انقلاب کی سفید مونچھیں


فیض صاحب سے کسی اتاؤلے نوجوان نے پوچھا، "فیض صاحب، انقلاب کب آئے گا؟” انہوں نے سگریٹ کا ایک طویل کش لگایا، آرام سے راکھ جھاڑی، دور کہیں خلاؤں میں جھانکتے ہوئے کہنے لگے، "اتنی جلدی کیا ہے بھئی، آ جائے گا، انقلاب بھی آ ہی جائے گا۔”

انقلاب بوڑھا ہو چکا ہے۔ انقلاب کی مونچھیں سفید ہو گئیں، سو تجربے کر لیے، انقلاب نہیں آیا۔ جہاں کہیں آیا تو پھر یہی سوال اٹھے کہ بھئی جس سحر کا انتظار تھا وہ کم از کم یہ تو نہیں ہے کہ جو دکھائی دیتی ہے۔ بار بار انقلاب لایا گیا، نسلیں خوار ہوئیں، لوگوں کے تراشے ہوئے بت ٹوٹے، آنکھوں میں جھلملاتے ستارے زمین پر آ گرے، وہ انقلاب جسے چاہا گیا تھا، وہ نہیں آ کے دیا۔ ایک نقصان ہوا۔ ہر آنے والا انقلاب اتنی بڑی تباہی لے کر آیا کہ جس سے سنبھلتے سنبھلتے عمریں بیت گئیں، شہر کے شہر اجڑ گئے، انسان برباد ہو گئے۔ تو انسان جو برباد ہوئے ان کا المیہ تاریخ کے صفحوں میں آج بھی موجود ہے۔ اس تاریخ کی بازگشت بتاتی ہے کہ تبدیلیاں ایسے چٹکی بجاتے نہیں آتیں، صدیوں کا سفر ہوتا ہے۔ نظام چلنے دیجیے، اسی چل چلاؤ میں اپنی بات کہنے کی جگہ پیدا کیجیے۔ جلدی تو خسارے کا سودا ہے۔ ایک انسانی جان کا چلے جانا یا اسے یہ احساس ہونا کہ سفر رائیگاں ہوا، یہ بڑی اذیت ناک بات ہوتی ہے، اس سے بچا جائے۔ ہاں اگر اچھا ادب تخلیق دینا ہے تو اس طرح کی کوششوں میں کوئی حرج نہیں کہ بڑی کتاب بڑے حادثوں کے بعد ہی وجود میں آتی ہے، لیکن ایک کتاب کے لیے سروں اور دماغوں کی اتنی فصلیں اجڑتے دیکھنا، خدا بچائے!

ابھی ایک انقلاب ہمیں اٹھارہ سو ستاون میں نظر آیا۔ اودھ اور دلی کا بیڑہ غرق ہوا۔ تہذیبیں مٹیں، آثار مٹے، اگرچہ وہ مٹنے کے لیے ہی تھے کہ وقت کے علاوہ سبھی کچھ مٹتا ہے لیکن جس طرح یہ سب ختم ہوا وہ نہیں بھلایا جا سکتا۔ دلی کے نوحے کہے گئے، اودھ کو رویا گیا، یہ سب کچھ کتابوں میں نظر آتا ہے۔ ایک سے ایک لازوال کتاب لکھی گئی اور آج تک لکھی جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو سرسید احمد خان آثار الصنادید لکھتے ہیں، پھر اس عہد کی لائیو رپورٹ غالب کے خطوط میں ملتی ہے، پھر۔ اسی طرح فرحت اللہ بیگ، حیرت دہلوی، شرر، مہیشور دیال، اشرف صبوحی، ناصر نذیر فراق، خواجہ حسن نظامی، شاہد احمد دہلوی، ضمیر دہلوی، انتظار حسین اور فیروز دہلوی نے پچھلے سو برس کے درمیان دلی اور لکھنئو کے اجڑنے پر وہ وہ کچھ لکھا ہے کہ اگر پڑھنے بیٹھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انقلاب کے لیے جو کوشش کی گئی اس کی ناکامی آج تک ہم کس طرح بھگتتے آ رہے ہیں۔ ریاستوں اور بادشاہوں نے بھی اگرچہ کسر کوئی نہیں چھوڑی تھی لیکن اسی جنگ کے بعد انگریزوں کو باضابطہ پاؤں جمانے کا موقع ملا اور پھر اگلے نوے برس برصغیر نے ایک اذیت میں کاٹے جس کا خاتمہ بالاخر سینتالیس میں ہوا۔

اب سینتالیس میں خدا کا کرم ہوا، تقسیم ہو گئی، غلام ملک آزاد ہوا، انگریز واپس چلے گئے۔ جو لوگ ہندوستان سے آئے یا ادھر سے وہاں گئے، انہوں نے بہت سے ایسے انسانیت سوز واقعات دیکھے جو تمام عمر انہیں ڈسٹرب کرتے رہے۔ کچھ اپنی جگہ سے کٹ جانے کا غم تھا، کچھ وہاں کی یادیں تھیں، کچھ نئی جگہ کی تکالیف تھیں تو بہت کچھ لکھا گیا۔ سینتالیس کے بعد کی پرچھائیاں انتظار حسین صاحب کی ہر کتاب میں نظر آتی ہیں، شوکت صدیقی نے خدا کی بستی لکھا تو سن پچاس کے شہر کراچی کا حال دیا، قرة العین حیدر کا لازوال ناول آگ کا دریا آیا، عبداللہ حسین کی اداس نسلیں لکھی گئی اور بہت سا فکشن اس نسل نے لکھا جو حالات کا شکار ہوئی۔ ابھی آج کل کی بات کیجیے تو اقبال حسن خان لکھے جاتے ہیں، ڈرامہ نگار ہیں، سینئیر ادیب ہیں اور اس موضوع پر مسلسل لکھتے ہیں۔ تو یہ سب انسان کے وہ محسوسات ہیں جو کسی بھی انقلاب کے بعد نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ انقلاب لانے کی خواہش آسان ہے لیکن اس سے گزرنا اور پھر پیچھے مڑ کر نفع نقصان کا حساب لگانا بہت پیچیدہ عمل ہوتا ہے، بقول جمال احسانی، ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑھی سیدھے پاؤں کی!

پھر اکہتر کا سانحہ ہوا۔ بنگالی بھائیوں کے لیے بہرحال وہ انقلاب تھا۔ تو اس پر بھی بہت کچھ لکھا گیا۔ بیوروکریٹس نے جو کچھ لکھا اس میں اپنی جان چھڑوانے کا عنصر بہت زیادہ تھا۔ دور بیٹھے ادیبوں نے جو دیکھا اور لکھا اس میں اپنی جان بچانے کی فکر نمایاں تھی۔ تو یہ بھی ایک بڑا واقعہ تھا جس کے آثار آج تک ہمیں لٹریچر میں دکھائی دیتے ہیں۔ صوفیہ ناز کی ایک کہانی ابھی کچھ عرصہ پہلے "آج” میں شائع ہوئی، وہ اس واقعے پر لکھی گئی تازہ ترین تحریر ہے۔ انقلاب کے دلفریب نعرے کے بعد کیا کچھ گزرتا ہے، یہ گزرنے والے جانتے ہیں۔ بسے بسائے گھر کو چھوڑ کر ہجرت کرنا کتنا مشکل ہے کبھی ایویں دبئی جانے والے مزدور دوستوں سے پوچھ کر دیکھ لیجیے کہ ان کی آنکھوں میں بھی معاشی انقلاب کے خواب ہوتے ہیں۔

خطے کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی ایران کا انقلاب تھا۔ لوح ایام نامی کتاب ہمیں اس واقعے کا یک نظری بیانیہ دکھاتی ہے جس میں شاہ ایران دنیا کی ہر برائی کا مرکز تھے اور خمینی نجات دہندہ تھے۔ محترم استاد، جناب مختار مسعود لکھتے ہیں، "یکم جنوری، یہ کیسا نیا سال چڑھا ہے کہ جو خبر آتی ہے خون میں نہائی ہوئی آتی ہے اور غسل کے بعد سیاہ ماتمی لباس پہن لیتی ہے۔ وقت کے صرف دو رنگ ہیں، سرخ اور سیاہ۔ مشہد اور زنجان میں فوجی بغاوت، سینکڑوں افراد ہلاک۔ شہر قم یک پارچہ آتش است۔ سپاہیوں نے قم کا محاصرہ کیا ہوا ہے، لوگ گھروں میں بند ہیں، کشتار عظیم در قزوین، اصفہان و نجف آباد میں فدا کاری کے مناظر۔ تبریز را در آتش و خون غرق کردند، سر تا سر ایران سیاہ پوش و عزادار است۔” تو اس جا بجا بکھرے خون اور بربادی سے وہ بھی لوح ایام میں پہلو نہ بچا سکے۔ باوجود انقلاب کی تمام تر رومانویت کے جتنی لاکھوں جانیں اس چکر میں ضائع ہوئیں اور جتنے گھر برباد ہوئے شاید اس وقت گاڑیوں کے وائپر لہرا لہرا کر انقلاب کو خوش آمدید کہنے والے اس سب سے واقف نہیں تھے۔

ان تمام واقعات کے بعد تازہ ترین اور بڑے واقعات دو تھے۔ سوشلسٹ انقلاب کا ناکام ہونا اور مسلمانوں میں سے خلافت کے داعیوں کا ابھرنا۔ اب جو لوگ ایشیا سرخ ہونے کے خواب دیکھتے تھے، دیوانہ وار انقلاب کے نعرے لگاتے تھے، روس قبلہ و کعبہ ہوتا تھا، ایک جنون تھا، ایک دیوانگی تھی۔ ان کے خواب کیسے عذاب میں بدلے یہ سب کچھ تارڑ صاحب نے اے غزال شب میں لکھا۔ اور کیا ہی عمدہ لکھا۔ اسے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ جو خواب دیکھتے دیکھتے عمر گزار دی جائے ان کا ٹوٹنا کس قدر بھیانک ہوتا ہے۔ تو وہ جو ناکام انقلاب تھا اس کی وجہ سے اے غزال شب پڑھنے والوں کو مل گئی۔ اور اس سے پہلے ایک اور واقعہ ہوا۔ نائن الیون کے بعد طالبان کا ظہور اور منظر نامہ یک دم بدلنے سے عام مسلمان جس قدر تکلیف کا شکار ہوئے، جیسی پریشانیاں انہوں نے دیکھیں اس کی گواہی ہمیں آمنہ مفتی کے یہاں آخری زمانہ نامی کتاب میں ملتی ہے۔ نائن الیون کا سانحہ بنیادی طور پر مسلمانوں کی تاریخ میں ایک نئے موڑ کی ابتدا تھا، اس کے بعد سے لے کر آج تک جو کچھ ہم بھگتتے آ رہے ہیں یہ بھی کسی انقلابی سوچ کا خمیازہ ہی ہے۔ تو اس کہانی میں ہمیں ضیا دور کا مارشل لا، بے نظیر اور نواز شریف حکومتوں کا عروج و زوال، مشرف حکومت، مجاہدین کا طالبان میں تبدیل ہونا، ورلڈ ٹریڈ سینٹر تباہ ہونا، تورا بورا، قلعہ جنگی اور لال مسجد تنازعہ وغیرہ سب کچھ نظر آئے گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ناول فیصلہ بہرحال پڑھنے والے پر ہی چھوڑے گا کہ غلط کیا تھا اور صحیح کیا ہے۔

اتنے سارے انقلابوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ سمجھ آتی ہے کہ تبدیلی اندھا دھند بھاگنے سے نہیں آتی، اور آ بھی جائے تو بڑی تباہیوں کے ساتھ آتی ہے۔ اگر ایک نظام ملک میں چل رہا ہے تو حصہ بنتے ہوئے اس میں بہتری لانا افضل ہے بجائے اس سب کو لپیٹ کر راتوں رات کچھ نیا انقلاب سوچنے کے۔ تبدیلی کے نعرے پچھلے دو تین برس مسلسل لگائے گئے، ان کے پیچھے چلنے والوں نے بھی دیکھا کہ کوئے دار سے نکل کر سوئے دار جانا کیا ہوتا ہے۔ جو سیزنڈ سیاست دان ہیں وہ جانتے ہیں کہ جمہوریت کی بقا ہی میں ان کا بھلا ہے، ملک کی سلامتی ہے۔ خدا میثاق جمہوریت کو پائیداری عطا کرے، ہمیں کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہئیے بھائی، انتخابی مہم کی گولہ باری ذرا سلیقے سے ہو جائے تو کیا ہی کہنے۔ اور ویسے بھی جو انقلاب چاہتے ہیں وہ معلوم نہیں چاہتے کیا ہیں۔

تاریخ ہمیں بہرحال یہ سکھاتی ہے کہ تاریخ ہمیں کچھ نہیں سکھا پاتی!

(بشکریہ روز نامہ دنیا)

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain