نعرے، مظاہرے اور زمینی حقائق
جماعت اسلامی نے جمعہ کو ملک بھر میں غزہ میں اسرائیل کی نئی جنگ جوئی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ جمعرات کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہم تو امریکی سفارت خانہ اور اس کے تمام قونصل خانوں کے باہر بھی احتجاج کرنا چاہتے ہیں لیکن ’امریکہ کی غلام حکومت‘ اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرے ہوسکتے ہیں لیکن پاکستان کے غلام احتجاج سے ڈرتے ہیں۔
پاکستان میں احتجاج اور مظاہروں کے علاوہ ملک بھر میں انسانی فلاح کے لیے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں تسلسل سے عوام سے غزہ کے شہریوں کی مدد کرنے کے لیے چندے جمع کرتی ہیں۔ تاکہ جنگ سے متاثر لوگوں کو خوراک اور دیگر ضروریات زندگی بہم پہنچائی جائیں۔ اب یہ سلسلہ دنیا بھر میں پاکستانی مسلمانوں سے مدد کی اپیل تک دراز ہو چکا ہے۔ ایسی بیشتر تنظیمیں پاکستان ہی میں منظم ہیں اور کسی عالمی ادارے کے ساتھ مل کر وہ کسی بڑے امدادی منصوبے کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ آج ہی فلسطینیوں کی امداد کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ادارے انروا (یو این آر ڈبلیو اے) نے غزہ میں غذا کی شدید قلت کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اور کہا کہ اس کے پاس ضرورت مندوں کے لیے صرف 6 دن کا آٹا باقی رہ گیا ہے۔ کیوں کہ اسرائیل ہر قسم کے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
ایسے میں پاکستان سے غزہ کے شہریوں کی مدد کرنے والی کسی تنظیم سے کوئی سرکاری ادارہ نہیں پوچھتا کہ وہ فلسطینیوں کے نام پر جمع کیے ہوئے وسائل کیسے غزہ پہنچاتے ہیں اور ان کے پاس کون سا ایسا انتظامی ڈھانچہ ہے جو اسرائیلی فوجی ناکہ بندی کے باوجود غزہ کے شہریوں کی مدد کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والے اس تنازعہ میں غزہ کے شہریوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے وسائل کی کمی نہیں رہی بلکہ اسرائیل اس کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کسی نہ کسی بہانے سے غزہ امداد پہنچانے والے قافلوں کو روک لیتی ہے۔ اب بھی دو ہفتے سے ہمہ قسم امداد کی فراہمی بند ہے، اسی لیے انروا نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں اس کے پاس خوراک کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کے جنگجو خوراک لانے والے ٹرکوں کو لوٹ لیتے ہیں اور یہ سامان عام شہریوں تک نہیں پہنچتا۔ اسی لیے وہ اس سپلائی کو روکنا چاہتا ہے۔ اس وقت اسرائیلی حکومت کی جارحیت کو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، اسی لیے عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف کوئی احتجاج یا آواز سنائی نہیں دیتی۔
اس صورت حال میں پاکستان کی فلاحی تنظیمیں غزہ کے مظلوموں کا نام لے مسلسل لوگوں سے چندے جمع کر رہی ہیں لیکن اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں ہے کہ ان وسائل کو متاثرین تک کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ بعینہ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی گروہ اسرائیل کو برا بھلا کہتے ہوئے احتجاج منظم کرنے کا اعلان کرتے رہتے ہیں تاکہ ملکی سیاست میں اپنی موجودگی کا احساس دلا سکیں۔ حالانکہ جماعت اسلامی ہو یا کوئی دوسرا مذہبی گروہ فلسطین کے حوالے سے ان کی جذباتی اور اکثر صورتوں میں غیر منطقی اور گمراہ کن باتیں غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم کرنے میں معاون نہیں ہو سکتیں۔ ایسے احتجاج اور جہاد کے دعوے بھی بالکل ویسے ہی بودے اور بے معنی ہیں جیسے پاکستان جیسے ملکوں کی فلاحی تنظیموں کے یہ دعوے کہ وہ غزہ کے بھوکوں کو خوراک پہنچا رہے ہیں۔
ناروے ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن یہاں سے متعدد اسپیشلسٹ ڈاکٹر اور دوسرا طبی عملہ متعدد عالمی اداروں کے ساتھ مل کر رضا کارانہ طور سے جنگ زدہ غزہ جاتے ہیں اور وہاں زخمیوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے انٹرویو اور تاثرات اکثر میڈیا میں سامنے آتے ہیں اور غزہ کی صورت حال پر رائے عامہ ہموار کرنے کا مقصد پورا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر تھور ارلنگ انگے میر بھی ایسے ہی ڈاکٹروں میں شامل ہیں جو غزہ میں حالیہ جنگ بندی کے دوران وہاں خدمات انجام دے کر واپس آئے تھے۔ مقامی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی سے لوگوں میں اطمینان کی ہلکی سی جھلک دکھائی دینے لگی تھی لیکن اب انہیں خبریں مل رہی ہیں کہ غزہ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے متعدد دوستوں کو گرفتار کر لیا گیا یا ہراساں کیا جا رہا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے ناروے سے پچاس گنا بڑا ملک ہے لیکن وہاں سے کبھی یہ خبر سامنے نہیں آئی کہ کسی ماہر ڈاکٹر نے اپنی پریکٹس چھوڑ کر کسی عالمی ادارے کو غزہ میں رضاکارانہ کام کرنے کی پیش کش کی ہو یا وہاں کام کرنے کے لیے گیا ہو۔ حالانکہ پاکستان میں ماہر ڈاکٹروں کی تعداد ناروے سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔ مذہبی لیڈروں اور فلاحی تنظیموں کے بیانات اور سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہاں غزہ کے لوگوں کی تکلیف کو شدت سے محسوس کیا جاتا ہے اور لوگ کسی بھی قیمت پر اپنے فلسطینی بھائیوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صورت حال ایک ایسا آئینہ ہے جس میں پاکستانیوں کو اپنا چہرہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
غزہ میں اسرائیل نے منگل سے دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں اور شہریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اگر یرغمالی رہا نہ ہوئے تو اسرائیلی فوج غزہ کے وسیع علاقے پر مستقل قبضہ کر لے گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی مندوب نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورت حال کی ذمہ داری پوری طرح حماس کی ہٹ دھرمی پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ اس نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے امریکی تجویز تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ گزشتہ بدھ کو صدر ٹرمپ کے معاون خصوصی اسٹیو ویٹکوف نے تجویز کیا تھا کہ موجودہ عبوری جنگ بندی کو اپریل کے آخر تک توسیع دی جائے تاکہ فریقین مل کر پائیدار امن پر راضی ہو سکیں۔ اس دوران باقی ماندہ یرغمالیوں کو اسرائیلی قید میں فلسطینیوں کے بدلے رہا کیا جائے۔ اس وقت بھی حماس کے قبضے میں 59 اسرائیلی شہری ہیں۔ خیال ہے کہ ان میں سے 34 مر چکے ہیں۔ البتہ حماس یا اسرائیل نے ابھی تک اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ حالانکہ گزشتہ چند دنوں میں امریکی نمائندوں نے پہلی بار دوحا میں حماس کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی تاکہ اس کی قید میں ایک امریکی شہری کی رہائی یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔
اسرائیل کی طرف سے دوبارہ فضائی حملے شروع کرنے اور غزہ کے شہریوں کو مارنے کی کارروائیوں کے بعد حماس نے بھی اپنا وجود ثابت کرنے کے لیے چند راکٹ اسرائیل کی طرف پھینکے ہیں۔ یہ راکٹ اسرائیل کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے لیکن اسے یہ عذر تراشنے کا موقع ضرور فراہم کرتے ہیں کہ حماس کی کمر توڑنے اور اس کا خاتمہ ہونے تک غزہ میں جنگ جاری رکھنا ضروری ہے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی زبان میں بات کر رہے ہیں۔ کبھی وہ غزہ کے فلسطینیوں کو ملک بدر کر کے وہاں کمرشل عمارتیں تعمیر کرنے اور غزہ کو تفریحی و تجارتی مرکز بنانے کی بات کرتے ہیں اور کبھی حماس کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر یرغمالی رہا نہ کیے تو اسے خوفناک طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غزہ میں ڈیڑھ سال کی اسرائیلی جنگ جوئی کے بعد حماس عملی طور سے ناکارہ و غیر موثر ہو چکی ہے۔ اس کے بیشتر لیڈر مارے جا چکے ہیں، خود حفاظتی کے مقصد سے غزہ میں بچھایا گیا سرنگوں کا جال تباہ کیا جا چکا ہے اور لبنان و شام میں حماس کی حمایت کرنے والا نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے۔ اب امریکہ نے یمن کے حوثیوں کے خلاف خود لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس صورت حال کے باوجود حماس لیڈر یہ سمجھنے سے انکار کر رہے ہیں کہ وہ غزہ پر کنٹرول قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس کی بجائے اپنے ہی لوگوں کی تباہی میں وہ اپنی طاقت تلاش کرنے کی افسوسناک اور ناکام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ میں اب تک 47 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ہر جنگ کو کسی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حماس کو بھی سمجھنا چاہیے کہ اس جنگ کا تسلسل فلسطینی کاز کے لیے شدید نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ حماس کی نام نہاد مزاحمت درحقیقت چند سو یا ہزار لوگوں کے مستقبل اور انا کا مسئلہ ہے جن کے لیڈر یہ باور کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ بعض اوقات جنگ میں شکست تسلیم کر کے بھی جیت کا راستہ ہموار کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کے علاوہ امریکہ اب غزہ میں حماس کی حکمرانی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ تمام عرب ممالک بھی اس موقف کے حامی ہیں۔ عرب ممالک نے غزہ کا جو متبادل پلان پیش کیا ہے، اس میں غزہ کے انتظام میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ حماس کو اپنے لوگوں کی بہبود اور زندگیوں کے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔
لوگوں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری بہر حال اسی ملک پر عائد ہوگی جو طاقت کے گھمنڈ میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن جب بھی 7 اکتوبر کے بعد رونما ہونے والے حالات اور اس واقعہ کا فلسطینی کاز کے حوالے سے جائزہ لیا جائے گا تو یہ ماننا ہو گا کہ حماس کے جنگجوؤں نے اپنی صلاحیت کے بارے میں غلط اندازے قائم کیے تھے۔ اسرائیل کی مذمت جائز اور درست ہے لیکن حماس کو بھی اب غزہ کے لوگوں پر رحم کرنا چاہیے اور اپنے عرب دوست ممالک کے ذریعے غزہ کے اقتدار سے دست بردار ہو کر امن کا راستہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
بصورت دیگر مکمل تباہی غزہ کے بدنصیب لوگوں کا مقدر بنے گی۔ پاکستان جیسے ملکوں کے لیڈر اور حکومتی نمائندے زبانی دعوؤں سے حماس کے ’جذبہ جہاد‘ کی تعریف کرنے کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے۔


