باپ کی ممتا


ہمارے معاشرے میں باپ کو ہمیشہ ایک مضبوط، سنجیدہ اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی ممتا کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ معاشرتی طور پر ممتا کا لفظ زیادہ تر ماں سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ باپ کی محبت، قربانی اور احساسات کو ”ذمہ داری“ کے نام پر خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ باپ کی ممتا بھی کسی ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی، بس اس کا اظہار مختلف انداز میں ہوتا ہے۔

باپ کی ممتا الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس کے اعمال میں چھپی ہوتی ہے۔ وہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے، اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال دیتا ہے، اور خود کو ایک مضبوط دیوار بنا کر بچوں کو ہر مشکل سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

باپ کے جذبات اکثر دب جاتے ہیں، کیونکہ سماج نے اسے ہمیشہ ”مضبوط“ اور ”بردبار“ رہنے کی تربیت دی ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ بچوں سے بے حد محبت کرتا ہے، مگر وہ عام طور پر اسے الفاظ میں نہیں کہتا، بلکہ اپنے عمل سے ظاہر کرتا ہے۔

وہ اپنی پریشانیوں کو اپنے خاندان پر ظاہر نہیں ہونے دیتا، تاکہ وہ بے فکر رہیں۔
وہ اپنی خوشیوں کی قربانی دے کر بچوں کے مستقبل کے لیے محنت کرتا ہے۔
بعض اوقات وہ سخت بھی ہوتا ہے، مگر اس کی سختی کے پیچھے بھی محبت اور بھلائی کا جذبہ چھپا ہوتا ہے۔

باپ کی ممتا صرف جذبات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس پر کئی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ وہ خاندان کے لیے ایک ستون ہوتا ہے، جس پر سب کا انحصار ہوتا ہے۔

بچوں کی تعلیم، صحت، اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔

اگر مالی حالات کمزور ہوں، تو خود تکلیف سہ کر بھی خاندان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ بچوں کو اچھے برے کی تمیز سکھانا، ان میں خود اعتمادی پیدا کرنا اور انہیں زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنانا بھی باپ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

وہ خود چاہے کمزور ہو، مگر بچوں کے سامنے مضبوط نظر آتا ہے تاکہ وہ اسے اپنا سہارا سمجھ سکیں۔
رشتے داروں، خاندان اور برادری کے معاملات میں ایک متوازن کردار ادا کرتا ہے۔

بعض اوقات روایات اور خاندان کی توقعات کے بوجھ تلے اپنی خوشیوں کی قربانی دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں باپ پر مختلف قسم کے دباؤ ہوتے ہیں، جو اس کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

ایک باپ سے ہمیشہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کمائے، سب کی ضروریات پوری کرے اور کبھی تھکے یا پریشان نہ ہو۔ یا اس کا دل دکھے تو اس کے آنسو نہ نظر آئیں۔

اگر وہ جذباتی کمزوری دکھائے یا مدد مانگے، تو اسے ”کمزور“ سمجھا جاتا ہے۔
بعض اوقات اسے اپنی پسند کے بجائے خاندان کی پسند کو اپنانا پڑتا ہے، تاکہ گھر میں سکون رہے۔
اسے اپنے فیصلے دوسروں کی خوشیوں کے مطابق کرنے ہوتے ہیں، چاہے وہ خود تکلیف میں ہو۔

وہ کبھی شکایت نہیں کرتا، نہ ہی اپنی پریشانیاں کسی کے ساتھ بانٹتا ہے، کیونکہ اسے ہمیشہ ”مضبوط“ بننے کی تربیت دی گئی ہوتی ہے۔

بہت سے مرد، خاص طور پر باپ، اپنی اولاد کے لیے انتھک محنت کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اپنی خوشیوں اور ضروریات کو پس پشت ڈال کر بچوں کی بہتر پرورش اور تعلیم کے لیے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ کئی مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ماں سے بڑھ کر بچوں کی پرورش میں حصہ لیتے ہیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں اور ایک مثالی والد ثابت ہوتے ہے۔ مرد بھی خاندان کے استحکام کے لیے قربانیاں دیتے ہیں، لیکن ان کی محنت اور جدوجہد کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

مرد کو بھی گھریلو تشدد اور دیگر سماجی نا انصافیوں کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

انہیں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور مردوں کو اس دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے کہ ”مرد کو کبھی کمزور نہیں ہونا چاہیے“ ۔

بعض ممالک میں والدین کی علیحدگی کی صورت میں بچوں کی پرورش کا حق زیادہ تر ماں کو دیا جاتا ہے، جبکہ بعض باپ اس سے زیادہ بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مرد کے کردار کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

مردوں کے مسائل پر بات کرنا کوئی ”خواتین کے خلاف موقف“ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک متوازن اور منصفانہ معاشرے کی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ جیسے خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے، اسی طرح مردوں کے حقوق کے لیے بھی بیداری پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ہر انسان کے ساتھ مساوی سلوک ہو۔

ہمیں ان مردوں کی قربانیوں اور محنت کو تسلیم کرنا چاہیے جو اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔

باپ کی ممتا بے پناہ محبت، قربانی اور خاموش جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ وہ اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دیتا ہے، اپنی خواہشات اور جذبات کو دبا لیتا ہے، تاکہ اس کا خاندان خوش رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم باپ کی محبت اور قربانیوں کو پہچانیں، ان کی محنت اور جذبات کی قدر کریں، اور انہیں بھی وہی عزت، محبت اور جذباتی سپورٹ دیں جو وہ ہمیں دیتے ہیں۔ کیونکہ ایک باپ بھی ممتا کا اتنا ہی حق دار ہے جتنا کہ ایک ماں۔

Facebook Comments HS