زرعی زمینوں کو لاحق خطرات
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک کام کی تکمیل اور ایک مقصد کے حصول کی خاطر بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات ایسے فیصلے کر بیٹھتے ہیں جس کا نتیجہ ہمیں کچھ وقت بعد شدید نقصان اور پشیمانی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم اور بر موقع مثال ہمارے ہاں تھوک کے حساب سے راتوں رات سینکڑوں کی تعداد میں بننے والی ہاؤسنگ سکیمیں ہیں۔ پچھلے پندرہ بیس سالوں کے دوران اس سیکٹر میں راتوں رات امیر بننے کے چکر میں بے دریغ سرمایہ کاری ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ہماری زرعی زمینیں، کھلے میدان، جنگلات اور کھیت کلیان مسلسل سکڑ رہے ہیں۔ یہ ہاؤسنگ سکیمیں چونکہ زیادہ تر زرعی زمینوں پر بنائی گئی ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس لیے اگر ان ہاؤسنگ سکیموں کی یہی رفتار رہی تو تھوڑے عرصے بعد شاید ہمیں کاشتکاری اور زراعت کے لیے ڈھونڈنے سے بھی زرعی زمین نہیں ملے گی۔ کہا جاتا ہے کہ پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں میں جو اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اس میں زیادہ تر کالا دھن شامل ہے جسے راتوں رات سفید بنانے کے لیے نجی شعبے میں ہاؤسنگ سکیموں کا ڈول ڈالا گیا۔ ہاؤسنگ سکیموں کی اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ پراپرٹی ڈیلنگ کے موجودہ جاری بحرانی دور سے قبل تک اس شعبے میں سرمایہ کاری کو نہ صرف سب سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا تھا بلکہ اس میں لگائے گئے سرمائے کے منافع اور ریٹرن کی شرح کو بھی کسی بھی سرمایہ کاری سے زیادہ محفوظ اور منافع بخش تصور کیا جاتا تھا۔
یہ تمہید ہمیں اس خبر کے تناظر میں باندھنی پڑی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران چقندر اور گنے کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس سے صوبے کی زرعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور چینی کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھنے کی شکایات ہیں، یہ صورتحال نہ صرف کسانوں اور متعلقہ صنعتوں بلکہ عام صارفین کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ ہمیں صرف ان دو زرعی اجناس کی پیداوار ہی میں کمی کا سامنا نہیں ہے بلکہ زراعت سے متعلق دیگر اجناس جن میں اناج اور غلے کے علاوہ پھل اور سبزیاں بھی شامل ہیں ان کی مقدار اور معیار میں بھی شدید کمی کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی ویسے تو کئی وجوہات ہیں لیکن ان میں ایک بڑی اور واضح وجہ ہماری قیمتی زرعی زمینوں کا بغیر کسی مناسب منصوبہ بندی اور ترجیحات کے ہاؤسنگ سکیموں میں تبدیل ہونا ہے۔
پشاور کے گرد و نواح میں ہاؤسنگ سکیموں کے بے ہنگم پھیلاؤ سے قبل ہمیں اپنے بچپن کا وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب موجودہ رنگ روڈ سے ملحقہ ہمارے گاؤں موضع سفید ڈھیری کے علاوہ اردگرد کی اکثر زرعی زمینیں دریائے باڑہ کے پانی سے سیراب ہوا کرتی تھیں، یہ پانی مختلف کھالوں اور نالوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے باڑہ کے نشیبی علاقوں شیخ محمدی، سنگو، لنڈے، سربند اور پشتخرہ بالا سے ہوتا ہوا ہمارے گاؤں میں پہنچ کر وہاں سے یونیورسٹی ٹاؤن، پاؤکہ اور آبدرہ کے راستے تہکال تک کے علاقوں کو سیراب کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اس پانی کو پینے اور نہانے دھونے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اسی دریائے باڑہ سے انگریزوں کے دور حکومت میں بھی پشاور چھاؤنی کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاتا تھا جس کے لیے پشتخرہ پایان میں باقاعدہ پمپنگ ہاؤس بنایا گیا تھا جس کے آثار اب بھی موجود ہیں۔
اسی طرح وہ مناظر اب بھی ہماری یادداشت میں محفوظ ہیں جب شام ڈھلتے ہی گاؤں کی خواتین مٹکے اپنے سروں پر اٹھا کر یا بغلوں میں داب کر قریبی ندی نالوں سے پانی بھرنے کے لیے ٹولیوں کی شکل میں گھروں سے نکلتی تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب نہ تو آبادیاں اتنی تیزی اور بے ہنگم طور پر پھیلی ہوئی تھیں اور نہ ہی ابھی ٹیلی وژن، ٹیلی فون، موبائل اور انٹر نیٹ اتنے عام ہوئے تھے کہ اب جن سے اگر ایک طرف فرصت کے لمحات نکالنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے تو دوسری جانب اس زمانے میں چونکہ لوگ خود غرضی سے دور تھے اور اجتماعی زندگی کے تصورات اتنے دھندلائے ہوئے نہیں تھے جتنے آج کل ہیں اس لیے خواتین کا مٹکوں کے ذریعے قریبی ندی نالوں سے پانی بھرنا روز کا معمول ہوتا تھا۔ چونکہ اس دور میں لوگوں کی آنکھوں میں حیا ابھی باقی تھی اور عورتوں کا احترام ایمان کا درجہ رکھتا تھا اس لیے خواتین کے پانی لانے کے لیے بالعموم جو وقت مقرر تھا اس وقت بھولے سے بھی ان راستوں پر مردوں کا گزر نہیں ہوتا تھا بلکہ ان اوقات میں مرد یا تو حجروں اور بیٹھکوں میں گپ شپ میں مشغول ہو کر خواتین کو آزادانہ نقل و حرکت کا موقع فراہم کرتے تھے یا پھر دن بھر کے کام کاج کی تھکاوٹ کی وجہ سے گھروں میں موجود رہتے تھے جس سے خواتین کو دیہات کے گلی کوچوں میں بغیر برقعے اور چادر کے گھریلو کپڑوں اور دوپٹے میں آنے جانے کی آزادی مل جاتی تھی۔
یہ درست ہے کہ نئی سڑکیں اور نئی نئی بستیوں کا قیام زندگی کی ضرورت ہے لیکن یہ ضروریات زرعی زمینوں کی بربادی کی قیمت پر پوری نہیں ہونی چاہئیں۔ رنگ روڈ بلا شبہ وقت کی ضرورت تھی لیکن اس کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے وہ اس کے فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بنا ہے۔ رنگ روڈ کو اگر محض ٹریفک کے متبادل نظام کے طور پر لاگو کر کے اس کے ارد گرد قیمتی زرعی زمینوں کو کسی بھی طرح حتیٰ کی قانون سازی کے ذریعے ضائع ہونے سے محفوظ بنایا جاتا تو اس کا زرعی شعبے کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کی بجائے فائدہ ہوتا لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ رنگ روڈ کے آرپار ہمیں کئی کئی میل تک زرعی زمینیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں بلکہ ان کی جگہ بھانت بھانت کی ہاؤسنگ سکیمیں، پلازے، مارکیٹیں اور کنکریٹ کی بڑی بڑی عمارتیں ہمارا منہ چڑا رہی ہیں۔
اسی رنگ روڈ کے ارد گرد واقع زرعی زمینوں پر کبھی لوگ سائبیریا اور وسطی ایشیا سے غول در غول آنے والے جنگلی پرندوں کا شکار کیا کرتے تھے لیکن اب نہ تو ہمیں وہ پرندے نظر آتے ہیں اور نہ ہی وہ شکاری اور شکار گاہیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو کبھی شکاریوں کی دلچسپیوں کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ حسرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ افراتفری اور بدانتظامی حکومتی اداروں اور منتخب نمائندوں کی آنکھوں کے سامنے اور ان کی ناکوں کے نیچے ہو رہی ہے اور بدقسمتی سے کسی بھی سطح پر اس پریشان کن صورتحال کی روک تھام اور اصلاح احوال کے لیے نہ تو کوئی آواز اٹھتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور نہ ہی کوئی قدم اٹھتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو ہماری اجتماعی بے حسی اور لاپرواہی کی انتہا ہے جس کا خمیازہ ہمیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو شدید غذائی بحران اور موسمیاتی تبدیلیوں کی شکل میں بھگتنا پڑ سکتا ہے لہٰذا توقع ہے کہ ہمارے حکمران اور پالیسی ساز اس اہم مسئلے کے مستقل اور دیرپا حل پر توجہ دیں گے۔


