جنت کی حور لائبہ اور ہماری خواتین
ان دنوں جنت کی حور لائبہ کے خاصے چرچے ہیں، اہل ایمان کو جنت کی ترغیب دینے اور دوزخ سے بچانے کے لیے مولانا طارق جمیل اس قسم کی باتیں اکثر اپنے بیانات میں فرماتے رہتے ہیں، ممکن ہے وہ نیک نیتی سے یہ سب کرتے ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنے سے معاشرے میں کوئی سلجھاؤ آیا؟
اس قدر حور بیانیوں اور دوزخ کے عذاب سے ڈرانے کا ماحصل کیا ہے؟
کیا لوگ واقعی جنت کی طلب میں اس قدر مخلص ہوئے کہ انہوں نے ملاوٹ ترک کر دی ہو اور اخلاق کی سطح اتنی بلند کر لی ہو کہ اہل کفار مثالیں دینے لگے ہوں؟
ابتدائی لٹمس ٹیسٹ کے طور پر موجودہ رمضان المبارک کا تجزیہ کر لیجیے، رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی اشیائے خورد و نوش کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے اور اس مصنوعی مہنگائی کے پیچھے کوئی کفریہ مافیا نہیں ہے بلکہ اہل ایمان ہیں جنہوں نے اس بابرکت مہینے کے شروع ہونے سے پہلے ہی اشیاء ذخیرہ کر لی تھیں تاکہ مہنگے داموں بیچ کر خوب منافع کمایا جائے۔
شیطان تو یونہی بدنام ٹھہرا وہ قید بھی رہے تو یہاں کچھ بدلنے والا نہیں ہے، انسانیت کمانے کے لیے گناہ و ثواب کے پیمانوں سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔
حور بیانیوں یا مرنے کے بعد دوزخ کے عذاب کا کوئی ڈر یا خوف ہوتا تو اسلامی دنیا میں فراڈ، دھوکہ دہی، رشوت خوری اور جھوٹ کا نام و نشان تک نہ ہوتا، ماجرا یہ ہے کہ عبادات و عبادت گاہوں، درگاہوں و آستانوں اور ماڈرن صوفیوں میں تو ہم خود کفیل ہو گئے لیکن ایسے انسان نہیں بن پائے کہ جن پر فخر کیا جا سکے۔
دوسری طرف علماء کرام اس لاحاصل سی بحث میں الجھ گئے کہ حور لائبہ کا کوئی ثبوت نہیں ہے، جاوید احمد غامدی کے داماد حسن الیاس نے واضح کیا کہ مولانا طارق جمیل زیب داستان کے لیے یہ سب کچھ کرتے رہتے ہیں اور واعظان کا شروع دن سے یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ عوام کو خوش کرنے کے لیے اس طرح کے تذکرے کرتے رہتے ہیں۔
مولانا اسحاق مرحوم نے تو اس ضمن میں بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ طارق جمیل مجمع بازی کے لیے انتہائی غلو سے کام لیتے ہیں، اب علماء جانیں اور طارق جمیل، ہمارا مسئلہ تو اس خطے کی خواتین ہیں جنہیں سماج میں پنپنے کے لیے مساوی مواقع میسر نہیں، مرد اور خاتون کے درمیان محض اس بنیاد پر ہزاروں ان دیکھے بیریرز حائل ہیں کہ یہ مردوں کو لبھانے والی کوئی چیز ہے نا کہ ایک جیتی جاگتی انسان۔ اس قسم کا تصور قائم ہونے کے پیچھے صدیوں کا تسلسل ہے کوئی ایک دن کی بات نہیں ہے۔
جنہوں نے تو خواتین کو برابر کا انسان سمجھتے ہوئے اور جینڈر سے ماورا ہو کر سماج میں پنپنے کے مواقع دیے ہیں وہ معاشرے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ وہاں خواتین بطور فرد مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں، خاتون کی مرضی کے بغیر کوئی مرد خاتون کو چھو تک نہیں سکتا، مختصر لباس کے باوجود کوئی ان کے ساتھ زور زبردستی نہیں کر سکتا، ہمارے مطابق کفر و ہوس پر قائم رہنے کے باوجود وہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ جہاں خواتین رات کے وقت بھی آزادی سے گھوم سکتی ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایسے مذہبی سماج میں کہ جہاں مذہبی اجتماعات کے علاوہ من کی کدورتوں کو صاف کرنے اور سلوک کی منازل طے کرنے کے لیے روحانی سنٹرز یا خانقاہیں تک موجود ہونے کے باوجود بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ اس قدر پاکیزہ بندوبست کے باوجود ہم ایک ایسے مثالی سماج کی تشکیل نہیں کر پائے کہ جہاں خواتین بلاخوف و خطر گھوم سکتیں، جنت کی حور کا تو پتا نہیں لیکن زمینی خواتین کا تو کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔
روایات کے نام پر انہیں اس قدر جکڑا کہ وہ یہ تک بھول گئیں کہ چوائس اور انفرادیت بھی انسانی حقوق کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے جس سے مرد تو مستفید ہو سکتا ہے خاتون نہیں، اب اسے مردانہ معاشرے کا عدم تحفظ کہیں یا غیرت کا شاخسانہ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہاں خواتین کو اپنے جینڈر کی ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔


