وزیر اعظم صاحب! تنخواہ دار طبقے پر رحم کیجئے
افراط زر کی موجودہ شرح سے قطع نظر، گزشتہ برسوں میں ہمارے ہاں مہنگائی راکٹ کی رفتار سے بڑھی ہے۔ کم و بیش ہر طبقے اور شعبے سے تعلق رکھنے والے شہری اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ قومی سطح پر معاشی صورتحال میں بہتری واقع ہوئی ہے۔ دو اڑھائی سال پہلے تک ملک کی معیشت کا حال یہ تھا کہ کھلے عام پاکستان کے دیوالیہ ہونے اور سری لنکا بننے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اس تناظر میں اقتصادی اعشاریوں میں آنے والی بہتری ایک حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ قومی معیشت میں آنے والی بہتری کے اثرات عام شہری تک نہیں پہنچے ہیں۔ عام آدمی ابھی تک مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں اس کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ بجلی گیس پانی وغیرہ کے بھاری بھرکم بل اسے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ پٹرول ڈیزل ادویات وغیرہ کی قیمتوں نے اس کے ہوش اڑا رکھے ہیں۔ جب تک عام آدمی کو ان معاملات زندگی میں ریلیف نہیں ملتا، اس کی کمر پر لدھا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا، اس کی آمدن اور اخراجات میں توازن نہیں آتا، اسے اقتصادی اعشاریوں میں آنے والی بہتری سے متعلق اعداد و شمار میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ایک سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار نے عوام کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ انہیں کھانے پینے، خرید و فروخت، غرض قدم قدم پر ٹیکس کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ اس صورتحال سے ہر طبقہ فکر کے لوگ سخت پریشان ہیں۔ خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کی حالت نہایت قابل رحم ہو چکی ہے۔ اس طبقے سے جڑے لوگوں کو ایک لگی بندھی تنخواہ میں گزارا کرنا پڑتا ہے۔ کاروباری افراد یا دیگر طبقات کسی نہ کسی طور ٹیکسوں سے بچنے کا کوئی حل یا طریقہ نکال لیتے ہیں۔ لیکن تنخواہ دار طبقے کے پاس ایسی کوئی آپشن نہیں ہوتی۔ ایک خود کار طریقہ کار کے تحت اس کی آمدن سے ٹیکس کٹتا ہے، اس کے بعد اسے تنخواہ ملتی ہے۔ ، پچھلے کچھ برسوں میں ہر حکومت نے تنخواہ داروں پر دھڑا دھڑ ٹیکس لگائے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ اور خاص طور پر سرکاری ملازمین یوں بھی آ سان ہدف ہوتے ہیں۔ ان سے نہایت آسانی سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے۔ ملازمت پیشہ شہریوں کی تنخواہوں سے اس قدر کٹوتی ہوتی ہے کہ وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے اور دوسری طرف تنخواہوں میں ہونے والی زبردست کٹوتی۔ اندازہ کیجئے کہ ایک آدمی سارا مہینہ محنت مشقت کرے اور جب اس کی تنخواہ ملے اور اس کا تیسرا حصہ ٹیکس کی مد میں کٹ جائے تو اس پر کیا بیتے گی۔
اس طبقے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ مہنگائی تو سارا سال راکٹ کی رفتار سے بڑھتی رہتی ہے، البتہ اس کی تنخواہ میں اضافہ صرف سالانہ بجٹ میں ہوتا ہے۔ یہ اضافہ بھی حکومت کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتا ہے۔ گزرے برسوں میں یہ بھی ہوا کہ ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے یہ اضافہ واپس لے لیا گیا۔ مطلب یہ کہ جتنا تنخواہوں میں اضافہ ہوا، اتنا ہی یا اس سے زیادہ ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ یعنی حساب برابر۔ اس صورتحال میں تنخواہ داروں کے پاس جلنے کڑھنے اور حکومت کو کوسنے دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ سرکاری ملازم کو تو خیر پھر بھی پکی نوکری کا آسرا ہوتا ہے۔ اس کی تنخواہ میں حکومتی اعلان کے بعد اونٹ کے منہ میں زیرہ ہی سہی، تاہم اضافہ ہو جاتا ہے۔ نجی شعبے کے ملازمین کی حالت زار کا اندازہ لگائیے۔ وہ تنخواہوں میں اضافے کے لئے سیٹھ کا منہ دیکھتے ہیں۔ سیٹھ کی مرضی ہے کہ تنخواہ بڑھائے یا نہ بڑھائے۔ نجی شعبے میں یہ مثالیں بھی موجود ہیں کہ تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر ملازمین کو نوکری سے ہی ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں۔
سرکاری جامعات کے اساتذہ بھی مشکل میں گرفتار ہیں۔ کچھ عرصہ سے اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں پر نظر ثانی کی جائے۔ انہیں وہی تنخواہیں، الاونس اور مراعات دی جائیں جو بیوروکریٹس کو ملتی ہیں۔ اساتذہ کے مطالبات تو خیر کیا پورے ہوتے۔ الٹا ان پر ٹیکس کا بوجھ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ قصہ یہ ہے کہ کسی زمانے میں اساتذہ اور ریسرچروں کو انکم ٹیکس میں 70 فیصد چھوٹ حاصل تھی۔ یہ استثنا کم ہوتے ہوتے 25 فیصد رہ گیا۔ اب حکومت نے ان کا ٹیکس استثنا مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ زیادتی یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں سے پچھلے مہینوں کی ٹیکس کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال پر اساتذہ بلبلا اٹھے ہیں۔ وہ سیاست دانوں کی طرح منظم احتجاجی تحریک تو چلانے سے رہے۔ تاہم مقدور بھر احتجاج ضرور کر رہے ہیں۔ اساتذہ تنظیمیں بھی ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں تاہم فی الحال کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ رہا۔ اساتذہ کو کوئی رعایت حاصل تھی تو اسے ختم کرنے کا بھلا کیا جواز ہے۔ سرکاری جامعات کے اساتذہ کی تنخواہیں اور مراعات پہلے ہی دیگر شعبوں کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔ اگر آپ ان میں اضافہ کرنے کی استعداد نہیں رکھتے تو انہیں پہلے سے حاصل چھوٹی موٹی رعایت سے محروم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب سمیت کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اساتذہ کو ٹیکس استثنا حاصل ہے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو ٹیکسوں میں استثنا حاصل نہیں ہے تو ان کی تنخواہیں بھاری بھرکم ہیں اور دس طرح کی مراعات انہیں حاصل ہیں۔ اساتذہ کی ٹیکس کٹوتی کی روداد سن کر یہ احساس بھی ہوا کہ عام تنخواہ دار پر ٹیکسوں کا بوجھ کس قدر مسلط ہے۔ اسے تو کبھی اساتذہ کی طرح کوئی استثنا، کوئی رعایت بھی حاصل نہیں رہی۔ وہ بے چارے کیسے زندگی بسر کرتے اور اپنی ضروریات پوری کرتے ہوں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ اس صورتحال سے آگاہ ہیں۔ علی پرویز ملک کی وزارت اب تبدیل ہو گئی ہے۔ تاہم ہفتہ دس دن پہلے بطور وزیر مملکت خزانہ انہوں نے ایک محفل میں اعتراف کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ اس کی برداشت اور استطاعت سے باہر ہو گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف تنخواہ دار طبقے پر 75 ارب روپے ٹیکس عائد کرنے کے حامی نہیں تھے۔ تاہم عالمی مالیاتی ادارے کے دباؤ پر وزارت خزانہ کو ایسا کرنا پڑا۔ وزارت خزانہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت کو تنخواہ دار طبقے کی آمدنی پر ٹیکس کی شکل میں گزشتہ مالی سال کے ابتدائی سات ماہ کے مقابلے میں رواں سال کے سات ماہ کے دوران 100 ارب روپے زائد ٹیکس موصول ہوا ہے۔ یہ جمع شدہ ٹیکس حکومت کی توقعات سے 25 ارب روپے زائد ہے۔ اس صورتحال سے حکومتی خزانے کو تو ضرور فائدہ ہوا ہے تاہم لاکھوں گھرانوں کی زندگی کس قدر مشکل ہو گئی ہے۔
وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہماری اقتصادی سمت درست ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار اس کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کچھ تو ہلکا ہونے دیجئے۔ جو لوگ وزیر اعظم شہباز شریف کو جانتے ہیں، وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ درد دل رکھنے والے آدمی ہیں۔ اپنی جیب سے مختلف ضرورت مند افراد اور فلاحی اداروں کی نہایت فراخ دلی سے مدد کرتے ہیں۔ اس بات کا اہتمام کرتے ہیں کہ ان کی امداد کا چرچا نہ ہو۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انہیں سولہ کروڑ عوام کی مشکلات کی خبر نہ ہو۔ لازم ہے کہ وہ اس پریشان کن صورتحال کا نوٹس لیں۔ تنخواہ دار طبقے کی زندگی میں آ سانی لانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر اعظم صاحب! سرکاری اور نجی ملازمین، جامعات کے اساتذہ، بلکہ سارے عوام ٹیکسوں میں ریلیف کے لئے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔


