ٹائم تھوڑا ہے


اس نے کہا ”ٹائم تھوڑا ہے ہم سب کے پاس، اسے ضائع نہ کرو۔ زینب، زہرا، امامہ اور اُن کی اماں کے ساتھ وقت گزارو، کتابیں پڑھو، نورجہاں کے گانے سنو اور بس۔ جو ناراض ہوتا ہے ہونے دو۔ وقت نہیں ہے لوگوں کو منانے کا اور جو تمہارے ساتھ ناراض ہونے کا عذر نکال سکتا ہے، اسے منانے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ پھر کوئی نیا عذر تراش لے گا۔ اور ہاں تھینک یو کہنا نہ بھولو۔ تمہیں یاد ہے نا وہ تھینک یو میڈم والا انکل؟“

میرے خیالوں میں گلابی جاڑوں کی اُس الہڑ رات کی چُنری لہرا گئی۔ جب اس بڑے سے گھر کے دیوان خانے میں محفلِ دوستاں جمی تھی۔ قہقہوں کی گھن گرج تھی، بات بات پر ہاتھ پہ ہاتھ دیا جاتا اور تالیوں کی برسات تھی تو میں اور وہ سگریٹ سُلگا کے باہر نکل آئے۔ خوش گوار سرد ہوا کا جھونکا معانقے کو لپکا۔ بڑے سے لان میں شبِ چار دھم کے چاند کی خنک دھوپ کروٹیں لیتی تھی، پورچ میں کھڑی ایک بڑی سی گاڑی کا ڈرائیونگ سائڈ کا دروازہ کھلا تھا اور گاڑی کے سپیکروں سے میڈم کی آواز لپکتی تھی ”میں تیرے سنگ کیسے چلوں سجنا، تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا“ ایک انکل کھلے دروازے کے قریب کھڑے جھومتے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد باآوازِ بلند کلماتِ تشکر کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ”تھینک یو میڈم تھینک یو۔ یو میڈ مائی ایوننگ“ ۔ ہم دونوں گیت کے ساتھ ساتھ انکل کی پرفارمنس بھی انجوائے کرتے رہے مگر وہ میڈم کی آواز میں ایسے کھوئے ہوئے تھے کہ انہوں نے ہمیں نوٹس ہی نہیں کیا۔

اس نے بارِ دگر کہا ”ٹائم تھوڑا ہے بس کتابیں پڑھو کتابیں۔ کسی سے ناراض ہونے کے چکر میں نہ پڑو اور نہ کسی ناراض کو منانے کے“ ۔

وہ ٹھیک ہی تو کہتا ہے۔

ہماری اوقات کیا ہے اس وقت کے گھن چکر میں! ساڑھے چار ارب سال زمین کی عمر ہے اور دو ٹانگوں والے انسان (ہوموسیپئین) کی عمر فقط تین لاکھ سال۔ کائنات کی عمر تیرہ ارب اسّی کروڑ سال بتائی جاتی ہے، اس تناظر میں تو انسانیت کا وقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگلے روز میں کہیں پڑھ رہا تھا کہ اگر بگ بینگ سے اب تک کے تیرہ ارب اسی کروڑ برسوں کو ایک سال تصور کر لیا جائے تو ذرا غور فرمائیے گا کہ ہمارے حصے کا وقت کتنا ہے۔

یکم جنوری کو بگ بینگ ہوا، گویا کائنات کی تعمیر کا آغاز۔ یکم مارچ کو ستارے ٹمٹمانے شروع ہوئے۔ ستمبر میں ہمارا نظامِ شمسی تشکیل پایا۔ اکتیس دسمبر کی شب گیارہ بج کر اُنسٹھ منٹ پر زمین نامی ایک دور افتادہ سیارے پر انسانیت کا ظہور ہوا۔ گویا کائنات کی عمر اگر ایک برس شمار کر لی جائے تو بنی نوع انسان کو جینے کے لئے اپنے آغاز سے اب تک صرف ایک منٹ کا وقت ملا ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ آپ کو اور مجھے جینے کے لئے جو مٹھی بھر چند دہائیاں ملی ہیں، ان کی کیا اوقات ہے!

ٹائم واقعی تھوڑا ہے صاحب، بہت تھوڑا۔ اسے ناراض ہونے، منانے، پھر روٹھ جانے پھر منانے میں ضائع مت کیجئے۔ جو آپ کی زندگی کا ناگزیر حصہ ہیں، ان کے ساتھ اچھا وقت گزاریے، کتابیں پڑھئے اور موسیقی سنئے۔ بس۔

ہاں! تھینک یو کہنا نہ بھولئے۔
تھینک یو میرے دوست، سجاد احمد بری

Facebook Comments HS