رضا رومی کی کتاب ‘شناخت، عقیدہ اور تصادم’ پر ایک نظر

جنوری کے وسط میں امریکہ پہنچا اور یہاں جس پہلے پبلک ایونٹ میں مجھے شرکت کا موقع ملا اس سے میری یک گونہ شناسائی تھی۔ 2013 میں رضا رومی کی کتاب ‘دہلی بائی ہارٹ’ کی تقریب رونمائی میں شرکت کرنے ‘خیال فیسٹیول لاہور’ گیا تو الحمرا کے آڈیٹوریم نمبر 1 کے باہر رضا رومی سے پہلی ملاقات ہوئی۔ چار سال بعد میں ‘کوئین میوزیم نیویارک’ میں موجود تھا جہاں رضا رومی کی نئی کتاب کی رونمائی ہو رہی تھی۔ اس کتاب کا عنوان ‘Identity, Faith and Conflict: Essays on Pakistan and beyond’ تھا۔ یہ کتاب ان چند مضامین کا مجموعہ ہے جنہیں رضا رومی نے گزشتہ چند برسوں میں قلم بند کیا۔

مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہوا کہ یہاں رضا رومی کا تعارف کرواتے ہوئے انہیں اتھاکا کالج کا ریزیڈنشل انٹرنیشنل سکالر بتایا گیا۔ میں رضا رومی کو ٹویٹر اور بلاگنگ کے دور سے جانتا ہوں۔ تب انہوں نے ایک اینکر کی حیثیت سے کیپیٹل ٹی وی جائن نہیں کیا تھا اور انہیں صرف انگریزی اخباروں میں لکھنے والے صحافی اور ٹویٹر سلیبرٹی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 2014 میں شدت پسندوں کی طرف سے ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ تو بال بال بچ گئے مگر خون میں لت پت ان کے ڈرائیور نے ان کے جان دے دی۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد انہیں پاکستان سے ہجرت کرنی پڑ گئی۔ اب تین سال کے وقفے کے بعد میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔

کتاب کا تعارف باربرا ایڈمز نے لکھا ہے جو اس کتاب کی ایڈیٹر بھی ہیں اور اتھاکا کالج کی رائٹنگ کے شعبہ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ لکھتی ہیں۔”ان مضامین میں رضا رومی نے بتایا ہےکہ آج پاکستان میں مسلمان ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ رومی کے مضامین پاکستان اور جنوبی ایشیا میں مذہبی تنازعات اور شناخت کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں”۔

اس کتاب میں احمدیوں کے حقوق کے بارے میں ایک مفصل مضمون شامل ہے۔ رضا رومی نے احمدیوں کو آدھا شہری قرار دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی  پر بھی ایک جامع مضمون تحریر کیا گیا ہے۔ مسلم سوسائٹی کی اصلاح کے لیے بھی دو مضامین مختص کئے گئے ہیں۔ آخری حصے میں رومی نے اپنی جلا وطنی اور اپنی اصل شناخت، یعنی اپنے وطن میں گزرنے والے اپنے تجربات بیان کئے ہیں۔

عائشہ صدیقہ اور بینا سرور نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ ڈاکٹر صدیقہ نے اس کتاب اور پاکستان کے حالات پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر صدیقہ نے بہت بہادری سے اپنے خیالات پیش کیے۔ انہوں نے رضا رومی کی کاوشوں کی تعریف کی اور جناح کے پاکستان کے بارے میں اپنی آراء کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کے دعوے کا ایک سیاق و سباق ہے۔ بھارت اور پاکستان کے علاقوں میں اسلام پھیلانے والی صوفی روایت شریعت کی سختی اور شدت کا قائل نہیں تھی۔ صوفی ازم میں اسلامی تعلیمات بہت واضح اور نرم ہیں جن کا تعلق انسان کے داخل سے ہے۔ ڈاکٹر صدیقہ نے سیاسی اسلام کے ساتھ آنے والی شدت پسند لہر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے تمام سیاسی لیڈر، لبرل حضرات اور قدامت پسند لوگ، اور جمہوری اور تحکم پسند افراد نے اس صورتحال کو پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اختلافی معاملات پر اسلامی رہنماوں کے درمیان مکالمے کا فقدان سوسائٹی پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ خود کش بمبار اور صوفی دربار میں دھمال ڈالنے والے باہم گفتگو کے ذریعے مسئلے حل نہیں کرتے۔

معروف صحافی بینہ سرور نے نفرت انگیز تقاریر کو پاکستان اور امریکی معاشرے کے بگاڑ کا سبب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور حکومت پاکستان نے ہر کسی کو ‘غیر’ قرار دیتے ہوئے اور خوف کی فضا پھیلا کر حالات کو خراب کر رکھا ہے۔ اس طرح کی پالیسی سے معاشرے میں نفرت کی فضا پھیلتی ہے اور کمیونٹیز نفرت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی لبرل آوازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بینا سرور نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد پاکستان شدت پسندی کے بیانیے کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔

رضا رومی نے حاضرین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر قائد اعظم آج کراچی میں اپنے معمول کے مطابق زندگی گزارتے تو انہیں کافر قرار دے دیا جاتا۔ آج قائد اعظم کے ہم مسلک افراد یعنی اسماعیلی اور شیعہ طبقہ کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔ ماضی میں بہت سے شیعہ لوگوں کو قتل بھی کیا گیا ہے۔ رومی نے ان دنوں کی یاد تازہ کی جب پاکستان میں ہر مذہب کےلوگ مل جل کر رہتے تھے ۔ پاکستان میں عدم برداشت کا مسئلہ بھی پچھلی کچھ دہائیوں سے یہ چل نکلا ہے۔ ایک موقع حاضرین کو مخاطب کر کے پرجوش انداز میں سے انہوں نے کہا

’’دیکھ لیجیے ہم کیا تھے اور اب کیا بن چکے ہیں؟۔‘‘

رضا رومی کا کہنا تھا کہ ’’ہم ایسا ملک نہیں چاہتے جہاں لوگوں پر یکساں وژن اور زندگی کا یکسانیت پر مبنی نظریہ تھونپا جائے۔‘‘ انہوں نے پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی پر لگنے والی قدغن پر بھی سخت پریشانی کا اظہار کیا۔ پچھلے کچھ عرصہ میں لبرل بلاگرز کی گمشدگی سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اختلاف کے حق کو چھیننے میں مصروف ہیں۔

یہ تقریب سہون شریف حملے کے ایک دن بعد منعقد ہوئی جس کی خبر سن کر بہت سے لوگ بے چینی کا شکار تھے۔ سامعین میں سے ایک پاکستانی امریکن شخص نے مقررین سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کے مثبت پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالیں۔ بینا سرور نے شہریوں کی طرف سے شدت پسندی کے خلاف مزاحمت کو ایک اچھی پیش رفت قرار دیا۔ رومی نے اس ضمن میں خواتین کی تعلیم اور ورک فورس کا حصہ بننے کو ایک مثبت اور انقلابی تبدیلی قرار دیا۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے محتاط رائے دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مثبت نتیجہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں ملک میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔

تقریب کے بعد مشتاق گزدر مرحوم کی وہ ڈاکومنٹری جس پر 80 کی دہائی میں پابندی لگائی گئی تھی بھی پیش کی گئی۔ اس فلم کے بولڈ تھیم کی وجہ سے بہت اچھی گفتگو بھی دیکھنے کو ملی۔ اس موقع پر بی بی سی صحافی انور سین رائے، شاعر اور کالمسٹ حسن مجتبی، ڈاکٹر طاہرہ نقوی نیو یار ک یونیورسٹی پروفیسر  اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے بوب ڈیٹز شامل تھے۔

__________________________

یہ بلاگ اس سے پہلے ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words