مارچ، عالمی یوم تپدق24


muhammad salim gujranwala

 

ہر سال دنیا بھر میں 24 مارچ کو عالمی ادارہ صحت کے تحت یوم انسداد تپدق منایا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے 24 مارچ 1995 ء سے اس دن کو منانا شروع کیا ہے۔ جس کا مقصد لوگوں کو اس بیماری، اس کی روک تھام اور علاج و معالجہ کے متعلق آگاہی دینا ہے۔ اس روز مختلف قسم کی واکز، سیمینارز، مذاکرے اور پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔

ٹی بی دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی دسویں بڑی وجہ ہے۔ 2015 ء کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 10.4 ملین افراد اس بیماری سے متاثر ہوئے جن میں سے 1.8 ملین افراد اس بیماری کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گئے۔

ٹی بی زیادہ تر انسانی پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے لیکن یہ جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ ایک جرثومے مائیکو بیکٹیریم ٹیوبرکلوسز سے ہوتی ہے۔ ٹی بی زیادہ تر ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو گندے، تعفن زدہ اور تنگ و تاریک ماحول میں رہتے ہیں۔ غربت اور ٹی بی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ٹی بی کی علامات میں، دو ہفتے سے زائد کھانسی، سینے میں درد، رات کو ہلکا بخار ہونا، تھکاوٹ، ٹھنڈے پسینے، کمزوری اور بلغم کے ساتھ خون کا نکلنا شامل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی علامت ہو تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ٹی بی کی زیادہ تر تشخیص بیماری کی علامات، سینے کے ایکسرے اور بلغم کے نمونے کی ٹی بی کے جراثیم کی جانچ کرنے سے ہو جاتی ہے۔ حکومت پاکستان نے چھوٹے سے مرکز صحت سے لے کر بڑے سے بڑے ہسپتال میں اس بیماری کی تشخیص اور علاج معالجے کے خصوصی شعبے قائم کیے ہیں جہاں تشخیص و علاج معالجہ کی تمام سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

ٹی بی سو فیصد قابل علاج مرض ہے۔ بیماری کی شدت کے مطابق 6 یا 9 ماہ تک دافع ٹی بی ادویات کھانی پڑتی ہیں۔ زیادہ تر مریض دافع ٹی بی کی ادویات بہت کم عرصے کھا کر چھوڑ دیتے ہیں جس کے باعث ان کا علاج صحیح اور پورا نہیں ہوتا اور ان میں بیماری کے جراثیم ادویات کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔ حکومت اور اس کے ذیلی صحت کے اداروں نے دافع ٹی بی کی ادویات شخصی نگرانی کے تحت کھلانے کا آغاز کیا ہے جس کو ٹی بی ڈاٹ پروگرام کہتے ہیں۔ اس پروگرام میں مریض کا کوئی قریبی رشتے دار یا دوست اس کو اپنی زیر نگرانی دافع ٹی بی ادویات کھلاتا ہے اور ایک کارڈ پر اس کا اندراج کرتا ہے۔ اس طرح باقاعدہ 6 یا 9 مہینے شخصی زیر نگرانی دافع ٹی بی ادویات کا استعمال کرنے سے مریض سو فیصد اس بیماری سے صحت یاب ہوجاتا ہے۔

Facebook Comments HS