کتاب ”استعمار کی نفسیات“ اور بلاسفیمی ہتھیار کی سمجھ بوجھ
ڈاکٹر اختر علی سید نے اپنی کتاب ”استعمار کی نفسیات“ میں سوچنے کے بہت مواقع مہیا کیے ہیں۔ انہوں نے پوری کتاب میں جا بجا بہت سوالات اٹھائے ہیں اور غور و فکر کو دلچسپ اور کارآمد بنانے کے لیے بہت مواد بھی پیش کیا ہے۔ اور یقین مانیں سوچنے کی ضرورت بھی شاید ہی اتنی پہلے کبھی تھی۔
”لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن لاہور مورخہ 15 مارچ 2025 ء بروز ہفتہ بوقت 4 : 00 بجے تا افطاری پروگرام یوم تحفظ رسالت ﷺ منعقد کر رہی ہے۔ آپ کو مذکورہ پروگرام میں خصوصی خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ شرکت فرما کر مشکور فرمائیں۔“ یہ دعوت نامہ برائے خصوصی خطاب ”محترم جناب حافظ سعد حسین رضوی صاحب مرکزی امیر تحریک لبیک پاکستان“ کے لیے تھا۔
خصوصی خطاب کے اس دعوت نامے کی ”ٹائمنگ“ بھی کمال کی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بلاسفیمی بزنس گینگ ایک سے زیادہ معتبر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور قابل اعتبار شخصیات کے ہاتھوں باقاعدہ طور پر ”بسٹ“ ہو چکا ہے۔ مبینہ طور پر (احتیاطاً مبینہ لکھا ہے ) یہ گینگ ایک وکیل، ایف آئی کا افسر اور ہائی کورٹ کا ایک جج (اب مستعفی ہو چکا ہے ) چلاتے ہیں۔ اس گینگ کا مقصد بھی باقی مافیاز کی طرح لوٹ مار ہی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ یہ گینگ سادہ لوح نوجوانوں کو پہلے پھانسنے اور پھر دھمکانے کے لیے بندوق کی بجائے ہنی ٹریپ اور بلاسفیمی کے جھوٹے الزام کا استعمال کرتا ہے۔
اس بات کا تو کوئی اندازہ نہیں کہ یہ گینگ کتنے لوگوں کو لوٹ چکا ہے اور کتنا مال بنا چکا ہے لیکن یہ حقیقت اب کسی سے چھپی نہیں کہ جو نوجوان لوگ اس گینگ کے جال میں پھنسے اور پھر اسے منہ مانگی رقوم نہیں دے سکے وہ بلاسفیمی کے جھوٹے الزام میں جیلوں میں سڑ رہے ہیں، ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان کے خاندان برباد ہو گئے ہیں اور اپنے بچوں کو چھڑانے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
بلاسفیمی کے جھوٹے الزام پر ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ انسانوں کے قتل نے ایک طرف تو پاکستان کا چہرہ داغ دار کر دیا ہے تو دوسری جانب ٹی ایل پی جیسے ہجوم کو اچھے بھلے ووٹ بنک والی سیاسی پارٹی بنا دیا ہے۔ اس مسئلے نے ہماری پہلے سے نہایت کھوکھلی اور کمزور جمہوریت کا مستقبل اور بھی زیادہ تاریک کر دیا ہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کیونکہ پاکستان کا مستقبل بھی جمہوریت ہی کے ساتھ جڑا ہے۔
بلاسفیمی کے الزام پر سیاست کرنے کا معاملہ بہت اہم اور گمبھیر ہے۔ یہ مسئلہ کہاں سے آتا ہے اس کی سمجھ بہت کم لوگوں کو ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے جس تنقیدی سوچ کی ضرورت ہے، پاکستانی جمہور اور اشرافیہ دونوں ہی اس سے خالی ہیں۔
ڈاکٹر اختر علی سید صاحب کی کتاب ”استعمار کی نفسیات“ اس گنجلک مسئلے کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ پاکستان میں توہین مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کا تجزیہ کرنے کے لیے درج ذیل چار اہم نقاط کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی ہے۔ پولیس اور عدلیہ نہ صرف ان واقعات کو روکنے میں ناکام رہی بلکہ بعض اوقات ان کے رویوں سے تشدد کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔
یہ مذہی طبقے کی ناکامی ہے۔ مذہبی رہنما اس مسئلے پر یکساں اور واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں شدت پسندی فروغ پاتی ہے۔
ڈاکٹر اختر علی سید صاحب کا استدلال یہ بھی ہے کہ لبرل اور سیکولر طبقے کا ردعمل کچھ مددگار ثابت نہیں ہوا۔ وہ اس مسئلے کو مذہب پر تنقید کے لیے استعمال کرتے ہیں حالانکہ سماجی اور سیاسی عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر انڈیا میں گائے کی ”توہین“ پر تشدد کیوں ہوتا ہے؟ ایران اور عرب ممالک میں بلاسفیمی کے الزام کا ہتھیار کیوں نہیں استعمال کیا جاتا؟ یہ اہم سوالات ہیں۔
پاور سنٹر کا کردار بہت اہم ہے۔ اصل ذمہ دار ریاستی طاقت کے مراکز ہیں جو جان بوجھ کر تفرقے کو ہوا دیتے ہیں تاکہ اپنا کنٹرول رکھ سکیں اور سیاست دان ان کی ”نافرمانی“ کا کبھی سوچ بھی نہ سکیں۔
ڈاکٹر صاحب ایک ماہر نفسیات ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب ”استعمار کی نفسیات“ میں پاکستان کو درپیش سماجی، مذہبی اور سیاسی مسائل کا تجزیہ نفسیاتی حوالے سے کیا ہے۔ یہ کتاب انتہا پسندی، دہشت گردی، بلاسفیمی کا الزام، سیاست، جنس اور جرائم اور ہمارے اخلاقی اور فکری دیوالیہ پن کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔
اس کتاب کا مطالعہ پاور سنٹر کو شک کی نگاہ سے دیکھنے اور اپنے لوکل استعمار کو پہچاننے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ پاور سنٹر کے مفادات کا درست اندازہ لگانا اور اس کے پارٹنرز کو پہچاننا درست سمت میں ہمارا پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر اختر علی سید صاحب پاکستان کے مسائل کو ایک سائنسی انداز میں پیش کرنے کی نہایت کامیاب کوشش پر ہم آپ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔


