اسکول داخلہ مہم علم کی روشنی ہر بچے تک؟

تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، اور ایک ترقی یافتہ معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، مگر بدقسمتی سے ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ملک میں، جہاں تعلیمی نظام پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے، وہاں ”داخلہ مہم“ جیسی سرکاری سرگرمیاں اکثر رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں اور بلوچستان اس معاملے میں پہلے نمبر پر ہے جس میں یہ مہم حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں ہوتی۔ ہر سال سرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر اسکول داخلہ مہم کا انعقاد کیا جاتا ہے، کئی طرح سے اخراجات کیے جاتے ہیں، میڈیا پر بھرپور تشہیر کی جاتی ہے، اور سرکاری افسران و اساتذہ کی طرف سے مختلف دعوے کیے جاتے ہیں۔ لیکن جب زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ وہی بچے جن کے پہلے سے ہی بھائی بہن یا گھر سے کئی بچے اسکول جاتے ہیں اور ان کو والدین خود جا کر اسکول میں داخل کرواتے ہیں یہ تو معمول ہے جس کو مہم کا نام نہیں دیا جاسکتا ہاں ریکارڈ کی حد تک نمبر آف اسٹوڈنٹس ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے تو ٹھیک یہ ویسے بھی ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی کام ہے اسٹوڈنٹس کا ڈیٹا منٹین کرنا۔
میرے مطابق داخلہ مہم کا بنیادی مقصد ایسے بچوں کو اسکول میں داخل کرانا ہے جو کسی بھی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ ان میں وہ بچے شامل ہیں جو غربت، والدین کی عدم دلچسپی، یا دیگر سماجی و معاشی مسائل کے باعث اسکول نہیں جا سکتے۔ اس کے علاوہ، وہ بچے جو کسی وجہ سے تعلیم چھوڑ چکے ہیں، انہیں دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنانا بھی اس مہم کا ایک اہم پہلو ہونا چاہیے۔ لیکن حقیقت میں یہ مہم زیادہ تر ان بچوں پر ہی مرکوز رہتی ہے جو پہلے سے ہی اسکول میں داخل ہونے والے ہیں۔ یعنی ایسے گھرانوں کے بچے جن کے والدین تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں اور خود اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، انہیں سرکاری فہرست میں شامل کر کے کامیابی کے دعووں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر سال داخلہ مہم کے باوجود ایک رپورٹ کے مطابق 28 لاکھ کے قریب بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اسکول میں بچوں کو داخل کروا دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ وہ تعلیم مکمل کریں اور ڈراپ آؤٹ نہ ہوں۔ بہت سے بچے مالی مسائل، تعلیمی معیار کی کمی، نامناسب تعلیمی ماحول، یا دیگر وجوہات کی بنا پر کچھ عرصے بعد اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے داخلہ مہم ان بچوں کی واپسی کے لیے کوئی موثر حکمت عملی فراہم نہیں کرتی بلکہ وزبلٹی اور فارمیلٹی کے ساتھ ساتھ چیک اینڈ بیلنس لازمی ہونا چاہیے۔ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اس کے طریقہ کار میں بہتری لانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، حقیقی اعداد و شمار جمع کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اسکولوں اور حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان بچوں کی درست نشاندہی کریں جو واقعی تعلیم سے محروم ہیں، اور ان کے لیے عملی اقدامات کریں۔ دوسری بات، والدین کی آگاہی بہت ضروری ہے۔ صرف اسکول کے دروازے کھولنے سے وہ بچے خودبخود نہیں آئیں گے جن کو اسکول تک لانا ہے، بلکہ ان کے والدین کو تعلیم کی اہمیت کا احساس دلانا ہو گا۔ اس کے لیے تعلیمی مہمات کو صرف شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے دیہات، مزدور طبقے کے علاقوں، اور ان جگہوں پر لے جانا ہو گا جہاں شرح خواندگی کم ہے پھر جا کر ایسی مہم کا نتیجہ عرصے بعد ہی سہی مگر اچھا نکلے گا۔
اسکے علاوہ اسکول کے اندرونی ماحول کو بہتر بنانا بھی ایک لازمی اقدام ہے۔ صرف بچوں کو اسکول لے آنا کافی نہیں، بلکہ انہیں معیاری تعلیم اور بہتر سہولیات فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر اسکول میں اچھے اساتذہ نہیں ہوں گے یا اساتذہ صرف تنخواہوں کی حد تک ادارے سے منسلک ہوں گے غیر حاضر رہنا یا مستقل غیرحاضر رہنا ان کا نصب العین ہو گا، بنیادی سہولیات کا فقدان ہو گا، یا نصاب غیر معیاری ہو گا تو یہ بچے زیادہ دیر تک تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ اس لیے حکومت کو تعلیمی معیار پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی سارے عمل کو بھی داخلہ مہم کا حصہ بنانا ہو گا۔ جبکہ ایک اور اہم پہلو داخلے کے بعد بچوں کے تعلیمی سفر کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ نہ صرف بچوں کو اسکول بھیجیں بلکہ ان کی تعلیمی پیش رفت پر بھی نظر رکھیں۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا ہو گا تاکہ کسی بھی بچے کے تعلیمی مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔
حکومت داخلہ مہم کو محض ایک سالانہ رسمی کارروائی کے طور پر لینے کے بجائے ایک مستقل پالیسی کے تحت چلائے۔ داخلہ مہم کا دائرہ کار پورے سال پر محیط ہونا چاہیے، اور صرف ایک بار کے اقدامات پر اکتفا کرنے کے بجائے اس کے نتائج پر مستقل نظر رکھی جانی چاہیے۔ اگر داخلہ مہم کو محض کاغذی کارروائی اور سرکاری فائلوں میں کامیابی کے دعووں تک محدود رکھا گیا تو اس کے اصل مقاصد کبھی پورے نہیں ہوں گے۔ ہمیں اس مہم کو حقیقی معنوں میں ایک تعلیمی انقلاب میں تبدیل کرنا ہو گا، جہاں ہر بچہ، چاہے وہ کسی بھی طبقے یا پس منظر سے ہو، تعلیم حاصل کر سکے۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو نہ صرف بچوں کو اسکول میں لائے بلکہ انہیں معیاری تعلیم بھی فراہم کرے تاکہ وہ ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
اگر ہم محض سرکاری اعداد و شمار تک محدود رہنے کے بجائے، حقیقی معنوں میں تعلیمی بہتری کے عملی اقدامات کریں تو یہی داخلہ مہم ایک تعلیمی انقلاب کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تب جا کر ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ جو بچے پہلے سے زیر تعلیم ہیں، ان کے گھر کے دیگر بچے، جو اسکول جانے کی عمر میں ہیں، خودبخود اسکول کا رخ کریں گے یا انہیں اسکول لایا جائے گا۔ تاہم، ہمیں ان رسمی اعداد و شمار سے باہر نکل کر ان بچوں پر توجہ دینی ہوگی جو واقعی تعلیم سے محروم ہیں اور جو اسکول نہیں جا سکتے۔ ہر سال داخلہ مہم کے انعقاد کے باوجود اگر لاکھوں بچے تعلیم سے دور ہیں تو ہمیں رسمی کارروائیوں سے ہٹ کر اصل مسئلے کو سمجھنا ہو گا، تاکہ علم کی روشنی صرف ان گھروں تک محدود نہ رہے جہاں پہلے سے تعلیم موجود ہے، بلکہ ہر اس بچے تک پہنچے جو ابھی تک اس نعمت سے محروم ہے۔

