مغربی کنارہ ایک اور غزہ


مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی، جو کہ ارضِ فلسطین کا مضطرب قلب ہیں، عرصۂ دراز سے اسرائیلی استبداد کے آہنی شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کا مسکن، یہ خطے نہ صرف اپنی تاریخی اور مذہبی تقدیس کے باعث ممتاز ہیں، بلکہ سیاسی کشمکش اور تنازعات کا بھی اکھاڑہ بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں، ان علاقوں کے حالات روز بروز دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں، اور یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ خطے ایک نئے غزہ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جہاں ہر طرف خون کی ہولی کھیلی جائے۔

اسرائیلی استیلاء کی ابتدائی تاریخ

اسرائیلی استیلاء کی تاریخ 1948 کی عرب اسرائیل جنگ سے شروع ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے فلسطین کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں، اسرائیل نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس استیلاء کے بعد سے، اسرائیل نے ان علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں نئی آبادیوں کی تعمیر، عسکری جارحیت، اور معاشی پابندیاں شامل ہیں۔

غزہ: قہرِ مسلسل کی داستانِ خونچکاں

غزہ، جو کہ ارضِ فلسطین کا ایک مقبوضہ خطہ ہے، حالیہ ایام میں قہرِ مسلسل کی داستانِ خونچکاں رقم کر رہا ہے۔ اس پُرآشوب صورتحال نے بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں بے شمار جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ناقابلِ تلافی مالی نقصان ہوا ہے۔

یہ المیہ انسانیت کے جانی نقصان کی انتہائی کربناک تصویر پیش کرتا ہے۔ شہداء کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے، جن میں کثیر تعداد میں عام شہری، معصوم بچے اور بے بس خواتین شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے، جن میں سے کثیر تعداد کو دائمی معذوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاکھوں خاندان اپنے پیاروں کی دائمی جدائی کے سوگ میں مبتلا ہیں، جس سے معاشرے میں گہرا صدمہ اور ناقابلِ فراموش غم پھیلا ہوا ہے۔ ہزاروں رہائشی مکانات، تعلیمی ادارے، طبی مراکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کاروباری مراکز اور زرعی اراضی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جس سے پہلے ہی زبوں حالی کا شکار معیشت مزید تباہ ہو گئی ہے۔ بجلی، پانی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق، غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالرز کی خطیر رقم درکار ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، اور انہیں خوراک، پانی اور پناہ گاہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، اور کثیر تعداد میں مریض ضروری طبی امداد سے محروم ہیں۔ بچے خاص طور پر صدمے اور مایوسی کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی برادری نے غزہ میں ہونے والی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار تو کیا مگر بے بسی کا ہی مظاہرہ کیا۔ اقوام متحدہ بھی کچھ نہ کر سکی بلکہ استبداد سے چشم پوشی کا اظہار ہی کیا۔ مختلف ممالک اور تنظیموں نے غزہ کے مصیبت زدہ افراد کے لیے امدادی سامان فراہم کیا ہے۔ فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کریں اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا پُرامن حل تلاش کریں۔ غزہ میں ہونے والا جانی اور مالی نقصان ناقابلِ بیان ہے، اور اس نے عام شہریوں کی زندگیوں کو تہہ و بالا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری سے پُرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کے مصیبت زدہ افراد کی مدد کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

مغربی کنارے اور غزہ میں آتش فشاں پھٹنے کے اسباب

اسرائیلی نو آبادیاتی یلغار: مغربی کنارے میں اسرائیلی نوآبادیات کا مسلسل فروغ فلسطینیوں کے لیے زمین اور وسائل کی قلت کا باعث بن رہا ہے۔ یہ نو آبادیات بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں، لیکن اسرائیل ان کی تعمیر پر مصر ہے، گویا وہ بین الاقوامی قوانین کو طاق نسیاں پر رکھ چکا ہے۔

عسکری جبر اور استحصال: اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے اور غزہ میں متواتر عسکری کارروائیاں فلسطینیوں کے قلوب میں خوف اور عدم تحفظ کے تخم بو رہی ہیں۔ ان کارروائیوں میں نہتے فلسطینیوں کا خون بہایا جاتا ہے اور انہیں زندان خانوں میں مقید کیا جاتا ہے، گویا وہ انسان نہیں، بھیڑ بکریاں ہیں۔

سیاسی نفاق اور انتشار: فلسطینی سیاسی گروہوں کے درمیان تفرقہ اور اتحاد کا فقدان بھی ان علاقوں میں آتش فشاں پھٹنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اور حماس کی آپس کی چپقلش نے فلسطینیوں کے لیے ایک متحدہ موقف اختیار کرنا دشوار بنا دیا ہے، اور وہ اپنوں کی جنگ میں غیروں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔

معاشی بدحالی اور افلاس: مغربی کنارے اور غزہ میں غربت اور بے روزگاری بھی آتش فشاں کو ہوا دے رہی ہے۔ فلسطینیوں کے لیے روزگار کے مواقع معدوم ہیں، اور ان کی معاشی حالت روز بروز دگرگوں ہوتی جا رہی ہے، گویا وہ دو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں۔

غزہ سے مماثلتیں : ایک بھیانک عکس

مغربی کنارے کی صورتحال غزہ کی پٹی سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں اسرائیلی قبضے اور محاصرے نے حالات کو انتہائی مخدوش کر دیا ہے۔ دونوں علاقوں میں آبادی کا جم غفیر ہے۔ معاشی بدحالی اور بے روزگاری کا دور دورہ ہے۔ اسرائیلی عسکری حملوں کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔

مستقبل کے خدشات: خون کی ندیاں

اگر مغربی کنارے اور غزہ کے حالات کو سنبھالنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ علاقے ایک نئے غزہ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں، خون کی ندیاں بہنے کا خدشہ ہے، جس کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

حل کے راستے یا امید کی کرن موجود تو ہے مگر امکانات کا انحصار صرف اسرائیلی ارادوں پر ہے۔ اس صورت حال سے نجات ممکن ہے اگر اسرائیلی نو آبادیات کا فوری خاتمہ ہو جائے۔ فلسطینیوں کے لیے آزاد اور خود مختار ریاست قائم ہو جائے۔ فلسطینی سیاسی گروہوں کے درمیان اتحاد اور مفاہمت قائم ہو جائے۔ مغربی کنارے اور غزہ کی معاشی ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی ہو جائے۔ مغربی کنارے اور غزہ میں پائیدار امن کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کو رفع کریں اور بین الاقوامی برادری خلوص نیت سے اور ہمت کے ساتھ مظلوم کا ساتھ دے۔

Facebook Comments HS