وفاداری بشرط استواری


ہمارے بچپن کی یادوں میں پرائمری جماعت کے درس عمر کے کسی حصے میں بھی فراموش نہیں ہوتے، ان نصابی اسباق میں اکثر سماجی برائیوں کے نقصانات کو سبق یا کہانی کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا، ہمیں سبق کے ذریعے دھوکہ دہی اور جھوٹ کی لعنت سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھی تاکہ ہمارے اندر سماجی تہذیب و شائستگی کے ساتھ سماج کے برتاؤ میں ایماندار رہنے پر ترجیح دی جائے اور ہمیں جھوٹ اور دھوکہ دہی سے دور رکھا جائے، ہماری پرائمری جماعت میں پڑھایا جاتا تھا کہ ”جھوٹ اور غلط بیانی سے پرہیز کرنا چاہیے“ اس ضمن میں ایک چرواہے کا قصہ کہانی کی صورت کچھ اس طرح کا تھا کہ گاؤں کا ایک چرواہا گاؤں کے افراد کو شرارت میں تنگ کرنے کے لئے ایک مذاق کیا کرتا تھا تاکہ لوگ اس کی ہمدردی میں گھروں سے باہر آ جائیں اور اس کی مدد کے لئے جمع ہو جائیں، اس عمل میں اس چرواہے نے ایک روز شور مچانا شروع کیا کہ ”گاؤں والو مجھے بچاؤ کہ شیر آ گیا ہے“ ”اس پر دو مرتبہ پورا گاؤں اس کی مدد کے لئے پہنچا مگر دونوں مرتبہ اس چرواہے نے مدد کے لئے آنے والے گاؤں کے لوگوں کا مذاق اڑایا اور گاؤں کے لوگوں کے خلوص پر اس چرواہے نے پورے گاؤں کا ٹھٹھا اڑایا اور یوں دو مرتبہ گاؤں کے افراد اس چرواہے کے اس مذاق پر مایوس ہو کر وہاں سے چلے گئے اور آئندہ اس کے پکارنے پر توجہ نہ دینے کی ٹھان لی، اسی دوران ایک روز واقعی اس چرواہے کے سامنے شیر آ کر کھڑا ہو گیا، خوف کے مارے چرواہے نے اپنی مدد کے لئے بلند آواز سے چیخ و پکار کی اور مدد کے لئے گاؤں کے افراد کو آوازیں دیتا رہا مگر گاؤں کے لوگ اس کی پکار کو چرواہے کا مذاق سمجھ کر مدد کو نہ آئے اور یوں چرواہے کی جان کے لالے پڑ گئے اور آخر کار جھوٹ اور دھوکے کا انجام شیر کے کھا جانے پر ختم ہوا۔

اب اس مذکورہ سبق یا کہانی کا عکس اگر ہم اپنی آج کی سیاسی ہلچل میں تلاش کریں تو اب ”جھوٹ اور دھوکہ دہی“ کا یہ کھیل اپنے عروج پر ہے، جس نے سیاست کی قدروں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ہیں اور ”جھوٹ و دھوکہ دہی“ کو ایک عقیدے کی شکل دے کر پورے سماج کی بنیادوں کو ”شخصی عقیدے کی بھینٹ چڑھا کر پورے سماج کو کنفیوز یا اپاہج کر دیا ہے، جس میں سچ یا حقیقت کو تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا گیا ہے، جھوٹ و فریب کے اس بیانیے کی شدت اور ایک دوسرے پر بے اعتباری پر بات کرنے سے پہلے اگر ہم اپنی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو وہ کبھی بہت شاندار اور درخشاں نہیں رہی اور نہ ہی ملک کی جمہوری روایات ایسی رہیں کہ ان پر رشک کیا جائے۔

سیاسی جائزے کی روشنی میں 1958 کے بعد فیلڈ مارشل ایوب کی لگائی گئی سیاستدان بنانے کی فیکٹری نے کبھی کام کرنا نہیں چھوڑا، ہاں البتہ ان آمر جنرلوں کے غیر قانونی اقتدار میں اس سیاسی فیکٹری کی پیدائش میں ہمیشہ اضافہ ہی دیکھا گیا، ایوب خان کی فیکٹری سے ذوالفقار علی بھٹو نکلے تو جنرل ضیا الحق کی فیکٹری کی نگرانی میں اس سیاسی فیکٹری سے نواز شریف، الطاف حسین اور عمران خان کی پیدائش ہوئی، جبکہ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ اقتدار میں اس سیاسی فیکٹری نے جنرل ضیا کی فیکٹری کے من پسند سیاستدانوں کو سدھانے اور ان کی نوک پلک سنوارنے میں توانائی لگائی اور جہاں ضروری سمجھا گیا تو پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے لئے پر خطر ہونے والے سیاستدان بے نظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں بھی کوئی تردد نہ برتا البتہ آمر جنرلوں کی اس سیاسی فیکٹری میں تین۔ مارشل لا آمر جنرلوں نے جہاں ممکن ہوا سیاستدانوں کو استعمال کیا اور جہاں ممکن ہوا ان میں سے کچھ سیاستدانوں کو بچائے رکھا، سیاست کے اس غیر جمہوری کھلواڑ میں کم و بیش آمروں کی فیکٹری سے پیدا ہونے والے سیاستدان اپنی اپنی باری پر استعمال ہوئے اور یوں ملک کی جمہوریت اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جاتا رہا جس کا تسلسل آج کی سیاسی فضا میں بھی شد و مد کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

یوں تو اس ملک کی ابتدائی سیاست اور نصاب میں ابتدا ہی سے جھوٹ و فریب اور غلط تاریخی حقائق کا تڑکہ ڈالا گیا، مگر اس زمانے کی سیاسی اور نظریاتی دانش نے ہر سطح پر ریاستی جھوٹ و فریب کو عوام کے سامنے رکھا اور غیر منتخب اسٹیبلشمنٹ کی عوام دشمن اور جمہوریت دشمن پالیسیوں کا پردہ چاک کیا اور ان سیاستدانوں کو منظر عام پر لاتے رہے جو کسی بھی طرح غیر جمہوری عمل میں اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار رہے، یہ وہ وقت تھا جب ملک میں مزدور یونین اور سماجی سطح پر سیاسی تحاریک کو سیاسی عمل کے ذریعے چلایا جاتا تھا جبکہ تمام تر سیاسی اختلافات میں آپسی بات چیت کے عمل کو جاری رکھا جاتا تھا، پھر آہستہ آہستہ سیاسی راہ و رسم اور سیاسی برداشت کے عمل کو آمر جنرلز کے اقتدار میں کمزور سے کمزور کرنے پر کام ہوتا رہا اور سماج میں سیاسی اور اخلاقی برداشت کا قتل کیا جانا ایک معمول بن گیا، اسی سیاسی کھینچا تانی میں جنرل ایوب کی پالیسیوں کے تحت ملک دو لخت کر دیا گیا اور ملک میں اقلیت کی حکومت قائم کر کے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو دیا گیا، یہ وہ دور تھا کہ سیاست میں عدم برداشت کسی نہ کسی طور باقی تھی، مگر بھٹو کی بے گناہ عدالتی پھانسی کے بعد آمر جنرل ضیا نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے پہلی مرتبہ حکومتی سطح پر ”مذہبی جھوٹ“ کا سہارا لیا اور 90 روز میں انتخابات کرانے کے وعدے کو مذہبی نعرے کی آڑ میں نہ کروایا اور دس سال غیر آئینی اقتدار کے مزے لوٹے، اسی دوران آمر جنرل ضیا نے مذہبی منافرت، لسانی تقسیم، صوبائی تعصب پھیلانے اور اپنے مستقبل کے جہادی مقاصد کے لئے سیاسی فیکٹری برانڈ سیاست دان نواز شریف، الطاف حسین اور عمران خان پیدا کیے جن کو جداگانہ ٹاسک دیے گئے، نواز شریف نے جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا، الطاف حسین کو لسانی سیاست کی نفرت پھیلانے اور تشدد پسندی کا کام سونپا جبکہ جاتے جاتے کرکٹر عمران خان کو ”جہادی تربیت“ اور ”جھوٹ“ کو استعمال کرنے کی تربیت کے لئے چنا اور جنرل گل حمید کی خدمات حاصل کی گئیں جو کہ خطے میں جہادی طالبان کے سب سے بڑے نظریات دان تھے۔

92 کے ورلڈ کپ میں ٹیم کی مشترکہ جیت کو عمران خان نے فرد واحد کی جیت میں تبدیل کر کے پہلے ”جھوٹ“ سے شخصیت پرستی کا زہر سماج میں گھولا۔ اسی اثنا میں طالبان دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر تصویر کشی کے ذریعے غیر قانونی کلاشنکوف کلچر کو عام کیا، گل حمید کو دھوکہ دے کر اسٹیبلشمنٹ کے با اثر جنرلز سے رابطے برقرار رکھے اور اسی اثنا ”پلے بوائے“ کے روپ میں ہیرو ورشپ کے غیر اخلاقی کام کو سماج کے نوجوانوں میں راسخ کیا، اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر الطاف حسین کی تشدد پسند پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا اور سیاسی عمل کے ”میثاق جمہوریت کے معاہدے“ میں عدم شرکت کر کے جنرل مشرف کے غیر آئینی ریفرنڈم کے چیف الیکشن کمشنر کے فرائض ادا کیے اور جنرل پاشا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے میڈیا میں بطور سیاستدان شرکت کر کے ہر سیاستدان پر الزام تراشی اور بہتان لگا کر بنی گالہ پر ناجائز قبضے کو عوام سے پوشیدہ رکھا، ازدواجی تعلقات کو مذہبی فریضہ سمجھ کر شادی پر شادی کی اور انہیں مذہبی رنگ میں ڈھال کر عوام سے بیٹی کی پیدائش پر ”جھوٹ“ کا سہارا لے کر خود کو پاک دامن قرار دلوایا، 2018 کے انتحابات میں اسٹیبلشمنٹ کے ووٹوں سے اقتدار لیا اور میڈیا پر ”پیکا“ قانون یا پاکستان میڈیا اتھارٹی کے کالے قانون کے جواز کو جھوٹ بول کر قومی سلامتی کے لئے درست قرار دیا، خفیہ ایجنسیوں کو اپنا آنکھ کان قرار دے کر اقتدار کے بعد انہیں ہی میر جعفر اور میر صادق کہا، اسی دوران ”دہشت گرد طالبان“ کے دفاتر اور ان کو بسانے کی بات کی اور ہزاروں کی تعداد میں ”طالبان بسائے جو آج ملک میں ہر جگہ دہشت گردی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں جبکہ تحریک انصاف آج بھی دہشت گردوں سے مذاکرات چاہتی ہے۔ اقتدار سے آئینی طور سے رخصتی کو امریکہ مخالف ہلچل میں تبدیل کیا اور فوج کی مدد سے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے والے عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے مخالف اور جمہوریت کے چیمپئن کہلائے، کرپشن کے خلاف جہاد کرنے والے عمران خان 190 ملین پاؤنڈ کی کرپشن۔ پر عدالتی سزاوار ٹھہرے مگر سماج میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کی بدولت معتبری کا بیانیہ لئے آمر فیلڈ مارشل ایوب کی نسل کے ساتھ بوگس قسم کی جمہوری لڑائی لڑ کر نوجوان نسل کو بد تہذیب اور سیاسی طور سے نابالغ کر کے آج بھی جھوٹ کے بیانیے پر وہ اور ان کے غیر سیاسی چاہنے والے سر دھن رہے ہیں اور اس بات سے بے خبر ہیں کہ جھوٹ پر جمہوریت کا ڈھونگ اور۔ نسل کو بار بار گمراہ کرنے کا کام زیادہ دیر چلنے والا نہیں کیونکہ سیاسی طور سے بالغ عوام کا شیر ابھی اپنی کچھار میں ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کا یہ شیر جاگ کر شخصی بت پرستی کے ساتھ عقیدہ پرستی اور جھوٹ کے سارے بتوں کو ڈکار جائے۔

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza