غصہ نہ کیجیے، اجی یہ تو مذاق ہے

سن انیس سو چھیانوے کی ایک شام کا ذکر ہے، جب ہم ریاضی کے طلبا، استادِ محترم مظہر علی شاہ کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے، اُن سے سبق لے رہے تھے۔ ڈرائنگ روم کے کھلے دروازے سے باہر سڑک پر کھڑے، وہ طالب علم دکھائی دے رہے تھے، جنھوں نے ہمارے بعد ٹیوشن لینا تھی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گذری ہوگی کہ اچانک ایک گاڑی ڈرائنگ روم کے دروازے کے عین سامنے آ رکی؛ گاڑی سے ہمارے دو دوست تیزی سے اتر کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے مجھے دیکھا اور تیز تیز بولا، ”ارے تم یہاں بیٹھے ہو اور ادھر تمہارے گھر کسی نے فون کرکے اطلاع دی ہے کہ کسی گاڑی سے ایکسیڈنٹ کے بعد تمہیں اسپتال پہنچادیا گیا ہے۔ “ اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا، دوسا دوست گویا ہوا، ”چلو اللہ کا شکر ہے کہ خبر جھوٹی نکلی، پر تمہاری والدہ بہت پریشان ہیں۔ “ مظہر صاحب ہنستے ہوئے بولے، ”یار آج یکم اپریل ہے، کسی نے جھوٹ بول کر پریشان کیا ہوگا۔ “ اس پر ان دونوں میں سے ایک نے جذبات میں مغلوب لہجہ بناتے ہوئے کہا، ”بات یہی ہے، لیکن یہ کیسا جھوٹ ہے، یہ کیسا مذاق ہے۔ آپ ایسا کریں آج اس کو ہمارے ساتھ جانے دیں کہ گھر پہ سب لوگ اور خاص طور پہ اس کی والدہ بہت پریشان ہیں۔ “ یقین کیجیے یہ سن کرمیری آنکھیں بھیگ سی گئیں۔ سر مظہر نے مناسب سمجھتے ہوئے مجھے جانے کی اجازت دے دی۔ گاڑی منزل کے لیے روانہ ہوئی مگر اُس کا رُخ گھر کی بجائے دوسری سمت کو تھا۔ میرے استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ ”اپریل فول“ گھر فون کر کے نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ استادِ محترم کے ساتھ کھیل کھیلا گیا ہے۔ بہرحال پندرہ بیس منٹ بعد ہم تینوں سینما کے یخ بستہ ہال میں بیٹھے ”منڈا بگڑا جائے“ دیکھ رہے تھے۔

یکم اپریل لگ بھگ ساری دنیا میں ہلکی پھلکی مذاق کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ایک تہوار کے طور پر کسی بھی ایسی قسم کی مذاق یا جھوٹ، جس سے کسی کو جانی یا مالی خطرہ لاحق نہ ہو اور کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلا جائے، یا کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے کی اجازت دی جاتی ہے۔ مذاق کا نشانہ بننے والوں کو مزاح کے طور پر ”اپریل فول“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مذاق آپ دوستوں، رشتہ داروں اپنے پیاروں سے کر سکتے ہیں۔ یورپی ممالک میں تو کئی اخبارات یا رسائل بھی اس دن کوئی ایسی من گھڑت کہانی شائع کردیتے ہیں، جس میں وہ لوگوں کو من حیث القوم الو بناتے ہیں۔ اور اس کی وضاحت اگلے دن کے اخبار میں یا اسی اخبار میں کہیں چھوٹے سائزکے چوکھٹے میں کر دی جاتی ہے۔

ایلکس بلوز نے لوگوں کہ جھانسا دینے، مذاق کرنے کے لحاظ سے بات کی ہے اور ان کے مطابق ہمیں ”اوریجن آف اپریل فول“ کے ثبوت سولھویں صدی کے آس پاس نظر آتے ہیں۔ کیرل پوسٹر اور رچرڈز اٹز، چاسرز کینٹربری ٹیلز (1392ء) کی ”ایک نن کی کہانی“ کا حوالہ دیتے ہیں، جس میں کاتب غلطی سے ”مارچ کو گئے بتیس دن یعنی 2 مئی“ کو ”مارچ کے بتیس دن“ لکھتا ہے، جس سے قارئین اسے ”یکم اپریل“ سمجھ کر غلطی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گریگورین کلینڈر کے مکمل طور پر تشکیل پانے سے قبل جولیس سیزر اور اس کے بعد کے حکمرانوں میں سال کے آغاز پراختلاف رہتا تھا۔ کہیں کلینڈر کا آغاز یکم جنوری سے ہوتا اور کہیں 25 مارچ سے۔ جو لوگ 25 مارچ کو سال کا آغاز کرتے تھے وہ ایک ہفتہ یعنی یکم اپریل تک چھٹی مناتے۔ اب دوسری طرف یکم جنوری پہ سال کا آغاز کرنے والے ان لوگوں کا مذاق اڑاتے اور انہیں ”اپریل فول“ کہہ کر بلاتے۔

یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں اپریل فول سے متعلق مختلف روایات ہیں۔ کہیں کہیں اسے ایک تہوار کی حیثیت تو حاصل ہے لیکن کہیں بھی اس سلسلے کی تعطیل کا رواج نہیں۔ اٹلی اور فرانس میں عموما کسی کاغذ پر کوئی مزاحیہ جملہ یا لفظ لکھ کر یا پھر کاغذ کی مچھلی بنا کر نہایت خاموشی اور احتیاط سے کسی شخص کی کمر یا پیٹھ سے چپکا دیا جاتا ہے۔ جب تک اسے علم نہ ہو وہ پاس سے گذرتے لوگوں کی ہنسی، مزاحیہ جملوں یا اشاروں کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ جب اسے خبر ہوجائے تو اس پر ”اپریل فول“ کی پھبتی کسی جاتی ہے۔

اپریل فول کا تعلق کسی طور پر کسی مذہب یا کسی دینی نظریہ سے نہیں ہے۔ ٹیکسٹ میسج کلچر رواج پانے کے بعد، کسی من گھڑت کہانی کو ترتیب دے کر یا کسی جھوٹ کو بہت آسانی سے پھیلایا جاسکتا ہے؛ جیسا کہ آج کل کچھ کہانیوں کو ”وٹس ایپ“ وغیرہ کے ذریعے عام کیا جارہا ہے۔ اگر آپ اس رسم کے مخالف ہیں اور لوگوں کو اس کے مضمرات سے بچانا چاہتے ہیں، تو آپ اس کے منفی اور مضر اثرات پر بات کر سکتے ہیں۔ آپ اس کے نتیجے میں پیش آنے والے نقصانات کا حوالہ دے سکتے ہیں، لیکن اس سے بغض رکھنے کے لیے جھوٹ اور وہ بھی مذہب کے نام پر؛ یقینا یہ زیادتی کی بات ہے۔

آج کل کے اس تناؤ بھرے ماحول میں جہاں ایک طرف لوڈ شیڈنگ، تو دوسری طرف مہنگائی بانھیں کھولے کھڑی نظر آتی ہیں۔ دہشت گردی نے ماحول کو آلودہ کر رکھا ہوا ہے، باغات اور سینما جیسی تفریحات عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں، وہاں کم از کم ہنسی مذاق مسکرانے کھلکھلانے کو زندگی کا حصہ رہنے دیا جانا چاہیے۔ ہلکے پھلکے مزاح سے ذہنی تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے اور مزاج پہ بھی خوش گوار اثرات پڑتے ہیں۔ حدود و قیود میں رہ کر ایسے مذاق جن سے کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو، کی اجازت دی جانی چاہیے۔ اسی طرح اس دن کیے جانے والے ہلکے پھلکے مذاق کو رسمِ دنیا سمجھ کر برداشت کرنا اور اس سے لطف اٹھانا ہر کسی کی ذہنی صحت کا باعث بن سکتا ہے۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ محمد رفیع بہت عرصے پہلے کیا خوب گنگنا گئے ہیں کہ:

اپریل فول منایا
ان کو بڑا غصہ آیا
اس میں میرا کیا قصور
زمانے کا قصور
جس نے دستور بنایا!

Comments - User is solely responsible for his/her words