افسانوی ادب میں اساطیری اور دیومالائی عناصر
مافوق الفطرت اور دیومالائی عناصر کے بغیر افسانوی داستانیں نامکمل اور ادھوری تصور کی جاتی ہیں۔ اُردو ادب کی ابتدائی داستانوں میں دیومالائی اور اساطیری عناصر کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ قصے کہانیاں مختلف مذاہب کی مذہبی کہانیوں سے ماخوذ ہیں جن میں مافوق الفطرت عناصر کے ساتھ ساتھ اُن مذاہب کے اہم کرداروں سے منسوب داستانوں کو قصوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اسطورہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے ماخوذ ہے۔ اس کی جمع اساطیر ہے اور مادہ (س، ط، ر) یعنی سطر ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر اساطیر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی کے علاوہ اُردو اور فارسی زبانوں میں یہ لفظ مختلف صورتوں اور معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اُردو زبان و ادب پر ہندی اور سنسکرت کے گہرے اثرات ہونے کی وجہ سے اساطیر کے لیے مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں مثال کے طور پر ”دیومالا“ ، علم الاصنام ”اور“ صنمیا ت ”وغیرہ۔ علم الاساطیر کسی معاشرے میں موجود افسانوی داستانوں یا قدیم قصے کہانیوں کے مطالعہ کا نام ہے۔ اسطورہ آبا و اجداد کے زمانے سے چلی آنے والی ایسی افسانوی داستان کو کہتے ہیں جس کی تاریخی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہو اور اس کے سچ ہونے کا تاثر اس معاشرے میں عموماً پایا جاتا ہو۔ اساطیری داستانوں سے کسی قوم کے ثقافتی و تہذیبی نظریات کو سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔
اساطیر کا لفظ اُردو ادب میں فارسی زبان و ادب کا مرہونِ منت ہے۔ فارسی ادب میں قصے، کہانیاں پہلے پہل مثنوی کی صورت میں لکھی جاتی تھیں ان میں فردوسی کا ”شاہنامہ“ ایک عمدہ مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اِس مثنوی میں فردوسی نے پچاس سے زائد قدیم بادشاہوں کے حالاتِ زندگی اور واقعات کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے اور اُس دور کی تہذیب و ثقافت، رسم و رواج، عبادات، جنگ و جدل، پیار و محبت، باہمی تعلقات، زبان و ادب غرض ہر پہلو کو شامل کیا گیا ہے۔ اُردو ادب میں حفیظ جالندھری کا ”شاہنامہ اسلام“ اس کی ایک جدید شکل ہے۔ انہی عناصر کا اثر اُردو ادب کی دیگر اصناف پر بھی ہوا اور نثر میں خصوصاً داستان نویسی اور ناول نگاری پر اس کے اثرات کچھ زیادہ ہی مرتب ہوئے ہیں۔ انگریزی زبان میں ”اسطورہ“ کے لیے (Myth) کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور جامعیت کے لیے (Mythology) کی اصطلاح عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ لغات میں دی گئی تعریفوں کے مطابق اساطیر کے معنی قدیم قصے، کہانیاں، افسانے، خیالی قصہ، من گھڑت کہانی، خُرافات، مذہبی حکایات، اگلے لوگوں کے قصے کہانیاں اور دیو مالا ہیں۔
اساطیر کا لفظ آج کے افراد کے لیے نیا ہو گا لیکن اس سے جڑے ہوئے عناصر اور اجزا بہت قدیم ہیں۔ قدیم مذاہب اور تہذیبوں میں انسان مافوق الفطرت عناصر اور عوامل کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور یہاں تک کہ اکثر و بیشتر ڈر اور خوف کی بنا پر ان کو دیوی اور دیوتا کے روپ میں بھی پیش کرتے تھے۔ قصے کہانیوں کے ساتھ ساتھ قدیم دور کے انسان کی فکر نشوونما میں دیومالا اور اساطیر کا اہم کردار رہا ہے۔ مولوی عبدالحق دیو مالا یا اساطیر کو خرافات سے تشبیہ دیتے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دیومالائی قصے کہانیوں کی بدولت مظاہر فطرت اور قدرتی عناصر کو سمجھنے میں خاصی آسانی پیدا ہوئی ہے۔ انسان نے ایک انجانے خوف سے بچنے کے لیے مظاہر قدرت کی پرستش شروع کر دی اور اسی طرح رفتہ رفتہ یہ دیومالائی عناصر مذہب کی شکل اختیار کر گئے۔ ماہرین اساطیر نے اساطیر کو اسباب و علل، پریوں، جنوں، رزمیہ اور ساگا کہانیوں میں تقسیم کیا ہے جبکہ اس کے اہم موضوعات میں سیلاب عظیم، تخلیق، الہامی کتابوں، عورت کی پیدائش، دیوتاؤں، جانوروں اور ہیروز/سورماؤں کی اساطیر شامل ہیں۔ دنیا کی بڑی تہذیبوں میں یونانی، سُمیری، ایرانی، چینی، مصری اور ہندوستانی شامل ہیں جن میں اساطیری و دیومالائی عناصر مذہب کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
اساطیری علامات کا استعمال قدیم داستانوں اور قصے کہانیوں میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اُردو شاعری کی روایت بھی اس سے بھری پڑی ہے۔ اساطیر یا متھ ایک ایسا بیانیہ ہے جس کی ابتدا یا اصل کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں لیکن یہ ایسی روایات ہیں جن کا تعلق زیادہ تر مذہبی اعتقادات سے ہے۔ اساطیری عناصر کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عناصر اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہوتے ہیں۔ جہاں خدا کے تصور سے لے کر مافوق الفطرت عناصر اور ان عوامل کی بارے میں بات کی جاتی ہے جن کے ظہور پذیر ہونے کے وقت کا تعین کرنا قدرے مشکل ہے۔ انسان نے جس شے کو اپنی طاقت اور عقل سے ماورا سمجھا اسے یا تو معبودیت کی حد تک پہنچا دیا یا اسے انہیں خدائی قوتوں کا عکس قرار دے دیا۔ یہ ایسے عناصر ہیں جو اپنی ذات میں خود ایک تخلیق ہیں اور خود قدرت کے مرہون منت ہیں مگر انسانی عقل و شعور نے ان کی عزت و تکریم کر کے ان کی حیثیت بہت بڑھا دی ہے اور آج ہر مذہب اور قوم کے ہاں اکثر و بیشتر ایسے علامتی عناصر ہیں جو ان کے ایمان اور ایقان کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ جب غور اور تدبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا جاتا ہے تو عام سے عام مخلوق بھی انسان کو اپنے سے برتر محسوس ہوتی ہے۔ جن اشیا یا عناصر کو انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا گیا تھا یا انسان کے تابع بنا دیا گیا تھا انہی کو انسان نے اپنا دیوتا کا روپ دے دیا۔ مثال کے طور پر ہندو مذہب میں گائے کو ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور اس کو پوجا بھی جاتا ہے حالانکہ وہ تو خود ایک مخلوق ہے جو خالق نے انسان کے محض فائدے کے لیے پیدا کی ہے۔
اساطیر یا دیومالا کا فنونِ لطیفہ سے بہت گہرا اور تاریخی رشتہ ہے۔ جوں جوں انسان نے فنونِ لطیفہ کے میدان میں ترقی کی منازل طے کیں تو یہ عناصر بھی ساتھ ساتھ پنپنے لگے۔ کرسٹوفر کاڈوِل نے اپنی کتاب ”اساطیر کی موت“ (The Death of Mythology) میں مارکسی نقطۂ نظر سے استفادہ کرتے ہوئے اساطیر کی موت کا اعلان کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ شاعر شاعری کرتے ہوئے اساطیر یا دیومالا کا سہارا لیتے ہیں حالانکہ ایک اچھے اور بڑے شاعر کو اساطیر کی نہیں بلکہ مادی سچائیوں کے شعور کی ضرورت ہے۔ اُس نے یہ نظریہ اس لیے پیش کیا تھا کہ اساطیر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور اس کے تمام کردار اور واقعات مافوق الفطرت عناصر ہوتے ہیں اس لیے یہ سچی نہیں ہوتیں۔ اس کے برعکس اگر اساطیر کے بنیادی نظریات پر غور کیا جائے تو کرسٹوفر کا نظریہ کسی حد تک درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ آج تک جتنے بھی مذاہب کی اساطیر ہمارے سامنے موجود ہیں ان کے مستند ہونے کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ہے۔
تحریری شکل میں دیومالائی عناصر سب سے پہلے ہومر کی منظوم رزمیہ ”ایلیڈ“ کی شکل میں منظر عام پر آئے۔ ایلیڈ کی آمد پر یونانی دیومالا کا اولین باب ہمارے سامنے کھلتا ہے۔ ایلیڈ یونانی ادب کا بہترین مظہر ہے اس میں ٹرائے کی مشہور و معروف جنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاریخ بھی ان یونانی قصے کہانیوں کی محتاج ہے جو کہ چند ہستیوں کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہے جن میں ہومر سب سے نمایاں ہے۔ ہومر کی دونوں رزمیہ نظمیں ایلیڈ اور اوڈیسی اساطیری ادب کی ممتاز اور گراں مایہ تخلیقات ہیں۔ ایلیڈ کا ہیرو ”اکیلیز“ دراصل غیظ و غضب کا ترجمان ہے اور اوڈیسی میں سیس (یونی سیس) کی ان مہمات کا تذکرہ ہے جو جنگ لڑنے کے بعد اتھاکا واپس آتے ہوئے اسے پیش آئے۔ ہومر کی یہ دونوں نظمیں دیومالائی رنگ میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ہندوستان میں دیومالا کا آغاز رگ وید سے ہوتا ہے۔ ویدوں سے لے کر اپنشد، رامائن، مہابھارت، پران، بودھ مذہب، جین مذہب اور یہاں تک کہ اسلامی ادب میں بھی اس کی مختلف مثالیں ملتی ہے۔ دیومالائی عناصر کی کارفرمائی تمام فنون لطیفہ کی بنیاد تصور کی جاتی ہے اور آج کل کے زمانے میں بھی فنون لطیفہ اس کے اثرات سے خالی نہیں۔ رام لیلا، نوٹنکی، تھیٹر سے لے کر سنیما میں بھی دیومالا کی کارفرمائی اپنی پوری آب و تاب سے جلوہ نما ہے۔ اُردو شاعری، افسانے اور ناول میں اساطیری عناصر کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ قرۃ العین حیدر، انتظار حسین، منیر نیازی اور میرا جی جیسے ممتاز ادیبوں نے اپنی تخلیقات میں اساطیری علامات کو بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔
اساطیر یا دیومالا نے جہاں دیگر علوم پر اپنا گہرا اثر چھوڑا ہے وہاں ادب میں بھی اس کا استعمال مختلف صورتوں میں دیکھنے میں آیا ہے چاہے یہ استعمال تمثیلات کی شکل میں ہو یا علامتی پیرائے میں، ہر صورت میں اس نے انسانی ذہنی دنیا کا رشتہ ماضی سے جوڑنے کی حتی الوسع کوشش کی ہے۔ اساطیر ماضی کی بازیافت کا ایک ذریعہ ہے۔ ادب پر اس کے اثرات کی وجہ سے ایک طرف تو نئی معنویت اور جدید تعبیر کی راہ ہموار ہوتی ہے تو دوسری طرف انسان کے اجتماعی شعور کو وسعت ملتی ہے۔


