ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
کچھ لوگوں سے خون کا رشتہ نہیں ہوتا مگر دلی اور روحانی ایسی نسبت ہوتی ہے کہ جو سب رشتوں سے بڑھ کر ہوتی ہے خاص طور پر جب اس رشتے کی بنیاد اللّٰہ اور اس کے حبیب کی محبت پر رکھی جائے۔ اس رشتے کی پائیداری و خلوص کے بھی کیا کہنے، بی گل سے میرا ایسا ہی رشتہ تھا کئی سال پہلے جب میری بہن اس مدرسے میں داخل ہوئیں، تب ان سے ملاقات ہوئی۔
بی گل کا مدرسہ ایک انفرادیت رکھتا تھا، اس کی بنیاد میں اخلاص اور بے غرضی شامل تھی۔ عموماً مدرسے لوگوں کے تعاون اور چندوں پر چلتے ہیں۔ میں نے بہت سے ایسے مدرسے بھی دیکھے ہیں کہ جن کے منتظم دیکھتے ہی دیکھتے عالی شان کوٹھیوں میں منتقل ہو گئے۔ بی گل کے گھر میں قائم ان کا مدرسہ ایسا ہے کہ جس کے لیے انہوں نے کبھی کسی سے چندہ نہیں لیا، نہ ہی بچوں سے فیس لی ان کی محبت بے غرضی اور خلوص کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے مدرسے میں چھوٹی بچیوں، جوان اور بڑی بوڑھیوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ انہیں اپنے گھر کے ساتھ ملحقہ اپنی بہن کا گھر اپنی زمین دے کر مدرسے کے لیے خریدنا پڑا۔ میری بہن، بھابھی سب مدرسے کی طالبہ رہی ہیں، میں چونکہ دور ہوں اور کبھی کبھار میرا کوہاٹ جانا ہوتا تو بی گل سے ملنے ضرور جاتی۔ اس طرح ان سے ایک ایسا تعلق استوار ہو گیا کہ جو چند گنے چنے لوگوں کے ساتھ ہے ان کے بے لوث کاموں کو دیکھ کر کئی دفعہ میں نے پیشکش کی کہ مجھے بھی اس کار خیر میں بہت معمولی سا حصہ دے کر شامل کر لیں مگر انہوں نے ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیا۔ نہیں ایسی کوئی ضرورت نہیں جب کبھی ہوئی ضرور آپ کو بتاؤں گی، ان کے اس انداز کو دیکھ کر پھر میں خود سے کبھی کوئی نہ کوئی چیز مدرسے کے لیے لے لیتی۔
مدرسے کی طالبات سے انہوں نے کبھی کوئی تحفہ قبول نہیں کیا، یہاں تک کہ ان کے بیٹے کی شادی ہوئی سب نے اس موقع پر دلہن کو منہ دکھائی دینا چاہی مگر انہوں نے سختی سے منع کر کے خود مدرسے کی طالبات کو مٹھائی کھلائی اور کتابوں کا تحفہ یہ کہہ کر دیا کہ اس خوشی کے موقع پر میں آپ کو تحفہ دوں گی۔ گو کہ میں کئی ماہ بعد کوہاٹ جاتی، اس کم کم ملنے کے باوجود ایک بہت خوبصورت مودت و محبت کا رشتہ قائم ہو گیا، اس رشتے کو مزید استحکام ملا جب میں نے یہ حدیث پڑھی کہ ”خالص اللہ کے لیے محبت کرنے والے روز قیامت ایسے محلات اور ایسے منبروں کے سائے تلے ہوں گے کہ پیغمبر بھی ان پہ رشک کریں گے اور وہ پوچھیں گے کہ یہ کون ہیں، جواب ملے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ خالص اللہ کے لیے محبت کی“ ۔ اس حدیث کی روشنی میں میں نے جائزہ لیا ہے کہ کیا میری زندگی میں کچھ ایسے لوگ ہیں۔ سر فہرست میری بہت پیاری دوست روبینہ قاضی کا نام ذہن میں آیا، جن سے دوستی کی ابتدا ان کی نعتیں سن کر ہوئی ان کی نعتیں ان کا عشق رسول یہ ہماری دوستی کی بنیاد بنا۔ پھر پھول کے ایڈیٹر شعیب مرزا نے ایک حدیث کے تحت کہانی لکھوائی جس میں میں نے اس حدیث کے تحت اپنی اس دوست سے دوستی اور محبت کو اس کہانی کی بنیاد بنایا تھا۔
ان کے علاوہ بی گل کے ساتھ تعلق بھی ایک ایسا خالص روحانی تعلق تھا جس کی بنیاد اللہ، اللہ کے رسولﷺ اور ان کی لائی ہوئی کتاب سے محبت تھی چاہے ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن دنیا میں ساری محبتیں اور تعلق ”کچھ دو اور کچھ لو“ کی بنیاد پر چلتے ہیں لیکن الحمداللّہ میری زندگی میں چند لوگ ایسے ہیں جن سے دوستی کسی بدلے کی خواہش پر نہیں۔
بی گل کے ساتھ رفتہ رفتہ محبت کا یہ رشتہ مضبوط تر ہوتا چلا گیا اور جتنا جتنا میں ان کے قریب ہوئی ان کی شخصیت اور بے غرضی مجھے زیادہ متاثر کرتی گئی وہ لینے کی بجائے دینے پر یقین رکھتی تھیں۔ میں جب جاتی تو ان کی کوشش ہوتی کہ کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور دیں پھر اتنے اچھے الفاظ میرے لیے استعمال کرتے ہوئے دعائیں دیتیں میں کہتی کہ یہ آپ کا حسن ظن ہے لیکن جو آپ کہہ رہی ہیں آپ جیسی نیک ہستی کی دعائیں یہ باتیں فرشتے بطور گواہی کے لکھ لیں۔ میری بہن حیران ہوتی۔ بی گل تو کسی سے کچھ نہیں لیتیں، تمہارا تحفہ کیسے لے لیتی ہیں۔ تمہارے ساتھ خاص تعلق ہے۔ وہ خود ہی جواب دیتی۔
بچوں سے بڑوں سے پیار ہمدردی اور خلوص ان کا خاصہ رہا 2020 میں، جب میں ایک مہلک مرض کا شکار ہوئی تو انہوں نے لگاتار کئی روز تک مدرسے میں ختم اور اجتماعی دعائیں کروائیں۔ میری صحت یابی کی دعائیں کرتی رہیں۔
ایسے اللّہ والے درویش لوگ خود کو چھپا کر رکھتے ہیں جس طرح کے خواب دیکھتے ہیں اور جیسے نظارے کرتے بہت کم اپنے ایسے خواب دوسروں کو سناتے ہیں کبھی کبھار کسی ملاقات میں وہ زیارت کرنے اور مختلف خوابوں کا ذکر کر دیتیں ان کی کیفیت یہ تھی کہ بقول شاعر
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم میر
سارے جہاں کا در ہمارے جگر میں ہے
درد دل اور سوز و گداز کا یہ عالم تھا کہ کسی کی بھی تکلیف ہو، سن کر تڑپ اٹھتیں آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے اور وہ ختم، ذکر اذکار کر کے دعائیں کرتیں پچھلے سال جب میرے پے در پے آپریشن ہوئے میری صحت یابی کے لئے دعائیں کرواتی رہیں ختم کرواتی رہیں، مجھے تسلی و تشفی دیتی رہیں۔ مجھے ان کی دعاؤں پہ ایسا یقین اور اعتماد تھا کہ میں اپنی ہر تکلیف انہیں بتا کے مطمئن ہو جاتی۔ میری اس بیماری میں بار بار مجھے دعاؤں کی سندیسے بھجوائے اور میری بہنوں کو کہتی رہیں کہ ایسے ہنستی مسکراتی ہوئی آجاتی تھی اللّہ کرے دوبارہ وہ پہلے کی طرح ہستی مسکراتی ہمارے گھر آئے۔ ان کی دعائیں میری ڈھارس میری تسلی، میرا اعتماد تھیں۔ اپنی شدید بیماری میں مجھے تسلی رہتی کہ ایک ایسی نیک ہستی بھی ہے جو اپنی شبانہ روز دعاؤں میں مجھے یاد رکھے ہوئے ہے۔ نہ صرف میرے ساتھ بلکہ میرے بچوں خاص طور پہ عائشہ کے ساتھ انہیں دلی محبت تھی آج ان کی باتوں اور یادوں کی یلغار ہے، ان کے کس کس انداز محبت کو یاد رکھوں۔
ایک دفعہ انہوں نے اصرار کیا کہ میں اگر اس ہفتے آ سکوں تو طالبات میں تقسیم اسناد کی تقریب ہے۔ اس بابرکت محفل میں شرکت سے مجھے بھی خوشی اور فیض ملے گا اور ان کو بھی بہت خوشی ہوگی میں نے ان کے کہنے کے مطابق پروگرام بنا لیا، اور ان سے درخواست کی کہ بچیوں کے لیے تحائف میں خرید لیتی ہوں۔ انہوں نے کہا نہیں تحائف خرید کر پیک کر لیے ہیں، بس آپ آ جائیں تو میں چلی گئی تبلیغ اور دعاؤں کے بعد طالبات کو اسناد دینے کا مرحلہ آیا تو مجھے بلا کر اپنے ساتھ کھڑا کر لیا اور میرے ہاتھ سے طالبات کو اسناد دلوائیں۔ مجھے ان کے ساتھ کھڑا دیکھ کے مدرسے کے بہت سے لوگوں کے ماتھے پر بل پڑ گئے ایک نے تو فقرہ بھی کس دیا میں نے ہنس کر کہا یہ تو اللّہ کی دین ہے اور ان کی محبت ہے، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ مجھے مہمان خصوصی کے طور پر بلا رہی ہیں میرے لیے سرپرائز تھا چلیں میں اللّہ سے دعا کرتی ہوں کہ جس طرح اس دنیا میں، اس محفل اور بہت سی جگہوں پر مجھ دنیا دار کو عزت اور مرتبہ دیا ہے اس دنیا میں بھی بغیر استحقاق بغیر حساب کتاب کے جنت الفردوس میں نیک لوگوں کے ساتھ شامل کر لے۔ ان کی مہربان شخصیت کی کیسی روشن یادیں جگنو کی طرح چمک رہی ہیں۔
پھر میں ابھی ٹھیک نہیں ہوئی تھی کہ سنا، بی گل بیمار ہیں مگر بوجہ علالت میں انہیں دیکھنے نہ جا سکی۔ پھر وہ ٹھیک ہو گئیں کوئی ہفتہ پہلے سنا شدید بیمار ہیں میں نے فون کیا تو ہسپتال سے گھر آ چکی تھیں آواز سے وہ بالکل بھی بیمار نہیں لگ رہی تھیں آدھے گھنٹے سے زیادہ انہوں نے ڈھیر ساری باتیں کیں، دعائیں دیں، مجھے میرے بچوں کو خاص طور پر عائشہ کو جو ان سے رابطے میں تھی پھر مجھے خواب سنانے لگیں کہ آئی سی یو میں، میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں بیت اللّہ شریف میں ہوں سامنے آپ ﷺ نظر آئے ان کے ساتھ بی بی فاطمہ دکھائی دیں بچوں کو کہا سامنے سے ہٹیں مجھے یہ سب دیکھنے دیں میں بیت اللّہ میں کھڑی ہوں بچوں نے کہا آپ آئی سی یو میں ہیں، پھر بتانے لگیں کہ آپ کو کیا بتاؤں کہ فاطمہ کس قدر حسین و جمیل ہیں بچوں کو کہا ہے کہ میں عمرے پہ جاؤں گی میں نے کہا بالکل ضرور جائیں گی۔ میں نے آپ کو بیماری کی حالت میں نہیں دیکھا، آپ بھی میرے لیے دعا کرتی رہیں کہ میں پہلے کی طرح ہنستی مسکراتی آپ سے ملوں الحمداللّہ اب میں کافی حد تک ٹھیک ہوں میں دعا کرتی ہوں کہ میں آپ سے ملوں تو آپ کو بالکل تندرست و توانا دیکھوں۔ مجھے اندازہ تھا کہ اس خواب کی تعبیر کچھ اور ہے۔ تیسرے رمضان المبارک چار بجے ان کے راہ عدم سدھارنے کی خبر ملی۔ میں اس وقت موبائل پر ایک پوسٹ پڑھ رہی تھی کہ آج بی بی فاطمہ کا یوم وصال ہے، دل دکھ سے بھر گیا، آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے دل نے کہا اس خواب کی تعبیر شاید یہ تھی کہ آپ کو رمضان المبارک کے اس مبارک دن ابدی سفر پر روانہ ہونا تھا۔
افطاری کے وقت تک کوہاٹ پہنچ گئے اور جب سفید براق کفن میں ان کا نورانی چہرہ دیکھا ہے تو اپنا ہی جملہ یاد آیا کہ میں نے آپ کو بیمار نہیں دیکھا میں آپ کو اچھی حالت میں دیکھوں گی یہ اندازہ نہیں تھا کہ آج انہیں ایک سال بعد سفر آخرت پر روانگی سے پہلے دیکھوں گی ساری عمر دین کی تبلیغ قرآن فہمی لوگوں سے ہمدردی، اور پیار کیا، طالبات کی ایسی جماعت تیار کی جو اپنوں سے زیادہ بڑھ کر گریہ کناں تھیں۔ کتنے دل تھے جو انہوں نے جیت رکھے تھے دس بجے رات کے اندھیرے میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔
خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپرد خاک کیا
”بی گل اور ناز گل“
بی گل اور ناز گل دو بہنیں، چمنستان دنیا میں دو گل تر جنہوں نے اپنے رنگ میں، اللہ کے وران کے رنگ میں بے شمار لوگوں کو رنگا، جن کے کردار اور خوش خلقی کی مہک نے کئی دلوں کو اسیر اور مسحور کیا۔ بی گل کا ذکر تو آپ پڑھ چکے ناز گل ان کی چھوٹی بہن تھیں۔
خدمت، قربانی، ایثار کا کوئی دوسرا نام ہو سکتا ہے تو وہ بلا شبہ ناز گل کا نام ہے جن کی زندگی کا مقصد ہی ہمہ وقت دوسروں کی خدمت اور دل جوئی کرنا تھا۔ یہ ایسی بہنیں تھیں جو ایک دوسرے کے اوپر جان چھڑکتی تھیں اتنی محبت شاید ہی بہنوں میں دیکھی ہو۔ ناز گل کے بچے نہیں تھے مگر ان کے اندر ممتا کا ایسا جذبہ تھا کہ بی گل کے بچوں اور مدرسے کے تمام بچے بچیوں سے والہانہ پیار کرتی تھیں مدرسے کی فعالیت اور اس کو رواں دواں رکھنے میں ناز گل کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ بی گل صبح کے وقت اپنے درس کی تیاری کرتیں، عصر کے وقت تفسیر کراتیں اکثر و بیشتر سہ روزوں پر جایا کرتیں، کبھی 40 دنوں کے لئے تو کبھی رائیونڈ، باہر کے دورے ایسے میں گھر بار اور مدرسے کی تمام ذمہ داریاں ناز گل بخوبی ادا کرتیں۔
بی گل کی زندگی کا مشن قرآن فہمی اور تبلیغ دین تھا۔ ناز گل ان کے مقصد میں ایسی مددگار رہیں کہ وہ ہر ممکن سہولت مہیا کرتیں تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دے سکیں۔ گھر بار کی ذمہ داریاں بچوں کو سنبھالنا بہو، پوتے پوتیاں، کھانے بنانا اس کے علاوہ مدرسے میں آنے والی تمام خواتین کو پیار سے بٹھانا کسی کو کرسی پیش کرتیں تو کسی کو پیڑھی اور چوکی، پانی پلانا غرض سارا وقت کمر بستہ رہتیں۔ مہمان نوازی اور سخاوت میں ناز گل کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اکثر میں جاتی تو فوراً ملک شیک بنا کر لے آتیں کبھی میں منع کر دیتی تو دودھ کا گلاس بھر کر لے آتیں کہ گھر کا خالص دودھ ہے اصرار کر کے پلاتیں۔ کہیں غمی خوشی ہوتی تو ناز گل جاتیں انہوں نے ہر طرح سے ہر فکر سے بہن کو آزاد رکھا ہوا تھا، کہ وہ یک سوئی سے اپنے کاموں کو انجام دے سکیں۔ بہت میٹھا بولنے والی ہنستی مسکراتی دل نواز شخصیت کی مالک ناز گل کبھی بھی بیمار نہیں ہوئیں۔ تندرست و توانا چمکتی ہوئی رنگت والی ناز گل سے سارا مدرسہ محبت کرتا تھا۔
بی گل کی طرح ناز گل بھی خواب میں برگزیدہ شخصیات کے دیدار کرتی تھیں ایک دفعہ بی گل رائیونڈ گئی ہوئیں تھیں ان کی غیر موجودگی میں، مدرسے کو سنبھالے رکھا پھر انہوں نے مجھے یہ خواب سنایا کہ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ گھر کی بالائی منزل جہاں مدرسہ تھا خاص اس جگہ آپ ﷺ اور بی بی عائشہ صدیقہ کو دیکھا اس خواب کو دیکھ کر وہ اتنی مسرور تھیں کہ جب دوسرے دن طالبات آئیں تو انہوں نے سب میں ٹافیاں تقسیم کیں کہ کل اس مدرسے میں اس جگہ میں نے زیارت کی ہے۔ بی گل کی بیماری میں ان کے گھر اور مدرسے کو سنبھالا۔ وہ جو ساری عمر بیمار نہیں ہوئیں اچانک انہیں نمونیہ ہوا پھر سنا کہ ہسپتال میں داخل ہیں پتہ چلا کہ پھیپھڑوں میں پانی پڑ گیا ہے اسی طرح ہوتے ہوتے طبیعت زیادہ خراب ہوتی چلی گئی جس دن بی گل فوت ہوئیں انہیں نہیں بتایا گیا کہ ان کی طبیعت خراب ہے مزید خراب نہ ہو جائے۔ دوسرے دن ظہر کی نماز پڑھی کلمہ پڑھا اور سفرِ آخرت اختیار کیا۔ بی گل کی طرح ان کا جنازہ بھی رات دس بجے اٹھایا گیا۔ 24 گھنٹوں کے اندر اندر بہن سے جا ملیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کا غم نہیں دیکھا، دونوں کے جنازے تراویح کے بعد اٹھائے گئے۔ دونوں کی قبریں ساتھ ساتھ بنیں۔ جنازے میں ایک خلقت شریک ہوئی ہر آنکھ اشک بار اور ہر لب پر تحسین و ستائش کے پھول تھے۔ محبت کی لازوال مثال قائم کر گئیں یہ دونوں پاکیزہ نیک اللہ کی ولیہ خواتین، مسلک اور گروہ بندی سے بالاتر مخلوق خدا سے بے لوث محبت کرنے والی، اللّہ قدر دان ہیں، مہرباں ہیں اور وہ اپنے نیک بندوں کا خوب صورت انجام سب کو دکھا دیتے ہیں۔
جنہوں نے پہلے ہی بیت اللّہ میں کھڑے ہو کر اللّہ کے محبوب اور محبوب کی محبوب خاتون جنت کا دیدار کیا، مجھے امید ہے کہ اللّہ سبحان و تعالیٰ نے بہترین میزبانی کی ہوگی۔ آنسوؤں کی روانی اور دل کی عمیق گہرائی سے دعا کرتی ہوں کہ وہ ان دونوں پاکیزہ گلوں کو جنت کے باغوں کا مکین اور بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیزوں میں شامل کردے۔ آمین


