خدائی فوجدار
پرسوں رات عشاء کے بعد بیگم کو لے کر سسرال چلے۔ طبیعت پوچھی۔ میرے سُسر بہت تعلیم یافتہ اور پرہیزگار ہیں۔ اُن کی نصیحتیں سُنیں۔ ساس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا اور واپس روانہ ہوئے۔ ایک گلی کو کراس کرنے لگے تو ایک بزرگ سڑک پار کرتے کرتے رُک گئے۔ میں نے بریک لگائے۔ اُن کو رستہ دیا۔ تاہم جب وہ سڑک پار کر گئے تو میں نے اُن کے پاس گاڑی روکی اور شیشہ نیچے کر کے معذرت کے ساتھ بات کرنی چاہی۔ ان کی اجازت سے عرض کیا کہ رات کے وقت گہرے رنگ کے کپڑے پہن کر سڑک کراس کرنا تو الگ، گلی میں ویسے بھی پھرنا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی ساری گلیاں روشن نہیں ہوتیں۔ گاڑی کی روشنی میں گہرے رنگ کے کپڑے نظر نہیں آتے کہ وہ سڑک کی رنگت کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ بڑی سڑکوں پر تو سامنے سے آنکھوں کو خیرہ کرنے والی تیز لائٹ کی موجودگی میں تو اور بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران میرے کم از کم چار جاننے والے سروس روڈ پر حادثے کے شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ہماری خواتین میں کالی عبایہ کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ اب جبکہ رات کو بھی بازار نکلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ جبکہ بے ہنگم ٹریفک پیدل چلنے والوں کا حق ماننے کو تیار نہیں۔ اس لئے عرض ہے کہ اپنی حفاظت کے خیال سے سہی، کالے کپڑے پہن کر رات کو سڑک پر نکلنے سے گریز کریں۔ یا کم از کم ایسے جاگرز، یا جیکٹ پہنیں جس میں ریفلیکٹر رنگ لگا ہو۔
قانون نافذ کرنے والے نہ صرف سیاہ رنگ کی وردی میں ملبوس ہوتے ہیں بلکہ کالے ڈھاٹے بھی باندھے ہوتے ہیں۔ جب وہ عارضی چوکی بنا کر موبائل کی ٹارچ سے رکنے کا اشارہ کرتے ہیں تو سامنے سے آنے والی بیم کی روشنی میں نظر ہی نہیں آتے۔ کم از کم ان کو تو ریفلیکٹر جیکٹ اور پولیس کا نشان رکھنا چاہیے ورنہ بلا وجہ چلتی گاڑی پر فائرنگ ہوتی رہے گی۔




