فرشی شلوار اور یادیں کچھ خاص ملبوسات کی


آج کل جہاں دیکھو، جہاں سنو فرشی شلوار کے چرچے ہیں، نئے فیشن کی دھوم مچی ہے، فرشی شلوار کی تصویریں دیکھ کر ہمیں بھی ماضی کے فیشن، کچھ ملبوسات اور ان سے جڑی یادوں نے آ لیا۔

فیشن بھی بار بار دہرائے جاتے ہیں اور وہی پرانے فیشن نئے ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میرے بچپن میں میری خالائیں اس طرح کے کھلے پائنچوں کی شلواریں اور لمبی قمیضیں پہنا کرتی تھیں۔ پھر میں شاید چھٹی جماعت میں تھی کہ مینا بازار کے لیے گلابی رنگ کا ساٹن کا سوٹ سلوایا، جو درزی نے نئے فیشن کے مطابق سیا، تنگ پائنچوں کی شلوار اور قمیض بند چاکوں والی، گویا ایسی چست تراش خراش کے ساتھ سی، جسے عرف عام میں ٹیڈی فیشن کہا جاتا تھا۔ قمیض کے چاک نہیں تھے تو اس انداز کی قمیض سے نپے تلے چند قدم اٹھائے جا سکتے تھے۔ اگر زیادہ بڑے قدم لیں تو قمیض اس کی متحمل نہیں تھی یہ ٹیڈی فیشن کا دور تھا جو عرصے تک رہا۔ قمیضوں کے ساتھ ساتھ تنگ موری کے پائنچے بھی فیشن میں داخل تھے پائنچے اتنے تنگ ہوتے کہ پہننا اور اتارنا مشکل ہو جاتا اس مشکل سے بچنے کے لیے پانچوں میں ٹچ بٹن لگا دیے جاتے۔ اونچی قمیضیں اور گھیردار شلواریں بھی کافی عرصہ فیشن میں رہیں، مردوں کی قمیضیں چھوٹی اور بڑے گھیر کی شلواریں فیشن میں تھیں۔

سن 71 میں بیل باٹم کا بھی خوب رواج رہا۔ بیل باٹم آج کل کی طرح ہر کپڑے کے نہیں سلتے تھے۔ ان کے لیے ایک مخصوص موٹا کپڑا ملتا تھا اور درزی اس کو بڑی مہارت کے ساتھ پینٹ کے انداز میں سیتے تھے نیچے سے تو بہت کھلے پائنچے جب کہ گھٹنوں پہ جا کے تھوڑا سا تنگ ہو جاتا تھا اوپر پینٹ کی طرح ہک لگے ہوتے۔

سن 71 میں میری بہن کی شادی پہ گولڈن رنگ کے ساٹن کی چھوٹی شرٹ اور بیل باٹم سلوایا اس چھوٹی شرٹ کے ساتھ کمر میں خوبصورت زنجیر بھی باندھنے کا فیشن تھا، سو یہ زنجیر بھی بخوشی پہنی، جو فیشن ہو وہ نگاہوں کو اچھا بھی لگتا ہے۔ یہ لباس سب کو بہت پسند آیا۔ میری بہن کی بری میں بیل باٹم بروکیڈ کے قیمتی کپڑے کا بنا ہوا تھا۔ مجھے تو نئے فیشن اچھے لگتے تھے جب کہ میری اس بہن کو شلوار قمیض کے علاوہ کبھی کوئی اور فیشن اچھے نہیں لگے۔ بروکیڈ کا یہ بیل باٹم اس نے میاں کی فرمائش پہ بہت روتے دھوتے ایک آدھ دفعہ پہنا ہو گا۔

پشاور فرنٹیئر کالج میں داخلہ لیا تو تب بھی زیادہ دیر چھوٹی قمیض اور کھلے پائنچوں کی شلواریں فیشن میں رہیں۔ ساتھ ساتھ آستینوں کے فیشن بھی بدلتے رہے، بیل والی آستینوں کے ساتھ ایک شاندار قصہ وابستہ ہے۔ جب ہم کنڈ پارک کی پکنک پر گئے اور شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا تو ایسی تمام لڑکیاں جنہوں نے بیل والے کھلے بازو پہنے ہوئے تھے شہد کی مکھیاں ان کے بازو پہ چمٹ گئیں۔ ان میں سے دو تین کو ہسپتال بھی داخل ہونا پڑا۔ چھوٹی قمیض اور کھلی ڈلی شلوار کا یہ فیشن کافی عرصہ رہا یہاں تک کہ اپنی شادی کے لیے جو لباس سلوائے اور قمیضوں پر جو کام بنوائے وہ ساری چھوٹی قمیضیں تھیں۔ شادی کے فوراً بعد چھوٹی قمیضوں کا فیشن بدل گیا تو لاہور سے کرائے گئے سلمہ ستارہ کے خوبصورت کاموں کے ضائع ہونے کا بہت افسوس رہا۔ ایک ”شیِر چائے“ کے رنگ کی شرٹ اتنی چھوٹی تھی کہ میں بعد میں سوچتی کہ یہ اتنی چھوٹی قمیض بھلا میں کیسے پہنا کرتی تھی۔ شلوار کے پائنچے 18 انچ سے کیا کم ہوں گے۔ کچھ ایسی شلواریں ابھی تک بھی میرے پاس موجود تھیں۔ بیل باٹم اور ٹراؤزر فیشن میں کافی عرصے تک رہے یہاں تک کہ جب سن 75 میں ہماری کانووکیشن تھی تو اس کے لیے خاص مہنگے کپڑے کا سرخ رنگ کا ٹراؤزر سلوایا، اس کے اوپر ہلکے سے گولڈن رنگ کی جالی کی قمیض تھی جس کے نیچے سرخ رنگ کا استر لگایا گیا۔ یوں ایک بہت خوبصورت لباس کانووکیشن کے لیے بطور خاص سلوایا۔ کانووکیشن کی تصویریں تو بلیک اینڈ وائٹ ہیں لیکن بعد میں ہنی مون کی تصویروں میں یہ لباس رنگین حالت میں موجود ہے۔

اس وقت کے حساب سے ایک اور اہم واقعہ مجھے یاد آیا یہ شاید سن 74 کی بات ہے تب بہت ہی کھلی شلوار، آج کل کی فرشی شلوار کہہ لیں، کا فیشن آیا جو کہ ابھی کوہاٹ میں عام نہیں تھا۔ ہاسٹل کے درزی نے نئے فیشن کے مطابق ”چکن“ کی قمیض جسے آج کل ”بریزہ“ کہتے ہیں اس قمیض کے ساتھ بہت زیادہ بڑے پائنچوں کی فرشی شلوار سی دی جس کو پہن کر میں کوہاٹ آئی تو سب کو عجیب سا لگا اسی سوٹ کو پہن کر میں اپنی دادی کی عیادت کے لیے گئی تو نئے فیشن کے سوٹ کو دیکھ کر میری چچیوں اور کزنز نے تنقیدی فقرے کسے۔ کچھ کپڑوں کے ساتھ ایسی یادیں اور واقعات وابستہ ہوتے ہیں کہ برسوں بعد بھی کپڑوں کے رنگ تراش خراش یاد رہتی ہے۔ میرا یہ جوڑا بھی انہی جوڑوں میں سے ایک تھا کہ جو آج بھی مجھے یاد ہے۔ یاد تو ایک اور خوب صورت جوڑے کی بھی آ گئی۔ جس پر میری بہت گہری سہیلی نے اپنے ہاتھ سے کڑھائی کی تھی۔ نیلے (رائیل بلیو) رنگ کی وولی شیفون کی قمیض پر ہلکے پیلے زعفرانی سے رنگ کی کچے ٹانکے کی کڑھائی اور چکن کاڑھا تھا اس رائل بلیو شرٹ کے ساتھ دھاگے کے رنگ کی پیلی شلوار اور چنا ہوا دوپٹہ تھا، یہ سوٹ اس قدر خوبصورت بنا اور ایسا اچھا لگا کہ اکثر نے فرمائش کی کہ شاہینہ انہیں بھی ایسی کڑھائی کر دے۔ سموکنگ بھی مجھے بہت پسند تھی۔ گلے اور بازؤں پر سموکنگ بہت اچھی لگتی تھی اس وقت جو قمیض سلتی تھی درزی اسے ایسے سیتا تھا کہ وہ جسم پر بالکل فٹ بیٹھتی تھی۔ آگے پیچھے دو دو پلیٹس، پیچھے زپ لگی ہوئی قمیضوں کے ساتھ ساتھ چاکوں کے فیشن بھی بدلتے رہتے کبھی چھوٹی چاک، کبھی بڑی، کبھی بند، اسی طرح بازؤں کے بڑے منفرد ڈیزائن ہوا کرتے۔ کندھے یا بازو پر چنٹ دے کر پف سے بنائے جاتے، یہ پف بہت خوبصورت لگتے۔

کپڑوں کے ساتھ ساتھ جوتوں اور پرسوں کا ڈیزائن بھی بدل جاتا تھا۔ ٹیڈی کپڑوں کے ساتھ نوکدار بوٹوں اور جوتوں کا فیشن تھا بعد میں چوڑے منہ اور بھاری بھرکم پلیٹ فارم والے جوتے فیشن میں آئے، پرس بھی کبھی چھوٹے کبھی بہت بڑے بڑے، غرض لباس کے ساتھ ساتھ بدلتے چلے گئے۔ کچھ عرصے بعد بیگی قمیضوں کا فیشن آیا، بیگی کا یہ فیشن بھی کافی مقبول رہا۔ بیگی شرٹس کے بازوؤں اور گلے پر کام بہت خوبصورت لگتا۔ نوے کی دہائی میں ایک بار پھر تنگ پائنچوں والی شلوار اور اونچی قمیض کا فیشن آیا۔ سن 77 میں مجھے یاد ہے کہ مردانہ قمیضوں کا بھی فیشن رہا۔ میرا ایک سوٹ جسے درزی نے گول دامن، مردانہ کالر پٹی اور سامنے دو جیب لگا کے سیا تھا۔ پہن کر یہ سوٹ بھی بہت اچھا لگا۔ غرارے، شرارے ساڑھی، چوڑی دار پاجامے، یہ ہمیشہ سے فیشن میں رہے۔ کرتا بھی ہمیشہ فیشن میں رہا کبھی گلے میں چاندی کے بٹن لگائے جاتے۔ امیر لوگ کرتے میں سونے کے بٹن بھی لگاتے۔ سونے، چاندی کے یہ بٹن کرتے میں بہت اچھے لگتے۔ ان کا بھی کافی فیشن رہا کرتوں پر ہاتھ کی کڑھائی مقبول رہی جو عموماً عورتیں خود کاڑھا کرتی تھیں۔

92 میں 16 کلیوں کے کرتوں کا فیشن تھا۔ ان 16 کلیوں کے کرتے میں ہر کلی میں سنہری ڈوری نفاست سے لگائی جاتی۔ پاؤں تک لمبے 16 کلیوں کے یہ کرتے بھی لڑکیوں کے ساتھ بہت اچھے لگتے۔ یہ فیشن بھی کافی عرصہ رہا۔ میکسی بھی ہمیشہ سے فیشن میں رہی۔ میرے جہیز کے کپڑوں میں اورنج کلر کی دیدہ زیب میکسی اس طرح سلی ہوئی تھی کہ باڈی الگ سے جڑی ہوئی تھی۔ جوڑ کے اوپر بہت خوبصورت کالا فیتہ لگا ہوا تھا۔ باڈی کمر پہ آ کر فٹ تھی اس سے آگے امبریلا میکسی پاؤں تک تھی اس میکسی کا رنگ اور درزی نے اسے اس مہارت اور خوبصورتی سے سیا کہ سب کو یہ میکسی بہت ہی پسند آئی تھی۔

ملبوسات کے ساتھ یادیں ہیں کہ امڈی چلی آ رہی ہیں 90 کی دہائی میں میں نے اپنی دوست ذکیہ کے ساتھ مل کر بوتیک شروع کی اور اس کا نام ”زیڈ این“ فیشن رکھا۔ ”زیڈ“ ذکیہ اور ”این“ نصرت کے نام سے، ہماری اس بوتیک کے پہلے پہلے کپڑے انگلینڈ چلے گئے تو ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا رشکئی اور نوشہرہ سے ہم اچھا مہنگا کپڑا خریدتے اور نئے انداز سے سلوا کے، کڑھائی کرا کے، پھر جناح سپر میں دے کر آتے۔ ہمارے کپڑے کے بہترین معیار کی وجہ سے جناح سپر کی دکان پر اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا۔ میری پارٹنر ذکیہ کراچی کی تھی اور وہ فیشن کی سمجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ سارا وقت بوتیک کو دیتی تھی جبکہ میں اس وقت کونسلر بھی تھی اور میرا سکول بھی تھا تو میں صرف شام کے وقت بوتیک کے کاموں کو دیکھا کرتی یہ دور میری زندگی کا مصروف ترین اور بہت دلچسپ دور تھا۔ شاپنگ کرنا آرڈر لینے اسلام آباد جانا۔ ہوٹلنگ کرنا، پھر آرڈر دینے جانا۔ بوتیک کا یہ کام ہمارے لیے بہت دلچسپ رہا۔ گو کہ نفع ہم نے زیادہ نہیں کمایا کیونکہ جو نفع ملتا ہم مزید کپڑے خرید لیتے۔ اس زمانے میں یوک والی فراکیں بہت مقبول ہوئیں یہ یوک کبھی سیدھی ہوتی، کبھی تکون اور کبھی گول، تکون اور گول یوک والی لمبی فراکیں بہت خوب صورت لگتیں یہ شیفون، کریپ اور جرسی کپڑے میں بنائی جاتی تھیں، ہرگز، مرینہ اور لیلن کی یہ فراکیں اور سولہ کلیوں کے کرتے بوتیک میں بہت مقبول ہوئے۔

کپڑوں کی تراش خراش کی طرح علاوہ کچھ فرق کے ساتھ وہی کپڑے دوبارہ بھی دہرائے جاتے۔ مثلاً پہلے ساٹن، شنیل، مخمل، شنگائی شیشہ، جارجٹ، گلشن جالی کے کپڑے تھے۔ پھر یہی ساٹن سلک، شنیل ویلوٹ، شیشہ جارجٹ، بروشہ کہلانے لگے۔ اگر اپنی امیوں کے زمانے کی بات کریں تو کم خواب میں سونے کی تاریں ہوتی تھیں اور جب یہ جوڑے بوسیدہ ہو جاتے تو جیولر کے ہاتھ بیچ دیے جاتے اس وقت کے کپڑوں کے نام بھی بڑے دلچسپ تھے، دل کی پیاس، تیری میری مرضی، کتان وغیرہ۔ پھر نائلون کا زمانہ آیا، نائلون کے دوپٹے ٹیٹرکس، ٹیٹرون، نائلکس وغیرہ بروکیٹڈ زری، بنارس، مون لائٹ کے زرق برق کپڑے شادی بیاہ اور تقریبات پر پہنے جاتے۔ شیفون کے دوپٹے رنگوائے اور پہنے جاتے۔ اکثر دوپٹے کو بیچ میں سے آدھا کر دیتے اور پھر بیچ میں اچھی سی لیس لگا کر دوبارہ جوڑے جاتے۔ اسی طرح چاروں طرف بھی اچھی سی لیس یا کروشیا کی بنی ہوئی لیس لگی ہوتی۔ جو خواتین عموماً خود بنایا کرتی ہیں۔ چارموم کے دوپٹے جو مٹھی میں آ جائیں بہت نفیس اور باہر سے منگوائے جاتے۔ امی اور ساس امی حج کر کے آئیں تو چارموم کے دوپٹوں کے تھان لے کر آئیں۔ امی کے دیے ہوئے اس دوپٹے پر میری دوست ہاجرہ نے جو کڑھائی کی، وہ بھی بہت منفرد اور عمدہ تھی۔ چارموم کے دو دوپٹے ابھی بھی میرے پاس ہیں۔ جنہیں یادوں کی طرح سینت سینت کر رکھا ہوا ہے۔ امی چارموم کے آف وائٹ دوپٹے پہنا کرتیں، ان کے ایک دوپٹے پر میں نے ڈیرہ سے کڑھائی کروائی تھی، یہ کڑھائی اور دوپٹہ ایسا تھا کہ ہر ایک کی نظروں میں سما جاتا، میری سلیقہ شعار ماں نے اس دوپٹے کو 35 سال یوں سنبھال سنبھال کر پہنا کہ ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں مجھے دوپٹہ دیتے ہوئے کہنے لگیں ”یہ لے جاؤ ذرا اس نرس کو دیکھو میرے سر سے دوپٹہ اتار کر دراز میں رکھ دیا“ کمرے میں آ کر اسے دھو لیا دو دن بعد ابدی سفر پر روانہ ہونے سے پہلے یہ دوپٹہ ان کے نورانی چہرے پر ویسا ہی اچھا لگ رہا تھا، جیسے لگا کرتا تھا۔

مردوں کے لیے شادی کا لباس دو گھوڑا بوسکی، جو زمانے کے حساب سے کافی قیمتی ہوتی اور اکثر باہر سے منگوائی جاتی۔ سفید شلوار اور قراقلی ٹوپی ہوتی، ہماری شادی میں بھی بوسکی کی قمیض کا کپڑا باہر سے منگوایا گیا، بارات والے دن کا یہ لباس ہوتا، ولیمے پر تھری پیس سوٹ پہننے کا رواج تھا میرے سرخ ساٹن کے سوٹ پر گوٹے کا کام تھا سرخ رنگ کے اس غرارے پر شیفون کا بھرا ہوا دوپٹہ تھا، غرارہ اور دوپٹہ اب تک اتنا خوبصورت تھا کہ کینیڈا میں میری نواسی نے اسے بڑے شوق سے پہنا اس وقت کے کاموں میں ایسی نفاست تھی کہ جو چند چیزیں میرے پاس ہیں ابھی تک ان کی رنگت اور کام ماند نہیں پڑا۔ اچھا ستاروں کا بھی خوب فیشن تھا میں نے اب اپنے ایک دوپٹے پر ستاروں کا جال اپنے ہاتھ سے بنایا ایک مونگیا رنگ کی ولی کی ساڑھی پہ سنہری ستاروں کا پلو اور باڈر بنایا۔ اس زمانے میں اپنے ہاتھ سے جہیز کی چیزیں بنانے، سجانے سنوارنے کا اتنا رواج تھا کہ مجھ ایسی کتابوں کے ساتھ وقت گزارنے والی، زیادہ کام نہ کرنے والی لڑکی نے بھی اچھی خاصی چیزیں اپنے ہاتھ سے بنا لیں۔

ساڑھی اور شرارہ ہمیشہ سے فیشن میں رہے اور سدا بہار رہے۔ لیکن اس وقت ساڑھیاں صرف بیاہتا خواتین پہنا کرتی تھیں۔ اسی طرح لڑکیوں کے فیشن جس طرح کے بھی ہوں مگر میک اپ کا کوئی خاص رواج تھا نہ اہتمام۔ کالج تک مجھے یاد ہے کہ پارٹی پر بھی بہت ہی ہلکی سی لپسٹک لگا لی تو لگا لی، باقی سیدھے سادے بال اور دھلے دلائے منہ کے ساتھ کالج جانا، تقریبات میں شامل ہونا، یہی معمول اور یہی دستور تھا۔ میکسی اس وقت بھی فیشن میں تھی اور مجھے یاد ہے کہ فورتھ ائر کی پارٹی میں ہماری یونین کی صدر نے سلیولیس میکسی پہنی تھی۔ اسی طرح ساڑھی کے ساتھ بھی عموماً سلیولیس بلاؤز پہنے جاتے تھے اور اسے قطعاً معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ کچھ سالوں بعد بار بار پرانے فیشن کو نئے ناموں نئے انداز کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ جیسے آج کل فرشی کا چرچا ہے جو ہمارے لیے قطعاً اجنبی نہیں ہے کئی دفعہ ہم نے تنگ شلواروں کے پائنچے کاٹ کے اسے فرشی شلوار کی شکل دی۔ اپنی اس مختصر سی زندگی میں بار بار کپڑوں کو ان کی تراش خراش کو اور ان کے انداز کو واپس آتے دیکھا پرانی چیزوں کو نئے انداز سے نئی نسل کو پہنتے دیکھ کر خوشی ہوئی اور دل میں اس خواہش نے جنم لیا کہ کاش کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس وقت کی روایات، محبت، سادگی اور شرم و حیا بھی واپس آ سکے تو کیا ہی اچھا ہو۔

حاصل کلام یہ ہے کہ یہ فیشن کوئی نیا نہیں ہے ہم نے اپنی زندگی میں کئی دفعہ اس فیشن کو دیکھا ہے، برتا ہے، پہننا ہے، مگر اس کو فرشی کا نام پہلی دفعہ دیا گیا ہے۔ فیشن چند سالوں بعد نئے ناموں کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں کپڑے اور فیشن کی بنیاد وہی رہتی ہے کبھی تراش خراش میں معمولی سا رد و بدل اور نئے ناموں سے لگتا ہے یہ کوئی نیا فیشن ہے لیکن ہم جیسوں کو جو یہ سب پہن چکے ہیں یاد آتا ہے کہ یہ نیا فیشن نہیں ہے بلکہ پرانے فیشن کی تجدید ہے۔

Facebook Comments HS