اردو ٹیچر کا امتحان
اردو ہماری شان، ہماری پہچان، ہمارا افتخار، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ ذرا ہمارے شاگردوں سے پوچھیے، ہمارا صبر دیکھیے۔ اردو بولنا مشکل، لکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل، اور امتحان! مگر یہ بچوں کا بالکل نہیں ہوتا یہ ہوتا ہے استاد کا امتحان۔ گویا روز حساب ہے۔ مگر یہ کیسا ستم ہے کہ اردو کے اساتذہ کا روزِ حساب، سال میں دو بار ہوتا ہے۔
ہم بچوں کو اردو اس لیے نہیں پڑھاتے کہ ہمیں کوئی شوق ہے ہم تو دل کے خوش رکھنے کو اردو پڑھاتے ہیں کہ دوسرے جہاں میں اس واسطے ہی جنت مل جائے گی۔
موجودہ زمانے میں اردو ٹیچر ہونا ایک بہت بڑا معرکہ ہے اس معرکے کو سر کرنے کے لیے وہ جب کلاس میں جاتے ہیں تو چاروں طرف سے ایک لشکر کی یلغار شروع ہو جاتی ہے۔ اردو لشکری زبان ہے لیکن اردو ٹیچر کو اس کا مظاہرہ عملی طور پر نظر آتا ہے۔ تمام زبانیں، جماعت کے لشکر میں موجود ہیں، سوائے اردو کے۔
لیکچر، پڑھائی، لکھائی، املا ہو، سمجھانا، بتانا، سوال، جواب غرض یہ سارے کام اسے اس زبان میں ہوتے ہیں۔ جسے ہر چند کہیں کہ اردو، مگر نہیں ہے۔ اب اس پر ہم روئیں یا ہنسیں سمجھ نہیں آتا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اردو ٹیچر کو کسی لفظ کے معنی بتانے کے لیے انگلش کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ جیسے فرض کرو بچہ ’بحران‘ کا مطلب پوچھے تو اسے بتانا پڑے گا کرائسس کو کہتے ہیں کیونکہ اردو کے کسی لفظ کی انگریزی میں وضاحت کیے بغیر طالب علم کو اس بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آئے گا۔
امتحانی پرچے میں ایک سوال کسی اقتباس کو انگریزی سے اردو میں ترجمے کا ہوتا ہے۔ ہم نے بچوں کو سمجھایا کہ بیٹا ترجمہ ورڈ ٹو ورڈ سینٹینس ٹو سینینٹنس نہیں ہوتا بلکہ اس کا مفہوم سمجھ کر اپنے الفاظ میں لکھنا ہوتا ہے۔
اب خواہ اردو سے انگریزی ہو یا انگریزی سے اردو، ہو، آپ کو بے شمار لطیفے سننے کو ملیں گے۔ ہم نے انگریزی کا ایک پیسج اردو میں ترجمہ کرنے کو دیا۔ جس کا ابتدائی جملہ تھا۔
Youngsters are the backbone of any society. and if they are well trained, they can play constructive rolls in the progress and prosperity of the nation and people.
بچوں کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔
”نوجوان کسی بھی معاشرے کی پیچھے کی ہڈی ہوتے ہیں“ ۔
ایک بچے کو ینگسٹر کا synonym گینگسٹر محسوس ہوا تو انہوں نے اس کا ترجمہ بڑے فلسفیانہ انداز سے کیا۔
گینگسٹر کسی بھی معاشرے میں ہڈیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اگر انہیں یہ باقاعدہ سکھایا جائے، تو وہ لوگوں کو رول بنا نے کا کھیل سکھا کر انہیں امیر اور خوشحال بنا سکتے ہیں۔
مضمون کے لیے موضوع تھا۔ ”معاشرے کے استحکام کے لیے امن بہت ضروری ہے۔“
امتحان ہال میں پاکستان سٹڈیز، اسلامیات، انگلش، میتھ وغیرہ جیسے مضامین پڑھانے والا کوئی استاد ہی، نگراں ہوتا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ ان کی اردو ہمارے شاگردوں جیسی ہی ہوتی ہے، ایسی بات نہیں، ان کی زیادہ قابلِ رحم ہوتی ہے۔
بچوں نے ان سے معاشرے کا مطلب پوچھا ہو گا۔ میرا خیال ہے انہوں نے چپکے سے گوگل دیکھ کر بتا دیا ہو گا کہ، ”افراد کا گروہ“ ، پھر انہوں نے استحکام کا مطلب کسی ٹیچر سے پوچھا ہو گا اور انہوں نے بتانا بھی بہت ضروری سمجھا ہو گا۔ اور اس کے لیے پھر گوگل سے ہی مدد لی ہوگی۔ انہوں نے بچوں کو بتایا مضبوط۔ پھر انہوں نے امن کا مطلب پوچھا تو ٹیچر نے بتا دیا ہو گا کہ امن کو پیس کہتے ہیں۔ اور پھر خود سے انہوں نے سمجھ لیا کہ پیس کا مطلب تو ٹکڑا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب امن معنی پیس، ’پیس معنی ٹکڑا‘ ۔ اب بچے نے مضمون میں جملہ لکھا ”فراد کہ گروہ کی مضبوطی کو ٹکڑے کرنا بہت ضروری ہے۔“
امتحان میں مضمون دیا گیا ”علم لازوال دولت ہے“ نیچے مضمون کے نکات دیے گئے تھے کہ ان نکات کو بھی اپنے مضمون میں شامل کیجیے۔
1 علم کا حصول ناگزیر ہے۔
2 علم اصلاح کا ذریعہ ہے
اب کسی بچے نے کسی ٹیچر سے پوچھا ہو گا کہ کیا لکھا ہے۔ اس نے بتا دیا ہو گا کہ اصلاح لکھا ہے۔ بچے نے اپنے طور پر اسے اسلحہ سمجھ لیا یعنی weapon پہلی لائن لکھی۔ علم اسلحہ خریدنے کا ذریعہ ہے۔ پھر اس نے مضمون میں دو تین سیاسی جماعتوں کے تعلیمی اداروں میں اسلحہ کے ناجائز استعمال پر سیر حاصل مضمون لکھ مارا۔
اچھا یہ جو بچے 200 الفاظ کی قید ہو تو تین سو الفاظ کا مضمون لکھ لیتے ہیں اور پھر ٹیچر سے کہتے ہیں ہم نے اتنا سارا لکھا تھا اور مس آپ نے دو نمبر دیے ہیں مس ہم نے ٹھیک تو لکھا ہے مس ہم نے تو فلاں ٹیچر سے پوچھا تھا۔ اور ہمارا دل چاہتا ہے کہ اسلحہ مل جائے تو ان کی اصلاح کر دی جائے۔
بچوں کو ہم نے محاورات کا مطلب بتایا کہ جملے میں محاورہ، مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے اب جیسے ”غم کھانا“ تو غم کو سچ مچ پلیٹ میں رکھ کر نہیں کھاتے، آنسو پینا۔ تو آنسو کسی گلاس میں ڈال کر نہیں پیے جاتے۔ اب بچے نے ہماری دونوں باتیں ذہن نشین کر لیں۔
”جب میرے بھائی نے امی کو بتایا کہ وہ امتحان میں فیل ہو گیا ہے۔ تو امی نے غم کی پلیٹ اس کے منہ پر دے ماری“ ۔
ایک سوال تھا۔ ”ٹرین میں آپ کی ملاقات ایک مشہور شاعر سے ہو گئی، اپنے دوست کو خط لکھیں اور اس میں مشہور شاعر سے ملاقات کا احوال بتائیں۔“
ایک مہان اسٹوڈنٹ نے لکھا۔ ”ٹرین کے سفر میں میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سامنے والے سیٹ پر ہمارے ملک کے مشہور شاعر علامہ اقبال بیٹھے ہیں۔“
ہم نے ایک بار امتحانی پرچے میں میں کچھ اس طرح سوال لکھا۔ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کی اہمیت پر ایک مضمون قلم بند کیجئے۔
ہم عام طور پر کمرہ امتحان میں اردو کے پرچے والے دن جاتے ہوئے ڈرتے ہیں سارے ہی بچوں کے ہاتھ بلند ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے پلاننگ بھی ہوتی ہے۔ مس مس کے شور میں چند بچے ایک دوسرے سے فیض یاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ بچے ایک دوسرے سے اپنے پرچوں کا ہی تبادلہ کر لیتے ہیں۔
ہم پورے حال میں نظریں گھماتے ایک بچے کے پاس گئے۔ اس نے پوچھا مس یہ آپ نے قلم بند لکھا ہے قلم کس کو کہتے ہیں ہم نے کہا ”بیٹا اپ کے ہاتھ میں جو یہ پین ہے اسے۔“ مس اس کا کور تو ہے نہیں میں اسے کیسے بند کروں۔ بیٹا قلم بند کا مطلب ہوتا ہے لکھیے۔ مس قلم بند کر دیا تو کیسے لکھوں گا۔ بس آپ خود ہی سمجھ لیں کہ امتحان کس کا ہوتا ہے۔


ایک شان دار تحریر جسے اردو ادب کا بہ آسانی حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
پطرس یا چغتائی کی تحریر ہو یا کسی دوسرے مزاح نگار کی ادیبہ نے ممکنہ طور پر دل کھول کر رکھ دیا ہوگا لیکن کیا شاندار فسانہ بن گیا۔
بہرحال قابل تحسین۔
–
دو واقعات میری طرف سے۔
ہمارے ایک دوست ہیں کراچی میں لگ بھگ کالج سے پروفیسر ریٹائر ہوئے نام ہے ابراہیم غوری۔
میٹرک اور انٹر کے بچوں کے اردو کے سالنہ امتحانی پرچے ایک عرصے تک چیک کرتے رہے۔
ہم تعلیمی معیار اور اردو کے گرتے ہوئے معیار پر گپ لگارہے تھے۔
کہنے لگے ایک دکھ بھری داستان سنو (یہ کوئی چھ آٹھ سال پرانی بات ہے اور لامحالہ معاملہ اب بد سے مزید بدترہوچکا ہوگا)۔
انٹر کا پرچہ تھا اور آسان سا سوال تھا کہ اخبار کے مدیر کو خط لکھیں جس میں اپنے علاقے کی ٹوٹی سڑکوں اور گٹر کے بہتے پانی جیسے مسائل کو اٹھاکر ارباب اختیار کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے۔
بھائی ابراہیم کہتے ہیں کہ گائیڈز یعنی شرح میں اس سوال کا جواب جس طرح لکھا تھا بچے نے عین اسی طرح لکھ دیا سرمو فرق نہیں لیکن میں سر پکڑے بیٹھا تھا کہ اس کو 15 میں سے 13 دوں یا صفر۔
میں نے کہا۔ ہائیں کیا نقل کی وجہ سے ؟
کہنے لگے نہیں، کم بخت نے پورا خط ۔ رومن اردو میں لکھا تھا جیسے کسی موبائل پر ٹائپ کیا ہو۔
Bakhidmat janab mudeer Akhbar Jang
–
ہمارے ایک دوست تھے بلا کے فنکار۔ یونیورسٹی کے طالب علموں تک کو پڑھاتے تھے ساتھ ٹیوشن بے شمار لیکن ہر سال صدقہ جاریہ یا کمائی سمجھ کر کسی میٹرک انٹر یا بی اے کے طالب علم کا امتحان (اس کی جگہ) ضرور دیتے تھے۔ مقصد بے چارے کی نوکری لگ جائے گی یا اچھی جگہ شادی ہوجائے گی۔
–
انٹر کا امتحان کسی کی جگہ دے رہے تھے۔ خود ہمارے ساتھ این ای ڈی میں پڑھتے تھے۔
انگلش اردو مطالعہ پاکستان اور اسلامیات جیسے لازمی پرچے تو یہ سوتے میں حل کردیتے۔ 3 اختیاری مضامین کا انتخاب بھی لاجواب ہوتا تھا۔ ایک اردو اختیاری (جسے اردو ایڈوانس کہا جاتا تھا) پاس کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ دوسرا مضمون یہ اسلامی ہسٹری یا اسٹڈیز میں سے چن لیتے۔ تیسرا مضمون طالب علم کی اوقات دیکھتے ہوئے کبھی انٹر کا میتھ لے لیتے کبھی سیاسیات یا معاشیات یا تعلیم۔ اہک مرتبہ بور ہونے لگے تو بی اے میں میتھ کے ساتھ شماریات یعنی statistics بھی لے بیٹھے تھے۔
–
اب ہوا یوں کے پرائیویٹ طالب علموں کا سنٹر سینٹ پیٹرک اسکول صدر کراچی میں پڑا۔ یہ بھی گندے سندے سلوٹ زدہ کپڑے پہنے پہنچ گئے کہ لگے کسی فیکٹری سے امتحان دینے آئے ہیں۔
–
اب ان کے پاس صرف کیا تھا۔ دو بال پین ایک پنسل ایک اسکیل ایڈمٹ کاتڈ ساتھ (جعلی) 50 روپے میں بنوایا شناختی کارڈ جس پر تصویر ان کی اور نام کسی اور کا ہوتا تھا۔ باقی جیب میں نہ کوئی بوٹی یا نقل کا مواد اور نہ کوئی رومال ہاں زاد راہ کے لئے بیس پچیس روپے ضرور ۔
–
اب یہ پہلا ہی پرچہ اردو کا دے رہے تھے کہ سینٹر پر چھاپا پڑگیا۔
طالب علموں میں ہڑبونگ مچ گئی۔
آنے والے لوگ طالب علموں کو اٹھاتے تلاشی لیتے اور اپنا حساب کتاب شروع کردیتے اب بے چارے پراییویٹ اسٹوڈنٹ تھے نقل نہ کرتے تو پاس کیسے ہوتے سو بوٹیوں پھروں اور نیفے میں اڑسی گائیڈز کا انبار جمع ہانا شروع ہوگیا۔
ہمارا دوست سب سے بے نیاز سوالات کے جوابات لکھتا رہا۔
اتنے میں ایک خارجی ممتحن نے اس کے پاس آکر اسے کھڑا ہونے کو کہا۔
اس نے ان کی طرف گھور کر دیکھا اور کہا ۔ کیوں !
کہنے لگا۔ تلاشی لینی ہے۔
یہ یونیورسٹی کے فائنل کے طالب علم کہنے لگے کس لئے۔ کہنے لگا نقل کا مواد۔
یہ جو اب تک خاموش تھے سکون سے بولے۔ یہ ایڈمٹ کارڈ ہے اس پر لکھا ہے کہ کسی مواد کو دیکھ کر پرچہ حل کرنا (یعنی نقل کرنا) یا کسی اور طالب علم کی مدد کرنا جرم ہے جس پر سزا ہوسکتی ہے۔
ممتحن نے کہا ہاں تو پھر۔
بے نیازی سے کہنے لگے آپ چپ چاپ کھڑے ہوجائیں جب مجھے نقل کرتے یا کراتے دیکھیں تو پکڑ لیجئے گا۔
ممتحن کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوگیا ؟ اس نے زور سے بولنے کی کوشش کی تو یہ ہتھے سے اکھڑ گئے۔ سارے طالب علموں سے کہا کہ خبردار اگر کسی نے پرچہ چھوڑ کر تلاشی دی۔ آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے اس وقت تک کوئی ہاتھ نہیں لگاسکتا جب تک آپ نقل کراتے یا کرتے نہ پکڑے جاؤ۔ جو آتا ہے لکھ دو اور کچھ بھی نہیں آتا تو کسی فلم کی اسٹوری یا نماز پڑھنے کا طریقہ یا کوئی بھی واقعہ لکھ دو۔ خالی ہاتھ مت بیٹھو قلم چلتا رہے۔
–
اور اگر کوئی ممتحن زیادہ شور مچائے تو مجھے بتادینا۔
–
لڑکوں کو بات سمجھ آگئی اور سب شیر ہوگئے۔
–
ممتحن نے ان ہیں دھمکی لگائی تو یہ بولے کہ سر پہلی بات تو یہ ہے کہ اسی کارڈ پر لکھا ہے کہ امتحانی ہال میں شور مچانا منع ہے اور آپ یہ غیرقانونی کام کررہے ہیں دوسرا سامنے سے ہٹیں روشنی اور ہوا آنے دیں۔ یہ کمرہ امتحان میں موجود ہیڈ ایگزامنر سے مزید بولے کہ ان لوگوں کی موجودگی سے میرا تسلسل ٹوٹ رہا ہے یعنی پرچہ خراب ہورہا ہے اور یہ لوگ جتنی دیر کمرے میں رہیں گے میں اتنا وقت اضافی بعد میں لوں گا۔ پھر آپ اعتراض مت کیجئے گا۔
–
سارے خارجی ممتحن بڑبڑاتے چلے گئے۔ ان کا نمبر نوٹ کرکے۔
–
ہال میں موجود لڑکوں نے جہاں ان کے نام کے نعرے بلند کئے ہیڈ ایگزامنر جو ایک بڑے میاں تھے سب سے آگے اکیلے بیٹھے تھے۔ یہ ان کے پاس گئے اور بولے سر میرا تسلسل ٹوٹ گیا ہے اگر اعتراض نہ ہو تو آپ کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے پرچہ حل کرلوں۔
وہ ہیڈایگزامنر جس سے طالب علم دور بھاگتے تھے یہ طالب علم اس کے ساتھ بیٹھنے کی فرمائش کررہا تھا۔
–
بڑے میاں نے خوشی خوشی اس کو پاس بٹھالیا۔ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ اب ان سے گپ لگالگا کر اٹھنے نہیں دے گا تاکہ دوسرے لڑکے سکون سے نقل کرسکیں۔
–
ٹیچر نے دیکھا لڑکا دھڑا دھڑ پرچہ حل کررہا ہے اور ان سے مختلف باتیں بھی پوچھ رہا ہے۔ مثلا کب سے پڑھارہے ہیں کیا تعلیم ہے کیا پڑھاتے ہیں۔ بچے کتنے ہیں۔ ضیا کا ابتدائی دوربہتر تھا یا جونیجو کا اس وقت کا۔ تعلیم کا گرتا معیار۔۔۔۔
–
بڑے میاں کو گھنٹہ اس نے انگیج کرکے رکھا یکایک ان کو خیال آیا بولے میاں کچھ اپنے بارے میں بتاؤ ۔ ڈیڑھ گھنٹے سے لکھ رہے ہو پلک تک نہیں جھپکائی۔ یہ انٹر آرٹس پرائیویٹ میں کیسے آگئے۔
یہ منہ بسورتے بولے سر کیا بتاؤں میٹرک سائنس تین سال پہلے کیا تھا کراچی بورڈ میں تیسری پوزیشن آئی تھی۔ میڈیکل میں داخلہ لے لیا تھا کہ والد صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور گھر کی ساری ذمہ داری میرے اوپر آگئی تو کونسی ڈاکٹری۔ اب حالات کچھ قابو میں آئے ہین تو پرائیویٹ بی اے کرکے سول سروس یا وکالت میں جانے کی کوشش کروں گا ۔
–
بڑے میاں کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ آدھے گھنٹے بعد پورے اسکول کے تمام ٹیچروں کو یہ کہانی پتہ چل چکی تھی اور حال یہ تھا کہ اسکول کے ٹیچر ہمارے دوست سے آکر خالی جگہ شاعر یا ادیب کا نام یا جو کچھ پوچھنا ہو آآکر پوچھتے تھے۔
اور ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے صاف کہدیا تھا کہ آپ لوگوں کی مدد اس وقت کروں گا اگر میرے ساتھ ہال میں بیٹھے تمام دوستوں کو بھی یہ سہولت حاصل ہوگی۔
–
یوں ان کے صدقے جاریہ کے چکر میں سب کی لاٹری لگ گئی۔
–
اس دوران اردو کے پرچے میں بات آگئی میر درد کی تصوف والے شاعر کی ۔۔۔ اور ان ہوں نے بڑے میاں کے میر درد کے ایک شعر کے جواب میں منصور حلاج کا پورا واقعہ اس تفصیل سے بیان کیا کہ لگتا تھا کہ طارق جمیل درس سے رہے ہوں۔
–
اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ فراڈیا جب جب باقی پرچے دینے آیا تو ٹیچرز سے لے کر طالب علموں تک نے اس کی کیسے کیسے آؤ بھگت کی۔
–
وقت وقت کی بات ہے !
واہ مزے دار قصہ