس کالج کو صف اول کے کالجوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ اتنے کم عرصے میں طلباء کی انرولمنٹ اور بی ایس سسٹم کی کامیابی، عوام کا اس کالج پر اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ کامیابی پرنسپل صاحبہ کی قائدانہ صلاحیتوں اور جملہ سٹاف کی انتھک محنت کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، چترال:

اس کالج سے ہر کوئی واقف ہے کیونکہ یہ کئی سالوں سے ایک کامیاب ادارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ باوجود محدود وسائل کے، یہ کالج ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ صوبائی سطح پر اس کالج کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں کامیابی کی وجہ مسرت جبین صاحبہ کی دور اندیشی، فراست اور قائدانہ صلاحیتیں ہی ہیں۔ اس کی کامیابی پر تفصیلی گفتگو ہم سب پر شائع میرے سابقہ مضمون میں ہوئی ہے۔

الخدمت سکول سسٹم، سٹی کیمپس:

چترال میں الخدمت کے تحت دو سکول کام کر رہے ہیں۔ ایک سٹی کیمپس اور ایک قتیبہ کیمپس۔ سٹی کیمپس کی قیادت شازیہ خان صاحبہ کر رہی ہیں۔ یہ بھی محدود وسائل کے باوجود ایک کامیاب ادارہ بن چکا ہے۔ ان کے منیجریل اسکلز کا ہر کوئی قائل بھی ہے اور معترف بھی۔ اس کے برعکس قتیبہ کیمپس میں کچھ سالوں تک مسائل تھے۔ تاہم قاضی اخلاق الدین صاحب نے اس کی باگ ڈور سنبھال کر اسے صحیح پٹڑی پر ڈال دیا ہے۔ ورنہ، وسائل کی فراوانی کے باوجود، اس کی بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی۔

ویمن ووکیشنل سنٹر، بلچ:

بلچ میں دو ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز ہیں۔ ایک مردوں کے لئے اور ایک خواتین کے لئے۔ ان کے اندر جا کر ہی پتہ چلتا ہے کہ قیادت کتنی اہم چیز ہے۔ کالج برائے خواتین کے اندر جا کر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ہاں اس میں کام ہو رہا ہے جبکہ مردوں والے کالج میں جا کر آپ کو اپنا سر پیٹنے کا من کرتا ہے۔ شروع میں اس کو کامیاب بنانے اور صحیح پٹڑی پر ڈالنے میں آسیہ اجمل صاحبہ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب اس کالج کی کامیابی کے پیچھے پرنسپل سن روز صاحبہ کی فراست اور ان کی ٹیم، خاص کر کے روبینہ صاحبہ، کی منیجریل اسکلز کارفرما ہیں۔ یہ کامیابی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خواتین کو قیادت دی جائے تو وہ کامیابی کے جوہر دکھا سکتی ہیں۔

آغا خان ہائر سیکنڈری سکول، کوراغ:

چترال میں بہترین تعلیم کے لئے آغا خان ہائر سیکنڈری سکولز ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ لڑکوں کا سکول سین لشٹ میں ہے جبکہ لڑکیوں کا سکول کوراغ میں ہے۔ دونوں ایک ہی وقت میں قائم ہوئے تھے۔ دونوں کے پاس یکساں وسائل اور مواقع ہیں اور دونوں میں اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ کی ٹیمیں ہیں لیکن ہائر سیکنڈری سکول کوراغ کی پرنسپل، بی بی سلطانہ صاحبہ، کی اچھی قیادت اور فراست کی وجہ سے کوراغ کی کارکردگی قدرے بہتر رہی ہے۔ (موازنہ کے لئے ڈیٹا دیکھا جا سکتا ہے ) اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہائر سیکنڈری سین لشٹ کی کارکردگی خراب ہے یا وہاں کے اساتذہ میں کوئی مسئلہ ہے یا پرنسپل صاحب برے ایڈمنسٹریٹر ہیں بلکہ دونوں کا موازنہ کیا جائے تو کوراغ کی کارکردگی قدرے بہتر ہے۔ اس کی کامیابی کی وجہ پرنسپل صاحبہ کی منیجریل اسکلز، ہیومن ریسورسز کا بہترین استعمال اور بہترین تعلیم کی ترویج کے لئے کمیونٹی کو انگیج کرنا ہے۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، بونی:

ایک ایسا کالج جسے قائم ہوئے چند سال ہوئے ہیں لیکن اس کالج پر لوگوں کا اعتماد اس کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے قرب و جوار میں واقع بڑے اور پرانے کالجز کوئی اور کہانی پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر سال بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کا شکار ہیں لیکن یہ کالج کامیابیوں کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے۔ اس کالج کا انفراسٹرکچر، طالبات کے لئے سہولیات، طلباء کا داخلہ اور والدین کا اعتماد اس کالج کی پرنسپل نگہت صاحبہ کی اعلیٰ قیادت اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ان اداروں کی کامیابی میں خواتین کی قائدانہ صلاحیتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اگر خواتین کو موقع دیا جائے تو تعلیمی اداروں کی طرح دوسرے اداروں کو بھی کامیاب بنا سکتی ہیں۔ خواتین کو اگر موقع دیا جائے تو نہ صرف تعلیم بلکہ دوسرے معاشرتی، معاشی حتیٰ کہ سیاسی شعبوں میں بھی اپنے جوہر دکھا کر مردوں سے بہتر پرفارم کر سکتی ہیں۔ اس کی مثالیں سابق ایم پی اے، فوزیہ صاحبہ، کی چترال کے لئے خدمت، حالیہ الیکشن میں موجودہ ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی، ثریا بی بی، کی بھاری اکثریت سے کامیابی کی صورت میں موجود ہیں۔

Facebook Comments HS