تھیلی وقت سے پہلے کیوں پھٹ گئی؟


”چوبیس ہفتوں پہ پانی کی تھیلی پھٹ گئی۔ پانچ چھ ہفتے مسلسل پانی آتا رہا۔ تیس ہفتے پہ آنول پھٹ گئی۔ سیزیرین کر کے بچہ نکالا۔ دو دن زندہ رہا اور پھر واپس اللہ کے پاس۔

یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ بچہ کیوں نہیں بچ سکا؟ پانی کی تھیلی کیوں پھٹی؟ آنول کیوں پھٹی؟ ”
آہ ہا۔ میری بچی۔ ایک ہی پیغام میں اتنے سوال۔ چلو کوشش کرتے ہیں کہ ایک ایک کر کے جواب دیں۔

بچے دانی میں جب بچہ بننا شروع ہوتا ہے تو دو چیزیں اسے خاص طور پہ فطرت کی طرف سے عطا کی جاتی ہیں، جو اس کی بقا کے لیے لازم ہیں۔ ماں سے جڑی آنول اور اس کے گرد پانی سے بھری تھیلی۔

تھیلی دو جھلی نما پردوں سے بنی ہوتی ہے جو نظر تو نرم و نازک آتے ہیں لیکن بچے اور اس کے گرد پانی کو ایک غبارے کی طرح اندر سمیٹے رہتے ہیں۔ اگر آپ اسے اچھی طرح سمجھنا چاہیں تو ایک غبارے میں ہوا بھر کر پانی بھر لیں اور کوئی چھوٹا سا کھلونا بھی ڈال دیں۔ غبارے میں کھلونا پانی کے بیچ اچھلتا، کودتا، تیرتا اور ادھر سے ادھر جاتا نظر آئے گا۔ یہی کچھ بچہ کرتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں بچہ بڑا ہو گا اور پانی کی مقدار زیادہ ہوگی، تھیلی آپ ہی آپ بڑی ہوتی جائے گی۔ قدرت نے بچے کی تھیلی کو خاصا مضبوط بنایا ہے سو نارمل حالات میں تھیلی پھٹنے کا کوئی احتمال نہیں ہوتا۔

اس کو ایسے سمجھیں کہ جب درد زہ شروع ہوتا ہے اور بچے دانی سکڑ اور پھیل کر بچے کو باہر کی طرف دھکیل رہی ہوتی ہے تب بھی تھیلی کی الاسٹک جیسی فطرت اسے پھٹنے نہیں دیتی اور اکثر اوقات ڈاکٹر یا مڈ وائف کو ایک اوزار کی مدد سے تھیلی کو پھاڑنا پڑتا ہے۔ پچھلے زمانوں میں یہ اوزار سٹیل کا بنا ہوتا تھا مگر آج کل پلاسٹ کا بنا ہوا Amnihook استعمال ہوتا ہے۔ ویجائنا سے ہوتا ہوا ایمنی ہک بچے دانی میں داخل ہو کر اپنی تیز چونچ سے تھیلی میں سوراخ کرتا ہے تاکہ پانی خارج ہو جائے اور بچہ پیدا ہونے میں سہولت ہو سکے۔

اس تفصیل سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس تھیلی کا پھٹنا معمول کی بات نہیں اور یہ آسانی سے نہیں پھٹتی / یا پھاڑی جا سکتی۔

پھر کچھ خواتین میں ایسا کیا ہوتا ہے کہ پانی کی تھیلی آپ ہی آپ وقت سے پہلے پھٹ جاتی ہے؟

اس کا جواب بھی غبارے سے لیجیے۔ اگر غبارہ ضرورت سے زیادہ پھلا دیا جائے اور اس کی پھیلنے کی صلاحیت ختم ہو جائے تو وہ پھٹ جائے گا۔

اگر غبارے کی جھلی کہیں سے کمزور پڑ جائے تو وہ وہاں سے پھٹ جائے گی۔
اگر غبارے کا کسی نقصان پہنچانے والی چیز سے سامنا ہو جائے تب بھی وہ پھٹ جائے گا۔

گو بچے کی تھیلی بچے دانی کے اندر ہے لیکن اسے نقصان پہنچ سکتا ہے اور وہ کمزور ہو کر پھٹ بھی سکتی ہے۔ نقصان پہنچانے والی چیزیں بہت سی ہیں لیکن ان میں سر فہرست کچھ جراثیم ہیں جو ویجائنا میں داخل ہو کر بچے دانی کے منہ یعنی سروکس سے ہوتے ہوئے تھیلی پہ حملہ کرتے ہیں۔

ویجائنا انسانی منہ کی طرح ایک کھلی ہوئی نالی ہے لیکن منہ اور ویجائنا میں فرق یہ ہے کہ خواتین منہ کی صحت کا خیال تو کر لیتی ہیں لیکن ویجائنا بے چاری کو اس قابل نہیں سمجھا جاتا۔ پیشاب اور پاخانے کے خروج والی جگہ کی ہمسائیگی ویجائنا کے لیے بہت مسائل پیدا کرتی ہے اور پاخانے سے نکلنے والے کروڑوں جراثیموں کا ویجائنا تک پہنچنا قطعی مشکل نہیں۔

قدرت نے ان جراثیموں کے خلاف جنگ لڑنے کی طاقت ویجائنا کو دی ہے لیکن یہ طاقت ملیا میٹ ہو جاتی ہے جب خاتون ویجائنا کا اس طرح خیال نہ رکھے جیسے رکھنا چاہیے۔

جس طرح آنکھیں آشوب چشم کا شکار ہوتی ہیں، ناک سے گاڑھی رطوبتیں نکلنا شروع ہو جاتی ہے، دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے بالکل اسی طرح ویجائنا میں انفیکشن ہو جاتی ہے اور یہ انفیکشن بچے کی تھیلی پھٹنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ہمارے ہاں ویجائنا کی ہر طرح کی انفیکشن کو لیکوریا یا گندے پانی سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ویجائنا سے نارمل رطوبتوں کا اخراج قدرت کا دفاعی نظام ہے بالکل اسی طرح جیسے آنکھ میں آنسو، کان میں ویکس اور ناک کے بال اور ہلکا پھلکا پانی۔

یہ رطوبتیں اگر مقدار میں زیادہ ہوجائیں، دہی جیسی سفید پھٹکیاں بن جائیں، انڈے کی زردی جیسی پیلی دکھنے لگیں یا دودھ جیسی سفید، سمجھ لیں کہ گڑبڑ ہو گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ویجائنا سے بدبو آنے لگے، خارش شروع ہو جائے تو تب مسئلہ اور بھی خراب ہوتا ہے۔

دنیا جراثیموں سے بھری پڑی ہے، کووڈ وائرس، پولیو وائرس، چیچک، ٹی بی، ٹائیفائیڈ، پیچش۔ سب کچھ ہی ان کی دین ہے۔ یہ ایسے دشمن ہیں جو نظر نہیں آتے اور ہر وقت تاک میں رہتے ہیں۔ اور ان کا نشانہ حمل میں تو کبھی نہیں چوکتا کیونکہ حمل میں جسم کی مدافعت کمزور ہو جاتی ہے کیونکہ بچے کی بڑھوتری تب ہی ممکن ہے اگر ماں کا جسم اپنے آپ کو بھول جائے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر جراثیم حملہ کریں تو حاملہ عورت کی مدد نہیں کی جا سکتی۔ سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ویجائنا پہ ہونے والے حملے کو پسپا کیا جائے۔

سب سے پہلے تو حاملہ کو یہ سمجھنا ہے کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں؟ کون سی علامات ظاہر ہو رہی ہیں؟ اور طبیعت میں کیا تبدیلی ہے؟

دوسرے مرحلے پہ حاملہ کی ڈاکٹر کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ ان علامات کو سمجھ سکے اور ان کا علاج کر سکے۔ یہاں ہمیں ان ڈاکٹروں سے بہت گلہ ہے جو حمل کی سائنس کو الٹراساؤنڈ کرنے، فولاد کی گولیاں لکھنے اور ڈلیوری کروانے کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھتے یا توجہ نہیں کرتے۔

ان انفیکشنز کا علاج تو سادہ سا ہے، Treat the cause۔ ویجائنا کا اندر سے معائنہ کریں، اپنی آنکھ سے دیکھیں کہ ویجائنا کے اندر کیا کچھ پل رہا ہے اور اس کے مطابق طریقہ علاج لکھیں۔ حاملہ عورت کو بھی جاننا چاہیے کہ حمل میں کچھ بھی نارمل سے ہٹا ہوا نظر آئے تو اس پہ غور کرے اور جاننے کی کوشش کرے کہ کیا ہو رہا ہے؟

کاش ہم آپ کو وہ سب پڑھا سکتے جو ہم نے برسوں کتابیں ”پھرول پھرول“ کے، مریضوں کے اندر گھس کے اور اپنے ننھے منے ذہن پہ زور دے دے کر سیکھا ہے۔ چلیے جب تک زندگی ہے، کچھ نہ کچھ تو بتاتے ہی رہیں گے۔

یہ ہے ہمارا گائنی فیمنزم۔ اپنے جسم کے اشارے سمجھیں اور اس کی حفاظت کریں!
بشکریہ وی نیوز

Facebook Comments HS