دوائیں، ان کا غلط استعمال اور احتیاطی تدابیر


غذا کی طرح دوائیں بھی ہماری زندگی کا ایک اہم جز ہیں۔ لیکن ان کا صحیح استعمال بھی ضروری ہے۔ ورنہ فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو سکتا ہے۔ اور اکثر ہوتا بھی ہے۔ اس لئے کسی بھی بیماری میں دواؤں کے استعمال میں چند احتیاطیں ضروری ہیں۔ اس مضمون میں ہم آج اسی موضوع پر گفتگو کریں گے۔ دواؤں کے بارے میں مندرجہ ذیل اہم باتیں جاننا ضروری ہیں۔

1۔ دواؤں کا نام: چونکہ ہمارے ملک میں دوائیں کھلے عام اور بغیر کسی رکاوٹ یا روک تھام کے مل جاتی ہیں لہذا ان کے ناموں کے بارے میں چند حقائق جاننے ضروری ہیں۔ دوائیں جو بازار میں ملتی ہیں ان کے دو نام ہوتے ہیں ایک ان کا اصل نام جسے ”جینرک نام“ کہتے ہیں جن کا مریضوں کو علم نہیں ہوتا اور دوسرا تجارتی نام جس نام سے وہ دوا مختلف دواساز کمپنیاں بیچتی ہیں۔ اس طرح ایک اصل دوا پچاس مختلف تجارتی ناموں سے بازار میں مل سکتی ہے اور عام افراد انہیں مختلف دوا‏ئیں سمجھتے ہیں اور وہ ایک ہی دوا مریضوں کو مختلف ناموں سے کئی بار دیدیتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس کی ایک سادہ سی مثال درد اور بخار کم کرنے والی دوا ”پیراسیٹامول“ ہے جو عام طور پر ”کیل پول“ یا ”پیناڈول“ کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ لیکن یہ پچاس مختلف ناموں میں دستیاب ہے۔ یہ معاملہ اس وقت اور گمبھیر ہوجاتا ہے جب دو مختلف اثر رکھنے والی دو مختلف جینرک دوائیں ایک جیسے ملتے جلتے تجارتی ناموں سے بازار میں دستیاب ہوں اور میڈیکل اسٹور غلطی سے کسی ایک دوا کے بجائے کوئی دوسری دوا مریض کو دیدے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ مریض کو دوا دینے سے پہلے اس دوا کا اصل نام چیک کیا جائے۔ تاکہ مریض کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ماضی میں اس قسم کی غلطیوں سے مریضوں کی اموات واقع ہو چکی ہیں۔ لیکن ہر دوا کسی ایک یا دو ناموں سے مشہور ہوجاتی ہیں جو اکثر ان دواؤں کو ایجاد کرنے والی کمپنیوں نے رکھے ہوتے ہیں۔

2۔ دواؤں کا ارتکاز یا کنسنٹریشن: یہ دوسرا اہم عنصر ہے اور اس کا علم ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک گولی یا کیپسول یا شربت میں اصل دوا کی کتنی مقدار ہوتی ہے۔ اب دوبارہ پیراسیٹامول کی مثال لی جائے تو معلوم ہو گا کہ ایک گولی میں 500 ملی گرام دوا ہوتی ہے لیکن اس کے شربت دو مختلف ارتکاز میں دستیاب ہیں۔ ایک شربت میں 5 ملی لیٹر میں 120 ملی گرام دوا اور دوسرے شربت میں 5 ملی لیٹر میں 250 ملی گرام دوا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ قطروں کی شکل میں 80 ملی گرام فی ملی لیٹر میں بھی ملتی ہے۔ اس لئے کسی بھی دوا کا ارتکاز جاننا ضروری ہوتا ہے تاکہ مریض کو صحیح مقدار میں دوا مل سکے۔

3۔ دوا کی خوراک: یہ دواؤں کے استعمال میں تیسرا سب سے اہم رکن ہے۔ کسی بھی بیماری میں کسی بھی دوا کی ایک خاص مقدار دی جاتی ہے اور اس کی ایک حد یا رینج ہوتی ہے۔ یعنی وہ دوا کم سے کم کتنی اور زیادہ سے زیادہ کتنی مقدار میں دی جا سکتی ہے۔ اسے تھیرا پیوٹک رینج کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ 24 گھنٹے میں کوئی بھی دوا ایک خاص مقدار سے زیادہ نہیں دی جا سکتی۔ اگر کوئی دوا اپنی کم سے کم حد سے کم مقدار میں دی جائے تو اس سے مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہو گا اور اگر اپنی زیادہ سے زیادہ حد سے زیادہ دی جائے تو نقصان ہو گا۔ اور اس سے جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دوا کی مقدار کا تعین مریض کی عمر اور وزن کے مطابق کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بخار یا درد کی حالت میں پیراسیٹامول 10 سے 15 ملی گرام فی کلوگرام وزن کے حساب سے دی جا سکتی ہے۔ اور ایک دن میں تین سے چار بار دی سکتی ہے یعنی ایک 10 کلوگرام وزن کے بچّے کو 100 سے 150 ملی گرام پیراسیٹامول ایک وقت میں دی جا سکتی ہے۔ اس سے زیادہ مقدار میں دینے سے خاص طور پر کئی گنا زیادہ دینے سے جگر فیل ہو سکتا ہے۔

دواؤں کے استعمال میں ہونے والی چند اہم غلطیاں۔

1۔ ایک ہی دوا کا مختلف ناموں سے استعمال کرنا۔ جیسا میں نے اوپر بیان کیا کہ ایک ہی دوا مختلف تجارتی ناموں سے ملتی ہے جس کی وجہ سے غیر ارادی طور پر ایک دوا اپنی آخری حد سے زیادہ مقدار میں دی جا سکتی ہے۔ یہاں دوبارہ پیراسیٹامول کی مثال دینا چاہوں گا۔ یہ عام طور پر کیل پول اور پینا ڈول کے نام سے گولیوں، شربت، قطروں اور ”ناپا“ کے نام سے سپوزیٹری کی شکل میں ملتی ہے۔ عام افراد سمجھتے ہیں کہ ”پینا ڈول“ اور ”ناپا“ دو الگ دوائیں ہیں اور بخار کی حالت میں اضطراری طور پر دونوں دوائیں ایک ساتھ دیدیتے ہیں اور اس طرح بچّے کو پیراسیٹامول کی دگنی خوراک مل جاتی ہے جو نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

2۔ مختلف شکلوں میں ملنے والی ایک ہی دوا غلط مقدار میں استعمال کرنا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ایک دوا ایک سے زیادہ شکل میں ملتی ہیں اور ان کا ارتکاز بھی مختلف ہوتا ہے۔ جیسے پیناڈول ٹیبلیٹ 500 ملی گرام، پیناڈول شربت 120 ملی گرام فی 5 ملی لیٹر اور پیناڈول قطرے 80 ملی گرام فی ایک ملی لیٹر کے ارتکاز میں ملتے ہیں۔ اگر کسی بچّے کو ڈاکٹر نے پیناڈول شربت 5 ملی لیٹر ہر چھ گھنٹے بعد لکھا ہے اور والدین پیناڈول کے قطرے 5 ملی لیٹر ہر چھ گھنٹے بعد دیدیں تو بچّہ کو چار گنا زیادہ دوا مل جائے گی جو اس کے لئے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے

3۔ خوراک کا صحیح استعمال: اکثر والدین بّچوں کو دوا‏ئیں چمچہ یا قطروں کی شکل میں دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو دوا کی صحیح مقدار نہیں ملتی۔ چونکہ ایک معیاری چمچہ 5 ملی لیٹر کا ہوتا ہے اور شربت میں بھی 5 ملی لیٹر کے حساب سے اصل دوا ہوتی ہے اس لئے اکثر ڈاکٹر بھی 5 ملی لیٹر کے بجائے ایک چمچہ دوا تجویز کر دیتے ہیں جو کہ غیر مناسب ہوتا ہے۔ لیکن گھر میں استعمال ہونے والا کوئی بھی چمچہ 5 ملی لیٹر کا نہیں ہوتا۔ اس لئے مریض کو دوا ضرورت سے کم ملتی ہے۔ اس لئے صرف دواؤں کے ڈبّے میں نکلنے والا چمچہ استعمال کیا جانا چاہیے یا سرنج استعمال کرنی چاہیے۔ اسی طرح قطروں کی شکل میں ملنے والی دوا میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

4۔ صحیح دوا کا حصول: یہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ ڈاکٹروں کے لکھے ہوئے اکثر نسخے پڑھے نہیں جاتے۔ اور میڈیکل اسٹور والے کسی ایک دوا کی بجائے دوسری دوا دے دیتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی خطرناک بات ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ڈاکٹروں کو لکھتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ دوا کا نام آسانی سے پڑھا جا سکے اور مریض بھی دوا خریدتے وقت یقین کرے کہ اس نے صحیح دوا خریدی ہے۔ کسی بھی شبہ کی صورت میں ڈاکٹر سے دوبارہ تصدیق کر لے کہ اسے صحیح دوا ملی ہے یا نہیں۔

5۔ دوست احباب کے مشورے : اکثر دوست احباب یا رشتہ دار ڈاکٹر بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بنیاد پر مفت مشورے دیتے ہیں اور مختلف دوائیں استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے بغیر ڈاکٹر کے مشورہ کے کوئی دوا استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

6۔ براہ راست دواؤں کی خریداری: اکثر افراد دواؤں کی دکان سے اپنا مسئلہ بتا کر دوائیں خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک خطرناک بات ہے۔ نہ تو دوائیں بیچنے والوں کو بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے کوئی دوا دینی چاہیے اور نہ ہی مریض کو خریدنی چاہیے۔ یہ عمل خطرناک اور جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کے پیٹ میں درد ہو اور کسی دکان سے پیٹ کا درد کم کرنے والی دوا خرید لائے اور استعمال کرے۔ مگر اس کے پیٹ کے درد کی وجہ اپینڈیسا‏ئیٹس ہو جس کا علاج آپریشن ہے تو اسے شدید نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ صحیح تشخیص نہ ہونے اور آپریشن میں دیر ہونے کی وجہ سے زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

مریض اگر ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو دواؤں کے غلط استعمال اور ان کے مضر اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS