جنوں میں جتنی بھی گزری۔
جوانی کیا ہے ایک جھونکا ہوا کا ہے۔ وہ جھونکے کی طرح آتی ہے اور گزر جاتی ہے اور ہم انسان گرد راہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ زندگی کے کچھ واقعات وقت کی ریت پر اس طرح ثبت ہوتے ہیں کہ ہوا کے ایک جھونکے سے ملیامیٹ ہو جاتے ہیں لیکن کچھ واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو دماغ کی سلیٹ پر مستقل نقش چھوڑ جاتے ہیں۔
ہر زمانے کا اپنا ہی انداز ہوتا ہے اور الگ ہی فیشن ہوتا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات میں بھی ایک ہی وقت میں مختلف فیشن چل رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً آج سے 50۔ 40 سال پہلے کچھ لوگ لاہور میں بھی صافہ مونڈھے پر رکھتے تھے، کچھ مفلر گلے میں ڈالے رکھتے تھے۔ بوسکی کی قمیض اور سفید شلوار تو بڑا ہر دلعزیز لباس تھا۔ کسی زمانے میں کپڑا چلا تھا جسے غالباً کیرولین کہتے تھے۔ گرمیوں کا موسم اور کیرولین کی قمیض، وہ جسم کے ساتھ چپک ہی جاتی تھی اور ’ساڑ‘ پیدا کرتی رہتی مگر مجھ سمیت بہت سے لوگ مجال ہے گرمی کی شکایت کرتے۔ فیشن کی خاطر یہ تکلیف بھی گوارا کر لیتے تھے۔
میں نے اس زمانے میں ایک دھاری دار قمیضوں والا کپڑا نکلا تھا اس کا نیا سوٹ سلوایا تھا۔ قمیض درزی نے خود ہی تھوڑی سی لمبی کر دی۔ اس دور میں سلطان راہی اپنے کیریئر کے عروج پر تھا۔ جیسے وہ فلموں میں ڈب کھڑبے کپڑے پہنتا تھا، گھنگھریالے بالوں کی وگ اور گھنی مونچھیں لگاتا تھا، کچھ یار لوگ اسی کی طرح کے لمبے کرتے یا قمیضیں سلوا لیتے تھے۔ کچھ من چلے بال اور گھنی مونچھیں بھی رکھ لیتے تھے۔ اتفاق سے میرے ایک دوست رانے نے بھی میری طرح لمبی قمیض والا ایک سوٹ سلوایا ہوا تھا۔
غالباً یہ 80۔ 1979 کی بات ہے میرے ایک اور دوست مشتاق نے مجھ سے کہا کہ وہ شاہدرہ میں ایک چھوٹی سی ورکشاپ بنا رہا ہے اور اس میں بجلی کی وائرنگ کرنی ہے۔ شاید وہ دستکاری قسم کا گھریلو یونٹ تھا جس میں ایک دو بلب اور پنکھے وغیرہ کے سوچ لگانے تھے۔ وہ اس محلے میں نیا نیا شفٹ ہوا تھا۔
میں نے رانے سے اس سلسلے میں بات کی جو ہر فن مولا تھا تو وہ میرے ساتھ جانے کے لئے راضی ہو گیا۔ اتوار کا دن طے ہوا کہ وہاں جائیں گے اور تھوڑی بہت جو وائرنگ ہے کر کے دے دیں گے۔ اس زمانے میں گورنمنٹ کی ڈبل ڈیکر بسیں کہیں گم ہو چکی تھیں اور ان کی جگہ بیہودہ قسم کی رنگ برنگی پرائیویٹ لاریوں نے لے لی تھی جو کھڑ کھڑ کرتی ہوئی چلتی تھیں۔ سڑکوں پر رش بھی زیادہ رہنے لگا تھا۔ باغبانپورہ میں جہاں سڑک کے دونوں اطراف گھنے درخت نظر آتے تھے وہ کاٹ دیے گئے تھے۔ یہاں ایک دو پان کے بڑے خوبصورت کھوکھے بنائے گئے تھے جن پر آئینے کھلے دل سے استعمال کیے گئے تھے۔ کہتے ہیں جب چین کا رہنما چو این لائی شالامار باغ ضیافت کے لئے آیا تو تمام دکانیں بند کروا دی گئی تھیں مگر کھوکھے اتنے خوبصورت بنائے گئے تھے کہ انہیں دوران پروٹوکول بھی کھلا رکھا گیا تھا۔ یہیں سے میں نے اور رانے نے سفر شروع کرنا تھا۔ وہاں ایک کھوکھے سے دونوں نے میٹھے پان منہ میں ڈالے اور ایک لاری میں سوار ہو گئے۔ دوران سفر میں نے ایک بات نوٹ کی کہ دوسرے مسافروں کا ہمارے ساتھ رویہ کچھ عجیب قسم کا تھا۔ جس سے بات کرتے وہ گبھرا سا جاتا تھا۔
بہرحال ہم شاہدرہ چلے گئے۔ جو چھوٹا موٹا کام تھا وہ کیا۔ واپسی پر فلم دیکھنے کا موڈ بن گیا۔ راستے میں وہی لوگوں کا عجیب و غریب رویہ۔ مجھے محسوس ہوا کہ لوگ مجھے میری لمبی دھاری دار قمیض کی وجہ سے غنڈا یا کسی بدمعاش کا ساتھی سمجھ کر ڈر رہے ہیں۔ تھوڑی سی کوفت ہوئی لیکن سوچا کہ اس کیفیت سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ ایک دو لوگوں سے خواہ مخواہ الجھ لیا لیکن وہ لوگ ڈر گئے۔ کچھ کو جھڑک دیا تو وہ بھی خاموش رہے۔ اب تو ہمارے حوصلے اور بلند ہو گئے۔ ایبٹ روڈ پر دوبارہ میٹھے پان لیے اور مبارک سینما میں آ گئے۔ اب کون سی فلم تھی یہ تو یاد نہیں۔ لیکن ٹکٹ لینے والوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ میں سیدھا کھڑکی کے پاس پہنچا۔ بے دھڑک پیسے دیے اور دو ٹکٹ خرید لیے۔ اب پیچھے لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ کسی کی جرات نہ ہوئی کہ پوچھتا کہ بھائی کون ہو تم جو لائن کے بغیر ٹکٹ لے رہے ہو۔ جو مجھے تھوڑا سا خوف یہ غلط کام کرتے ہوئے محسوس ہو رہا تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔ بلکہ دل خوشی سے کبوتر کی طرح غٹرغوں غٹرغوں کرنے لگ گیا۔ اس دن یہ احساس ہوا کہ لوگ چودھراہٹ کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں۔ جب لوگ ہم سے خوفزدہ ہوتے ہیں تو ہمیں اندر سے تسکین ملتی ہے۔ بدمعاش تو اندر سے بزدل ہی ہوتے ہیں مگر لوگ ڈر ڈر کر ان میں مزید اکڑ فوں پیدا کر دیتے ہیں۔
کچھ عرصے کے بعد مشتاق سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگا آپ کے جانے کے بعد محلے والوں نے اسی رات ایک ’پریاہ‘ بیٹھا لی تھی کہ ان کے تعلقات ’بدمعاشوں‘ سے ہیں۔ اور یہ شریفوں کا محلّہ ہے۔ کہنے لگا کہ میں نے بڑا یقین دلایا کہ وہ دونوں شریف لڑکے تھے، بدمعاش نہیں تھے۔ مگر وہ مان نہیں رہے تھے۔ آخر کار ان سے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ وہ اب دوبارہ اس محلے میں نہیں آئیں گے۔
رانا اس زمانے میں بھی ایک ڈائلاگ بولا کرتا تھا کہ ”غریب دی جوانی تے سردیاں دیاں چاندنی راتاں کون تکدا اے“ ۔


