کم فیس والے اسکولوں کے امیر ترین مالکان
وہ والدین جو کم آمدنی کے حامل ہیں، لیکن اپنے بچوں کو اچھی تعلیم اور تربیت دینے کے خواہش مند ہیں اور خود بھی پڑھے لکھے نہیں کہ بچوں کو خود پڑھا سکیں، انہیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں پڑھائیں۔ میٹرک سسٹم کے ایسے پرائیویٹ اسکول جہاں فیس نہایت کم ہے، وہ ایسے اساتذہ رکھتے ہیں جن میں اکثر کی تدریسی، تعلیمی اور علمی قابلیت نہایت کم ہوتی ہے۔ وہ دس بارہ ہزار تنخواہ پر بھی راضی ہو جاتے ہیں۔ یا پھر وہ بچیاں جو میٹرک یا انٹر کا امتحان دینے کے بعد رزلٹ کے انتظار میں گھر میں فارغ بیٹھے بور ہو جاتی ہیں۔ وہ تین چار ماہ کے لیے پڑھانے کے لیے اس طرح کے سکول کا رخ کرتی ہیں۔ اچھے اور قابل اساتذہ کچھ تجربہ حاصل کر کے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن طلبا، والدین اور اسکول مالکان کو اس سے ذرا فرق نہیں پڑتا۔ ان کی فائل میں استاد کی پوسٹ کے لیے بے شمار عرضیاں موجود۔ اور بچوں کے مزید داخلوں کے لیے اگلی بلڈنگ زیرِ تعمیر۔ ان اسکولوں کے کمرے تو کشادہ ہوتے ہیں، لیکن دو پنکھے اور ایک کلاس میں، 50 / 60 بچے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک ٹیچر کے لیے اتنے سارے بچوں کو ہینڈل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں ان کو انگیج کرنے کے لیے انہیں سمجھانے پڑھانے کے بجائے صرف لکھوانے کا کام کیا جاتا ہے۔ بچہ کاپی پر کاپی بھرتا رہتا ہے۔ والدین بھی خوش ہوتے ہیں کہ بچہ اسکول میں اتنا سارا کام کرتا ہے۔ انہیں گھر کا کام بھی لکھنے کا ہی دیا جاتا ہے۔ یوں لکھ لکھ کر انہیں پڑھنا بھی آ ہی جاتا ہے۔ اساتذہ کو اونرز کی جانب سے یہ ہدایات دی جاتی ہیں کہ سال میں دو مرتبہ بچوں کو ہر سبجیکٹ کی جو دو کاپیاں ملتی ہیں، ان کا ایک صفحہ بھی سادہ نہیں رہنا چاہیے۔
ان اسکولوں کا بک سٹور اور پبلشر سے گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ فیس گو کہ کم ہوتی ہے لیکن والدین پر خرچ کا بوجھ دو صورتوں میں بڑھ جاتا ہے۔ اسکول کے مونوگرام کے ساتھ ہر سبجیکٹ کی دو ضخیم کاپیاں یا رجسٹر خریدنا اور ٹیوشن لازمی، کیونکہ ڈھیروں ہوم ورک اور کاپیوں میں کیا گیا کام وہ گھر پر نہیں کرا سکتے۔ یہ بچے ٹیوشن پر دو گھنٹہ بیٹھے ہوم ورک کرتے اور رٹا لگاتے رہتے ہیں۔ ٹیوشن پڑھانے والیاں عام طور پر اسی اسکول کی ٹیچر ہوتی ہیں۔
اس قسم کے اسکولوں میں قرب و جوار کی آبادی کے بے تحاشا بچے پڑھتے ہیں۔ ہر پانچ سال بعد اسی علاقے میں اسکول کی ایک نئی بلڈنگ بن جاتی ہے۔ ان کم فیس والے اسکولوں کے مالکان بے تحاشا ملکیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں ہیڈمسٹریس بھی بہت کم سیلری پر اپائنٹ ہوتی ہیں۔ یہ سخت گیر قسم کی ہیڈ مسٹریس، ٹیچرز کے ساتھ انتہائی سنگدلانہ رویہ رکھتی ہیں۔ اسی علاقے سے آنے والی مجبور ٹیچرز بھی اپنی علمی استعداد جانتی ہیں کہ انہیں کسی اچھے سکول میں نوکری نہ ملے گی، یا نوکری مل بھی گئی تو اتنے دور آنے جانے میں ان کا وقت بہت برباد ہو گا۔ اس لیے وہ اس قسم کی ہیڈ اسٹریس، کے جابرانہ سلوک برداشت کرتی ہیں۔ (گویا ہیڈ مسٹرس نہیں ہیڈ اسٹریس) ان اساتذہ کی ایک اور مجبوری یہ ہوتی ہے کہ ان کے بچے بھی اسی اسکول میں کم فیس کی مراعات لے رہے ہوتے ہیں۔ یہ جابر ہیڈاسٹریس، اونر کے لیے قابل قدر ہوتی ہیں۔
ان اسکولوں میں اساتذہ کی علمی اور تدریسی تربیت کے لیے کوئی ورک شاپ نہیں ہوتی۔ چند سینئرز اساتذہ کو چھوڑ کر اکثر ٹیچرز کو موسم گرما کی چھٹیوں سے پہلے ہی فارغ کر دیا جاتا ہے۔ ان اساتذہ کی علمی قابلیت چیک کرنی ہو تو ان کا چیک کیا ہوا کوئی امتحانی پرچہ ملاحظہ کیجئے، جن میں انہوں نے غلط جوابات کو بھی درست مارک کیا ہوتا ہے۔ اور ایسے جوابات جو انہوں نے بچوں کو لکھوائے ہوتے ہیں اگر بچوں نے سیم ٹو سیم نہ لکھے ہوں تو انہیں غلط مارک کر دیا جاتا ہے۔ طلبا کی اکثریت اچھے گریڈز لے کر پاس ہوتی ہے۔ والدین بھی خوش، اسکول کا اونر بھی خوش اور اگلے سال داخلوں کی تعداد میں اضافہ۔
نویں اور دسویں جماعت کے اساتذہ کسی گائیڈ سے بچوں کو لکھواتے اور کسی کوچنگ کے بھاری بھرکم نوٹس طلبہ کو تھما دیتے ہیں۔ طلبا کے ٹیسٹ اور امتحانات انہی نوٹس سے لیے جاتے ہیں۔ ان نوٹس میں مشکل زبان کا استعمال ہوتا ہے جنہیں سمجھنا تو دور کی بات، اکثر اساتذہ کو ان کا درست تلفظ بھی نہیں آتا۔ طلبہ ان نوٹس کا رٹا لگا کر اسکول کے جیسے تیسے ٹیسٹ اور امتحانات دیتے ہیں۔ اسکول مالکان کا میٹرک بورڈ آفس میں بھی لین دین چلتا ہے۔ طلبا کی اکثریت اے گریڈ میں پاس ہوتی ہے۔ اس کامیابی کے باوجود میٹرک کرنے کے بعد اکثر طلبا مزید تعلیم جاری رکھنے سے گھبراتے ہیں۔ لڑکیاں شادی کر لینے میں عافیت سمجھتی ہیں، اور لڑکا چھوٹی موٹی نوکری کر لیتا ہے۔
یوں غریب بچوں کا بچپن، ذہانت، اعتماد، شخصیت اور ان کے مستقبل کے ساتھ والدین کے خواب بھی مسخ ہو جاتے ہیں، مگر اس کی پروا کسے ہے۔

