وے صورتیں الہٰی کس ملک بستیاں ہیں

میں نے انٹر کیا تو ابا نے کسی سے کہلوا کر ریلوے میں کلرک بھرتی کروا دیا۔ کہنے لگے بیٹا کام کرو اور تعلیم مکمل کرلو۔ ریلوے جنرل سٹور میں پوسٹنگ ہوئی جہاں میرے ساتھ 25 لڑکے اور بھرتی ہوئے تھے۔ اونچی اونچی دیواروں سے گھرے ہوئے جنرل سٹور کے اندر ایک دنیا آباد تھی جہاں سے پورے پاکستان میں ریلوے کے ہر دفتر میں استعمال ہونے والی اشیاء سپلائی کی جاتی تھیں۔ انگریزوں نے بڑی پلاننگ کے ساتھ اس

Read more

اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

  بات کچھ بھی نہیں تھی۔ ہم اس محلے میں نئے نئے آئے تو وہ لوگ بھی نئے نئے ہی آئے تھے۔ وہ ایک پتلی سی لمبی سی لڑکی تھی۔ پھولوں جیسی، نازک سی۔ دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھ پر ایک اُچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتی اور چلی جاتی۔ بات تو معمولی ہی تھی اور قابل غور بھی نہیں تھی۔ میں عموماً ابا کی ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ آ کر محلے کی دکان پر رکھے بینچ پر آ کر

Read more

گریباں چاک کر ڈالو

  رانا اور میں ایک دوسرے کو سکول کے زمانے سے جانتے ہیں۔ میں نے ایف سی کالج میں داخلہ لیا تو بطور کیجول سٹوڈنٹ وہ میری ہی کلاس میں آ گیا۔ آج کل کا تو پتہ نہیں، اس زمانے میں جس بچے کو میرٹ پر یا لیٹ ہونے کی وجہ سے داخلہ نہ ملتا تو وہ بطور کیجول سٹوڈنٹ کالج میں داخلہ لے لیتا اور اسے کسی بھی کلاس میں بیٹھنے کی اجازت ہوتی تھی۔ رانے میں حس مزاح

Read more

ہائے کیا دور تھا جو بیت گیا

ہمارے بچپن میں لاہور رومانس کا شہر تھا۔ اکثر گھروں میں ریڈیو تھے جن سے مدھ بھرے گیت کانوں میں رس گھولتے تھے اور گلیوں میں خوبصورت موسیقی رقص کرتی محسوس ہوتی تھی! ہم بچے بھی خوبصورت دھنوں کو محسوس کرتے اور ہمارے دل موسیقی کی رم جھم میں تھرکتے رہتے تھے۔ بیڑی دتی ٹھیل ای اوئے محبتاں دا میل ای اوئے رب نے کرایا ساڈا پتناں تے میل ای اوئے (محبت کرنے والوں نے اپنی کشتی پانی میں ڈال

Read more

احساس زیاں جاتا رہا

لاہور میں ایک علاقہ بیگم پورہ ہے جہاں تاریخی عمارتیں اور بادشاہوں کی خستہ حال قبریں آج بھی موجود ہیں۔ وہاں سے گزرتے ہوئے پرانی حویلیاں اور صدیوں پرانے مکانات دیکھے جا سکتے ہیں جو اپنے وقت کی شاندار تعمیرات رہی ہوں گی مگر امتداد زمانہ کے ہاتھوں آج یہ تعمیرات اپنے وارثان پر نوحہ گری کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں لاہور میں تین مملکتیں قائم تھیں۔ ایک اندرون شہر، دوسری چوبرجی اور مزنگ کی

Read more

شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے

لاہور کی تاریخ میں 60 کی دہائی بدمعاشوں اور جرائم پیشہ افراد کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب وطن عزیز میں ابھی کلاشنکوف کلچر متعارف نہیں ہوا تھا اور پستول کسی کسی کے پاس ہوتا تھا۔ اس زمانے میں ”گراری“ والے چاقو کی ایک طرح سے حکمرانی تھی۔ کوئی بدمعاش جب مخالف کے سامنے کڑ کڑ کرتا ہوا گراری والا چاقو کھولتا تو نازک طبع افراد کے دل دھل جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ

Read more

جنوں میں جتنی بھی گزری۔

جوانی کیا ہے ایک جھونکا ہوا کا ہے۔ وہ جھونکے کی طرح آتی ہے اور گزر جاتی ہے اور ہم انسان گرد راہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ زندگی کے کچھ واقعات وقت کی ریت پر اس طرح ثبت ہوتے ہیں کہ ہوا کے ایک جھونکے سے ملیامیٹ ہو جاتے ہیں لیکن کچھ واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو دماغ کی سلیٹ پر مستقل نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ ہر زمانے کا اپنا ہی انداز ہوتا ہے اور الگ ہی فیشن ہوتا

Read more

داستان ایک ڈاکے کی

زندگی کا سفر طویل ہے۔ اس سفر میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔ چلے جاتے ہیں۔ مقام آتے ہیں۔ تغیرات آتے ہیں۔ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو دل و دماغ پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن وقت ظالم ہے۔ یہ دل کے قریب رہنے والے لوگ چھین لیتا ہے، وہ چہرے بھی چھین لیتا ہے جن کے بغیر ہم زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پھر ان کی جگہ نئے چہرے آ جاتے ہیں۔ یہ گھر،

Read more

آتشؔ، مومنؔ اور غالب کا انداز بیاں اور

استاد شعر گوئی چھوڑ چکے تھے مگر سیکڑوں شاگرد ان کے ارد گرد جمع رہتے اور ان سے اصلاح لینے کے لئے بیتاب رہتے۔ نجانے ایک دن کچھ منچلے شاگردوں کو کیا سوجھی کہ استاد محترم سے غزل کہنے کی فرمائش کرنے لگے۔ استاد نے بہت منع کیا کہ یہ آپ جیسے نوجوانوں کا دور ہے مگر شاگردوں کا اصرار بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ شاید ان کا گمان ہو کہ استاد شعر گوئی کی استعداد کھو چکے ہیں۔

Read more

میر تقی میر کی آہ سے میری آہ تک

فسانہ ہائے شب غم ہے داستاں میری گئی نہ آہ کبھی سوئے آسماں میری جی ہاں یہ میری ہی ایک غزل کا مقطع ہے مگر زمین میر تقی میرؔ کی ہے میر تقی میرؔ جدید اردو طرز سخن کا بانی ہے۔ اس سے پہلے دکن کے ایک بادشاہ کو اردو کا اولین شاعر اور اردو غزل کا جدید معمار تصور کیا جاتا ہے۔ تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا

Read more

کیا میر کی شہرت مبالغہ آرائی کا نتیجہ ہے؟

آج تک یہی پڑھا اور سنا ہے کہ میر تقی میر اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ میر کے زمانے میں مغلیہ سلطنت ادھڑ رہی تھی۔ بنگال کی طرف سے انگریز پیش قدمی کر رہے تھے، جنوب کی طرف سے مرہٹے حملہ آور تھے اور رہی سہی کسر افغان حملہ آور پوری کر رہے تھے۔ میر کا زمانہ غدر، طواف الملوکی اور افراتفری سے عبارت ہے۔ جس نے میر کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے جن کا اظہار

Read more

جو میں سچ کہوں تو

عموماً کہا جاتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم غلام ہیں۔ ہم امریکہ کے غلام ہیں، ہم قرض دینے والے اداروں کے غلام ہیں، ہم سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے علاوہ چوہدریوں، خانوں، سرداروں اور وڈیروں کے غلام ہیں۔ ہم پیروں فقیروں، مذہبی پیشواؤں اور علماء کے غلام ہیں۔ ہم اپنی اپنی اناؤں اور نفس کے غلام ہیں۔ ہم غلامی کی مختلف تہوں اور پردوں میں دبے ہوئے لوگ ہیں۔ لیکن ہر چھ مہینے سال بعد کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا

Read more