ہوائی جہاز میں


naseer ahmad

ہوائی جہاز تک پہنچتے پہنچتے تک جو ہوا سو ہوا لیکن جونہی جہاز میں داخل ہوئے تو یوں لگا کہ جوزف کونراڈ کے ناول لارڈ جم والے حاجیوں کے جہاز میں آ گئے ہیں، بس فرق اتنا ہے یہ والا ہوائی ہے۔

اپنی نشست تک پہنچے تو وہاں آب گینوں سی بزرگی بیٹھی تھی اور ہم سوچنے لگے کہ اگر ان کے ساتھ بیٹھ گئے تو یہ تو ہم جو کبھی ہڑبڑا کر اور کبھی بوکھلا کر اور کبھی سوتے میں کہنی زنی اور لات بازی کرنے لگتے ہیں یہ آب گینے تو اسے سہ ہی نہیں پائیں گے۔ پھوٹ بہیں گے۔ اس لیے کوئی اور نشست ڈھونڈتے ہیں۔

وہ بزرگ بھی ہمیں ساتھ بٹھانے میں اتنی دل چسپی نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے ہماری نشست پر پرانے مافیا کے ڈانوں والا بریف کیس رکھا ہوا تھا۔

اتنے میں لارڈ جم آ گئے۔
ایکسکیوز می، یہ میری سیٹ ہے۔
لارڈ جم نے بات کاٹ کر کہا۔
میں تو کسی سینئیر سٹیزن کو تکلیف نہیں دے سکتا۔ نا ممکن۔
ہم نے کہا
تم لبرل تو نہیں ہو؟
وہ کیوں؟

وہ اس لیے تم نے انسانی حقوق کے بارے میں نیک جذبات کا اظہار تو کر دیا ہے اور اس سے تمھارے من کو ٹھنڈک پہنچ گئی ہے لیکن مسئلہ تو سنا ہی نہیں۔ ہم بھی بزرگوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ لیکن بیٹھنا تو ہم نے بھی کہیں ہے ناں۔ تو ہمیں کوئی اور جگہ دے دلا دو۔

جہاز تو کھچا کھچ بھرا ہے۔
تم تو واقعی لبرل ہو۔
ھاھاھا، سوری میں کرتا ہوں بات۔
بات ہوئی تو انگریزی اور اردو میں صلح ہمیں ہی کرانی پڑ گئی۔

اور کچھ جگہ بن گئی اور ہم بھی اس بات کے لیے تیار ہو گئے کہ بزرگوں کی خدمت کرنی پڑے گی۔ اور ہم بزرگوں کی خدمت کرنے لگے۔

بزرگوں کی خدمت کر رہے تھے کہ ساتھ والی نشست سے دو بچوں کی اکیلی ماں بھی فرمائشیں کرنے لگیں
کہ بھائی بستہ خانے سے یہ گلابی سا بستہ تو اتار دیں۔
اب شاپنگ بیگ اتار دیں۔
سفر کتنا رہ گیا ہے؟
فرش سے لفافہ تو اٹھا دیں۔

ہم دل میں سوچنے لگے کہ کہہ تو بھائی رہی ہیں اور کام شوہروں والے لے رہی ہیں۔ اور ہم تو اس معاملے میں ایک لمبی رخصت پر ہیں۔ یہ تو ہم سے نہیں ہو گا۔ اور سلیقے سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ اس سفر میں مسافر نواز موجود ہیں اور اسی کام کے پیسے لیتے ہیں۔ لیکن کون سنتا ہے؟

انھیں حاجیوں کے اس جنگل میں بھائی ہی انسان لگے۔ اور بھائی کی انسانیت جہاز سے بھی اونچا اڑنے لگی اور وقت رخصت انھیں سامان کی ریڑھی ڈھونے والوں کے لیے پاکستانی روپے بھی دے دیے کہ کہیں بھائی سے ریڑھی بھی نہ ڈھلواتی پھریں۔ ادھر یہ ہوں گی، ادھر بزرگ ہوں گے اور ہم کس کس سنبھالیں گے۔

سنبھالنے پر اپنے سفری کاغذات یاد آ گئے۔ جیب تھپھتھپائی تو معلوم ہوا کہ سفری کاغذات تو جیب میں ہیں ہی نہیں۔ پہلے تو بڑے پریشان ہوئے کہ ہم نے تو اپنا فردا ہی برباد کر دیا ہے لیکن پچھلے تجربے یاد آئے۔ اور ان تجربات کی روشنی میں پانچ چھ سیٹوں کے نیچے سے سفری کاغذات بر آمد کر ہی لیے۔

بزرگوں کی خدمت کی وجہ سے آدھے جہاز کا سینی ٹائزر بھی استعمال کرنا پڑا کہ کہیں ہماری وجہ سے دوران پرواز ہی روح جسم سے گردوں کی طرف نہ سدھار جائے۔

دوا کھانی ہے، بریف کیس اتارو،
چائے پینی ہے، بریف کیس اتار دو۔
یہ بتاؤ کہ یہ ٹرکی سینڈوچ حلال ہے؟
ہم خود ٹرکی سینڈوچ ڈاف چکے تھے۔ اس لیے ہم نے تو حلال ہی کہنا تھا۔
مگر یہ بتاؤ یہ ٹرکی ہوتا کیا ہے؟
ارے انکل یہ زبان یار والا اور ارطغرل والا ٹرکی نہیں ہے۔ یہ اولڈ ٹرکی بزرڈ والا ٹرکی ہے
وہ کیا ہوتا ہے؟
موت کا منتظر بوڑھا بیمار پرندہ؟
تم تو بہت بد تمیز ہو۔

ارے نہیں انکل، تھوڑا بہت ہنسی مذاق اچھا ہوتا ہے ناں اور پھر پچھلے دنوں ہی تو وہ کہہ رہے تھے کہ تمھارا تو یہ حال ہے کہ بندہ جائے تو جائے فقرہ نہ جائے۔

وہ کون ہیں؟
آپ نہیں جانتے۔
اچھا، ہم مجھے اب اورینج جوس پینا ہے، بریف کیس اتار دو۔

اصل میں کسی سگھڑ سیانی نے ان کی چیزوں کی پیکنگ کی تھی۔ اس لیے ان کے استعمال کی اشیا بمع ہدایات ان کے بریف کیس میں پڑی ہوئی تھیں۔ ہمارا اپنا بھی یہی حال تھا اس لیے اس معاملے میں ہم ان کے ہمدرد تھے۔

اتنے میں وہ سگھڑ سیانی آ گئی۔
نانا ابو، یہ پران سینڈوچ ہے، اور یہ انڈے کا۔ کون سا لیں گے؟

نانا ابو کے لیے انتخاب مسئلہ بن گیا۔ ہم تو پران کو منتخب کر لیتے لیکن نانا ابو نے کوئی دس پندرہ منٹ کے بعد انڈے کے حق میں فیصلہ کر دیا۔

اور ہم سگھڑ سیانی کے مخالف ہو گئے۔

دیکھو اس فنکارہ کو، نانا ابو کی اس وقت خبر لینے آئی ہے جب نانا ابو کا نزع کا عالم ہمارے سر پر سوار ہو گیا ہے۔ اب اسے کہنے ہی لگے تھے کہ تم اپنی محبت واپس لے لو مگر پھر یاد آیا کس کس کو اپنی محبت لوٹانے پر مجبور کرتے رہیں گے، اس بے چاری کی بھی کوئی مجبوری ہی رہی ہو گی۔ یہ سب ہوتا رہا اور گرد و پیش میں وہ غل غپاڑہ برپا تھا کہ گردوپیش سے بھی غافل ہونا مشکل نہیں تھا۔

دو تین خواتین سے چار پانچ بچے نہیں سنبھالے جا رہے تھے۔ جاتے ہوئے ہم جدید لوگوں کے مخالف تھے کہ اگر کوئی نقش فریادی ہو جائے تو یہ لوگ ایسے ایسے منہ بناتے ہیں اور ایسے ایسے جیسچرز دیتے ہیں کہ بے چاری ماں تو نسل کشی کی مجرم بن جاتی ہے۔ کتنی بری بات ہے۔ لیکن اس شور میں ہم جدید لوگوں کے حامی سے ہو گئے کہ کم از کم بچوں اور کتوں کو سنبھالنے کا سلیقہ تو انھیں آتا ہے۔ بہرحال ایک توازن تو ہونا چاہیے۔ تھوڑا بہت سلیقہ شعاری بھی ماحول کو بہتر رکھتی ہے۔

اور پھر وہ گئے گزرے شرابی۔ سفر میں وہ شرابیں شرابوں میں ملا رہے تھے جو شب ہائے بیرون میں بھی سلیقہ شعار شرابی نہیں ملاتے۔ وائن کے ساتھ کچرا وسکیاں سیون اپ اپ وغیرہ میں گھل رہی تھیں۔ اعلی و سکیاں کچرا وسکیوں میں مل رہی تھیں۔ دو چار شیشیوں میں ہی نتائج سامنے آنے لگے۔ گئی گزری گفتگو کے ساتھ مسافر نوازوں کے سامنے بیاں پھڑت ہوں، پیاں پڑت ہوں بھی چل رہا تھا۔ لیکن مسافر نواز سیانے تھے، جان گئے کہ یہ رند نہیں ہیں، اس لیے ان کی رسد منقطع کر دی۔ مگر شرابیوں کو ہوش آئے ہی نہیں۔ گری پڑی باتیں کرتے رہے، اور شراب مانگتے رہے۔ شاید ٹی وی اینکر بھی ایسی ہی نشہ بازی کر کے سکرین کے سامنے آتے ہیں۔

بہرحال یہ سفر تمام ہو گیا، بزرگ بھی سلامت رہے، ہم بھی سلامت رہے اور لارڈ جم کو بھی کوئی خفت نہیں اٹھانی پڑی۔ اور بہنا کے پاس بھی بچے کھینچنے والے پٹے تھے اس لیے انھیں بھی کوئی دقت نہیں اٹھانی پڑی۔ اور شرابیوں کو بھی مسافر نوازوں نے ڈیل کر ہی لیا۔ اور

افروختن، سوختن و جامہ دریدن کی نوبت نہ آئی۔

ایسے ہی ہے، اپنے لوگ ہیں اور ٹھان رکھی ہے کہ اچھی توقعات، تہذیب، انفرادیت اور امن و سکون کا خاتمہ بہر حال کریں گے،

اور گانے بھی تو ہیں
میں تو کھیلوں گی، میں تو چھیڑوں گی،
بستی اجڑتی ہے تو اجڑ جائے۔

Facebook Comments HS