مرد حضرات کے ہاتھوں عورتوں کا قتل
صبح صبح اٹھ کر اخبار کھولو تو زیادہ تر بری خبریں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ آج صبح بھی ایسی ہی چند خبریں پڑھنے کو ملیں اور دن بھر کوشش کرتی رہی کہ ان کے بارے میں نہ سوچوں لیکن رات گئے رہا نہیں گیا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گئی۔ پہلی خبر تو یہ تھی کہ کراچی میں ملیر کورٹ کے باہر ایک صاحب نے اپنی بیوی کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا، بیٹی نے ماں کو بچانے کی کوشش کی تو اسے بھی زخمی کر دیا۔ خاتون شوہر سے طلاق لینے عدالت آئی تھی۔ دوسری خبر کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں سابقہ شوہر کے ہاتھوں ایک عورت کے قتل کی تھی۔ مقتولہ تین سالہ بچی کی ماں تھی۔ تیسری خبر سکھر کی تھی جہاں ایک صاحب نے شادی سے انکار پر ایک لڑکی کو گولی مار کے زخمی کر دیا، اور اس کے انکل (انگریزی میں چچا اور ماموں کے لئے الگ لفظ نہیں) کو ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔
ایسے واقعات دنیا میں اور جگہوں پر بھی ہوتے ہیں لیکن وہاں ان کے اسباب و علل پر تحقیق بھی ہوتی ہے۔ کچھ امریکی یونیورسٹیوں کی تحقیق کے مطابق اس طرح کے قتل کے واقعات سے پہلے بھی اس طرح کے مرد عورتوں کو گھریلو تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ گھروں میں اسلحہ کی موجودگی، لڑائی جھگڑے یا سوتیلے بچے کی موجودگی بھی اس طرح کے واقعات کا سبب بنتی ہے۔ مالی پریشانیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اکثر بے روزگار مرد جو پہلے بھی گھریلو تشدد کرتے رہے ہوں، اس طرح کے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
پاکستان میں اس طرح کے واقعات پدرسری ذہنیت اور مردوں کی انا کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ مردانہ حاکمیت والے ہمارے معاشرے میں مرد تو جب چاہے طلاق کے تین بول کہہ کے عورت کو گھر سے نکال سکتا ہے لیکن اگر عورت اس سے طلاق لینے کے لئے عدالت کا رخ کرے تو اسے چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس طرح کے واقعات عام نہیں لیکن ایک واقعہ بھی اگر ہوا تو کیوں ہوا؟
مرد سے عورت کا انکار کیوں برداشت نہیں ہوتا؟ ظاہر ہے اسے بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ وہ برتر ہے اور عورت اس سے نچلے درجے کی مخلوق ہے۔ اور ایک دن وہی مخلوق جب اس کی خواہشات پوری کرنے سے انکار کر دیتی ہے، اس کے مقابلے پر آ کے کھڑی ہو جاتی ہے تو وہ مرد جس نے بچپن میں اپنے باپ کو اپنی ماں کو مارتے پیٹتے دیکھا ہوتا ہے، اس خودسری کو برداشت نہیں کر پاتا اور اس عورت کی جان لے لیتا ہے۔ ظاہر ہے اس طرح کے واقعات کے بارے میں کوئی ایک بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ ان کے پیچھے کئی طرح کے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ پدر سری کے ساتھ طبقاتی فرق، تعلیم کا فرق، شہری یا دیہاتی پس منظر بھی آپ کے رویے طے کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں پچاسی ہزار عورتوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان میں سے ساٹھ فی صد یعنی 51,100 عورتیں اپنے شوہروں یا خاندان والوں کے ہاتھوں ماری گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر روز 140 عورتیں یا لڑکیاں اپنے شریک حیات یا قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر دس منٹ میں ایک عورت یا لڑکی قتل ہوتی ہے۔
عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد ناگزیر یا لازمی نہیں ہے بلکہ اس کی روک تھام ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے قوانین بنائے جائیں، تشدد کو ہرگز برداشت نہ کرنے کی ثقافت کو پروان چڑھایا جائے۔ اور عورتوں کے حقوق کی تنظیموں اور اداروں کی اعانت کی جائے۔ عورتوں کے قتل کے واقعات کے پیش نظر اپنے کریمنل جسٹس سسٹم کو مضبوط بنانا ضروری ہے تا کہ قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے اسی لئے صنفی تعصبات، طاقت کے عدم توازن اور ضرر رساں رسوم و رواج کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق 2024 میں بھی پاکستان میں غیرت کے نام پر عورتوں اور لڑکیوں کو قتل کیا جاتا رہا۔ ایک مرد نے اپنی ماں سمیت گھر کی چار عورتوں کو ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر قتل کر دیا۔ ایک بھائی نے اپنی شادی شدہ بہن کے کردار پر شک کی بنا پر قتل کر دیا۔ پانچ بچوں کی ماں غیرت کے نام پر شوہر اور دیور کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔ آئے دن ہمیں اس طرح کی خبریں پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ معاملہ صرف پاکستان کا نہیں ہے۔ گارجئین کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر تین دن میں ایک عورت کسی مرد کے ہاتھوں قتل ہوتی رہی ہے۔ افریقہ میں عورتوں کے قتل ہونے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر جگہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی اپنے شوہروں یا شریک حیات اور رشتہ داروں کے ہاتھوں ہی قتل ہوتی ہیں یا تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔
یو این ویمن کے مطابق تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کی مدد کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ان کی بات سنیں اور ان پر یقین رکھیں۔ نئی نسل کو سکھائیں اور ان سے سیکھیں۔ ایسی عورتوں کے لئے شلٹرز، ہیلپ لائن اور کونسلنگ سروسز کا انتظام کیا جائے۔ مردوں کو سکھایا جائے کہ عورتوں کی مرضی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم ریپ کلچر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

