جرمنی میں قرضوں کی روک تھام کا قانون


جرمنی کے شہر برلن کی رائین ہارڈ نامی سڑک پر ایک ”قرض گھڑی“ ہے جس پر جمعرات مورخہ بیس مارچ کو 2.533.122.601.754 کے ہندسے نظر آ رہے تھے جو ریاست جرمنی پر قرضے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ مطلب ہر جرمن باشندہ تقریباً تیس ہزار یورو کا مقروض ہے۔

جرمنی کے بنڈس راٹ یعنی اپر ہاؤس (سینیٹ) نے، مورخہ اکیس مارچ بروز جمعہ کو، دو ہزار نو کے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تعلقات کے قوانین کی تنظیم نو کے لئے، آئین میں ترامیم کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ انہتر مجموعی ووٹوں میں ترپن ارکان نے ان ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالے۔ دو تہائی ووٹوں کی تعداد چھیالیس ہے۔ یاد رہے جرمنی میں، بنڈس راٹ (سینٹ ) میں، صوبائی حکومتوں کی نمائندگی کے تناسب سے صوبائی پارلیمانی اراکینِ بھیجے جاتے ہیں۔

یہ اس پراجیکٹ یعنی آئین میں ترامیم کے لئے آخری رکاوٹ تھی۔ جس میں خاص طور پر دفاعی اخراجات کے لئے قرض بریک میں نرمی، بنیادی ڈھانچے اور موسمیاتی تحفظ کے لئے پانچ سو بلین یورو کی کثیر رقم فراہم کرنا ہے، اس کے علاوہ ایک خصوصی فنڈ بنایا جائے گا جس پر ڈیبٹ بریک کا اِطلاق نہ ہو اور جسے پانچ سو یورو تک کے قرضے دیے جائیں گے جو دفاعی اخراجات، خستہ حال انفرا اسٹرکچر، اسکولوں، سڑکوں، پلوں کی مرمت اور توانائی کے نیٹ ورکس پر خرچ ہوں گے۔ ایک سو بلین یورو صوبوں کو دیے جائیں گے اور ایک سو بلین یورو، گرین جماعت کے مشروط مطالبات کے مطابق، موسمیاتی تحفظ اور موسمیاتی فرینڈلی معیشت کی تنظیم نو کے لئے مختص ہوں گے۔

اس سے پہلے اٹھارہ مارچ کو بنڈس تاگ یعنی وفاقی پارلیمان نے آئینی ترامیم کا قانون، دو تہائی اکثریت سے پاس کیا تھا جس کے لئے پانچ سو تیرہ حق میں اور دو سو سات خلاف ووٹ ڈالے گئے تھے۔ دو تہائی کے لئے چار سو نواسی ووٹ درکار تھے۔ سی ڈی یو اور ایس پی ڈی، گرین جماعت کو ساتھ ملا کر، آرٹیکل اناسی (دو) کے مطابق دو تہائی موجودہ اکثریت کا استعمال کرنا چاہتے تھے جبکہ نئے بنڈس تاگ میں، اے۔ ایف۔ ڈی اور لنک کی دونوں جماعتوں کے ایک تہائی سے زیادہ ووٹ ہیں یعنی ترامیم کرانا ناممکن ہوتا۔

وفاقی پارلیمان میں اس ترامیم کے حوالے سے زبردست بحث و مباحثہ ہوا تھا۔ وفاقی انتخابات سے پہلے، مستقبل کے چانسلر، سی۔ ڈی یو چیئرمین مسٹر فریڈرک مرس نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی ممکنہ چانسلر شپ میں، قرضوں کی روک تھام کے قوانین کو بالکل چھیڑا نہیں جائے گا۔ گزشتہ سال نومبر میں بھی، جرمنی کی سہ فریقی مخلوط حکومت سے، ایف۔ ڈی۔ پی، لبرل جماعت نے اسی قانون کی وجہ سے الحاقی حکومت کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ ایس۔ پی۔ ڈی کے چانسلر اولاف شولس، جو اب تک دوسری بقیہ گرین جماعت کے ساتھ اقلیتی حکومت چلا رہے ہیں، نے ایف ڈی پی کے راہنما اور اپنے وزیر خزانہ مسٹر لنڈنر سے اس قانون میں رفاہی ترامیم کا مطالبہ کیا جو انہوں نے انکار کیا اور حکومت سے نکلنے کو ترجیح دی تھی۔ نئی پارلیمان میں، پانچ فیصد سے کم ووٹ حاصل کرنے کی وجہ سے اب ایف۔ ڈی۔ پی شامل نہیں ہے۔ آئندہ چند دنوں تک، سی ڈی یو اور ایس۔ پی۔ ڈی کی مخلوط حکومت قائم ہو جائے گی جس کے چانسلر فریڈرک مرس ہوں گے۔

انتیس جولائی سن دو ہزار نو میں، وفاق اور صوبوں میں مالیاتی تعلقات کی مناسبت سے مندرجہ ذیل، قرضوں کی روک تھام کے قوانین پاس کیے گئے تھے۔

پیراگراف 109 جی جی وفاق اور صوبوں کو پابند کرتے ہوئے معاشی بجٹ کو ریگولیٹ کرتا تھا اور یہ طے کرتا تھا کہ بجٹ قرضوں کے بغیر متوازن رہے گا۔ پیراگراف 115 جی جی کے مطابق، وفاقی حکومتیں، ساختی نیٹ قرضے، جی۔ ڈی۔ پی کے 0,35 فیصد سے کبھی تجاوز نہیں کر سکتیں تھیں۔ پیراگراف 143 ڈی کا قانون، صوبوں کو قرضوں کی روک تھام کے بتدریج نفاذ کے لئے ایک عبوری ضابطہ تھا۔

Facebook Comments HS