لبرل فاشسٹوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے درمیان پھنسی رضیہ


گزشتہ دنوں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ہمارے لبرل وزیراعظم کے مشیر جناب ظفر اللہ صاحب نے بڑے دلگیر انداز میں فرمایا کہ ’اب پاکستان میں بدقسمتی سے ایک مٹھی بھر ریلیجس فنڈا مینٹلسٹ ریڈیکل ہیں وہ اپنا آرڈر ہمارے اوپر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور ایک لبرل فاشسٹ ہیں جو ہمارے اوپر اپنا آرڈر ٹھونسنا چاہتے ہیں‘۔

واقعی رضیہ تو غنڈوں میں پھنسی ہوئی ہے۔ عالمی منظر نامے کا جائزہ لیں تو مٹھی بھر مذہبی انتہا پسندوں نے پاکستان کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔ دوجی جانب دیکھیں تو امریکہ سے بڑا فاشسٹ کون ملے گا۔ وہ کہتے بھی خود کو لبرل ہیں۔ جب سے امریکی دنیا کی واحد سپر پاور بنے ہیں، تو کبھی بلاوجہ ہی عراق پر حملہ کر دیتے ہیں اور کبھی افغانستان پر۔

بہانہ یہ بناتے ہیں کہ افغانستان سے ان کے ملک پر حملہ ہوا تھا۔ کیسا حملہ؟ کتنے لوگ مرے تھے اس میں؟ ڈھائی ہزار؟ اب اگر امریکی فاشسٹ نہ ہوتے اور معصوم شہریوں سے بدلہ لینے کی اتنی ہی چاہ ہوتی تو ایک بڑا سا بم افغانستان پر مار کر اس کے ڈھائی کی بجائے پانچ ہزار شہری مار دیتے اور سمجھتے کہ قصاص پورا ہو گیا۔

لیکن نہیں صاحب وہ تو فاشسٹ ہیں۔ وہ تو افغانستان کی جائز طریقے سے، یعنی بندوق کے زور پر منتخب کی جانے والی طالبان حکومت پر ہی چڑھ دوڑے۔ اسے ہٹا دیا۔ اپنی مرضی کی حکومت وہاں لگا دی۔ اب ڈیڑھ دہائی سے اوپر ہونے کو آیا ہے وہیں بیٹھے افغانوں کو مارے جا رہے ہیں۔ ڈھائی ہزار کے بدلے لاکھوں مار ڈالے۔ اوپر سے وہ بچاری رضیہ کو بھی ڈو مور، ڈو مور کے آوازے مارتے جاتے ہیں۔ جیسا کہ رضیہ نے بتایا کہ وہ ’لبرل ازم کے نام پر جھوٹی فرسودہ قسم کی مغربی رسومات ہمارے اوپر ٹھونسنا چاہتے ہیں‘۔ واقعی، یہ مٹھی بھر لبرل فاشسٹ تو رضیہ پر اپنا آرڈر ٹھونسنے پر بضد ہیں۔

دوسری طرف مذہبی انتہا پسند جہادی ہیں۔ ان میں سے کچھ کی نظریاتی تربیت سیاہ جبے والوں نے کی ہے اور کچھ کی سفید نے۔ اور دونوں گروہوں کی کے سر پر پنڈت جی کا چھاتہ ہے۔ وہ مٹھی بھر انتہاپسند بھی رضیہ کو حکم دے رہے ہیں کہ ہمارے دوارے آ جا۔ شٹل کاک برقع پہن، پردے کی بوبو بن جا، اور جو ہم کہیں، چپ کر کے وہ مانتی جا۔ ہمیں اپنا مجازی خدا مان۔ ہمارے حکم سے باہر نکلی تو پھر ہلکا پھلکا تشدد کر کے ہڈی پسلی ایک کر دیں گے۔

امریکی لبرل فاشسٹ تو بس حقہ پانی بند کرتے ہیں، یعنی قرضے دینے سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور رضیہ کے گھر کا خرچہ پورا نہیں پڑتا، مگر یہ جہادی غصہ ہوں تو رضیہ کے گھر کے برتن بھانڈے بھی پھوڑنے لگتے ہیں۔

رضیہ تو بے بس و مجبور ہے۔ کسی کو بتا ہی نہیں سکتی کہ کن غنڈوں میں گھری ہوئی ہے۔ ایک کا نام لے تو روزی سے جاتی ہے، دوجے کا نام لے تو وہ چار چوٹ کی مار لگاتا ہے۔

بس دل بہت بھر آئے تو اپنے ننھے بچے کو پیٹنے لگتی ہے کہ کمبخت لبرل فاشسٹ، سارے فساد کی جڑ تو ہی ہے۔ وہ معصوم ابھی اتنا ننھا ہے کہ گڈلیوں بھی نہیں چل پاتا، مگر رضیہ برتن بھانڈے ٹوٹنے کا غصہ اسی پر نکال سکتی ہے۔ اسی پر یہ بھانڈے توڑنے کا الزام دھر کر اسے دو چار لگا کر دل کی بھڑاس نکالتی ہے۔ زبردست کا نام کیسے لے کہ وہ مارے بھی اور رونے بھی نہ دے۔

تو صاحب، رضیہ درست کہتی ہے۔ دیسی لبرل ہی سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ وہ لبرل بھی ہیں اور فاشسٹ بھی۔ یہی ماننے میں سب کی بچت ہے۔ مگر سنا تھا کہ رضیہ کے میاں صاحب بھی اب لبرل ہوئے پھرتے ہیں۔ ان کا کیا ہو گا؟ وہ بھی لبرل فاشسٹ ہیں کیا؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1492 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar