پاکستان میں تمباکو نوشی کا خاتمہ

تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت کے سب سے اہم چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ایک اندازے مطابق ملک میں دو کروڑ چالیس لاکھ ( 24 ملین) سے زیادہ بالغ افراد مختلف شکلوں میں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کو تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا ہے۔ ان بیماریوں میں پھیپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماری اور پھیپھڑوں کے افعال میں دائمی رکاوٹ (سی او پی ڈی) شامل ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، تمباکو کے استعمال سے پاکستان میں سالانہ 160,000 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، حالاں کہ یہ اموات قابل بچاؤ ہیں۔ تمباکو نوشی کے خاتمے کی کوششوں کے باوجود اس کا پھیلاؤ، خاص طور پر مردوں میں، زیادہ ہے، 19.1 فیصد بالغ آبادی تمباکو نوشی کرتی ہے۔ تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے پاکستان کو ایک کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس کے تحت نہ صرف تمباکو نوشی چھوڑنے کے روایتی طریقوں پر زور دیا جائے بلکہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن (تمباکو کے نقصانات میں کمی لانا) جیسے نئے طریقوں سے بھی استفادہ کیا جائے۔
سن 2014 کے گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (جی اے ٹی ایس) کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 15 ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں 12.4 فیصد بالغ افراد سگریٹ پیتے ہیں جبکہ 7.7 فیصد بغیر دھوئیں کے تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ قابل تشویش بات یہ ہے کہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ 13 سے 15 سال کی عمر کے 13.3 فیصد طلبہ تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح تمباکو نوشی کا مالی بوجھ بھی حیران کن ہے۔ تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں اور استعداد کار میں کمی کی وجہ سے ملک کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
پاکستان نے تمباکو نوشی سے نمٹنے کے لیے مختلف قسم کے اقدامات اٹھائے ہیں، جیسے سگریٹ کے پیکٹ پر ہیلتھ وارننگ کا نفاذ، عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی اور تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ شامل ہیں۔ بہرحال، صرف ان اقدامات سے سگریٹ نوشی کی شرح میں نمایاں طور پر کمی لانے میں کامیابی نہیں ملی، یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ اب ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، جس کے تحت تمباکو نوشوں کو سگریٹ کا استعمال چھوڑنے کے تمام دستیاب آپشن استعمال کرنے کا موقع دیا جائے۔ ان میں روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سے بھی استفادہ کیا جائے۔
سگریٹ نوشی ترک کرنے کے روایتی طریقوں میں رویے کی تبدیلی، نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی اور نسخے پر دستیاب دوائیاں شامل ہیں۔ یہ طریقے بہت سے لوگوں کے لیے بہت موثر ثابت ہوئے ہیں اور پاکستان میں تمباکو نوشی ترک کرنے کی کوششوں کا بھی اہم حصہ رہے ہیں۔
رہنمائی اور سپورٹ گروپس سگریٹ کی طلب کے محرکات کی نشاندہی، اثرات سے نمٹنے کے طریقے اور سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے آمادہ رہنے میں تمباکو نوشوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو چاہیے کہ وہ صلاح مشورے کی مفت یا کم خرچے والی خدمات تک لوگوں کی رسائی بڑھائیں۔
نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی کی مصنوعات سگریٹ نوشی چھوڑنے کی کوشش کے دوران سگریٹ کی طلب سے نمٹنے کے لیے ایک خاص مقدار کے ساتھ نکوٹین فراہم کرتی ہیں۔ ان مصنوعات میں نکوٹین گم، پیچز اور لوزینجز شامل ہیں جو بڑے پیمانے پر تو پاکستان میں دستیاب ہیں مگر آگہی کی کمی اور مہنگی ہونے کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔ ویرنسلین (varenicline) اور بیوپروپیان (bupropion) بھی سگریٹ نوشی چھوڑنے کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کر سکتے ہیں مگر یہ دوائیاں اکثر مہنگی ہوتی ہیں اور زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ ناقابل رسائی ہوتی ہیں۔
اگرچہ یہ طریقے کارآمد ہیں مگر یہ سب کے لیے کارآمد نہیں ہیں۔ بہت سے افراد کئی بار کوشش کرنے کے باوجود بھی اپنی اس عادت پر قابو پانے کی جدوجہد میں ناکام رہتے ہیں، جس سے متبادل طریقے استعمال کرنے کی ضرورت محسوس اور اُجاگر ہوتی ہے۔
ٹوبیکو ہارم ریڈکشن (تمباکو کے نقصان میں کمی لانا) صحت عامہ کی ایک حکمت عملی ہے جس کا مقصد سگریٹ کے محفوظ متبادل فراہم کر کے سگریٹ نوشی سے منسلک صحت کے خطرات میں کمی لانا ہے۔ یہ متبادل مصنوعات نقصان دہ کیمیائی مادوں کے بغیر ہی نکوٹین فراہم کرتی ہیں، جو انہیں کم نقصان دہ یا محفوظ بناتی ہیں۔ ان مصنوعات میں الیکٹرانک سگریٹ (ای سگریٹ) اور ہیٹڈ ٹوبیکو پروڈکٹس (مصنوعات کی وہ قسم جس میں تمباکو کو گرم تو کیا جاتا ہے مگر جلایا نہیں جاتا) شامل ہیں۔ گو کہ یہ مصنوعات مکمل طور پر خطرے سے پاک نہیں ہیں، مگر یہ ریگولر سگریٹ کے مقابلے میں کافی حد تک کم نقصان دہ ہیں۔ ان مصنوعات کی مدد سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے خود کو سگریٹ نوشی سے بچایا ہے۔
تمباکو نوشی کی شرح میں کمی لانے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود پاکستان میں ان مصنوعات کو نمایاں طور پر مخالفت کا سامنا ہے۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ ان مصنوعات سے تمباکو نوشی عام ہو سکتی ہے اور ان سے تمباکو کا استعمال نہ کرنے والے افراد کو نکوٹین کی عادت پڑ سکتی ہے۔ بہرحال، برطانیہ اور جاپان جیسے ممالک میں یہ مصنوعات بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں پائے جانے والے خدشات بڑی حد تک بے بنیاد ہیں۔ ان مصنوعات نے تمباکو نوشی کی شرح میں کمی اور صحت عامہ کے بہتر نتائج دیے ہیں۔
تمام تمباکو نوش صرف روایتی طریقوں کی مدد سے اپنی اس عادت پر قابو نہیں پاتے یا بہت سے تمباکو نوش ان کے ذریعے سگریٹ نوشی ترک کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ہارم ریڈکشن ان لوگوں کو جنہوں نے متعدد بار سگریٹ چھوڑنے کی ناکام کوشش کی ہو، ایک اور طریقہ استعمال کرنے کا موقع دیتا ہے۔ تمباکو نوشوں کو کم نقصان دہ متبادل مصنوعات پر منتقل ہونے کی ترغیب دی جائے تو پاکستان سگریٹ نوشی سے ہونے والی بیماریوں اور اموات میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی کی کم شرح سے صحت کا مالی بوجھ کم ہو گا اور لوگوں کی استعداد کار بڑھے گی، جس سے مجموعی طور پر ملک کی معیشت کو فائدہ ہو گا۔
مناسب قواعد و ضوابط بنانے اور لوگوں کو متبادل مصنوعات کے بارے میں آگہی دینے سے ان سے منسلک خطرات میں کمی آئے گی۔ مثال کے طور پر کم عمر افراد کے لیے ان تک رسائی روکنے اور سیفٹی معیار مقرر کیا جائے تو نوجوانوں میں ان کے استعمال کے خدشات دور کئے جا سکتے ہیں۔
تمباکو نوشی پر موثر طریقے سے قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی، نسخے پر ملنے والی ادویات اور صلاح مشورے کی سہولیات کی فراہمی ارزاں داموں یقینی بنائی جائے۔
ای سگریٹ اور ہیٹڈ ٹوبیکو پروڈکٹس کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مصنوعات کی حفاظت کو یقینی اور کم عمر افراد تک ان کی رسائی کو محدود کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ نکوٹین کی مختلف مصنوعات سے منسلک خطرات اور کم نقصان دہ مصنوعات پر منتقل ہونے کے بارے میں لوگوں کو آگہی فراہم کی جائے۔
پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے ایک جامع اپروچ اپنانے کی ضرورت ہے جس کے تحت تمباکو نوشی چھوڑنے کے روایتی طریقوں اور ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سے استفادہ کیا جا سکے۔ پاکستان، ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کو اپنائے تو وہ تمباکو نوشوں کو اپنی اس عادت کو چھوڑنے کے لیے تمام دستیاب آپشن سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے گا۔ جس کے نتیجے میں تمباکو کے استعمال کے صحت اور معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات یا بوجھ میں کمی آئے گی۔ یہ پالیسی سازوں، ماہرین صحت اور عوام کے لیے صحیح وقت ہے کہ وہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی صلاحیت کو پہچانیں اور سگریٹ نوشی سے پاک مستقبل کی جانب جرات مندانہ اقدامات اٹھائیں۔

