کائنات اور خوابوں کے تعاقب میں لکھی کہانی ”الکیمسٹ“


 

”جب تم کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہو تو پوری کائنات اس چیز کے حصول میں تمہاری مددگار ہے۔“

” یہ بہت اچھا ہوا کہ تم جان گئے کہ زندگی میں ہر چیز کی قیمت ہوا کرتی ہے۔ یہی چیز تو روشنی کے لیے جنگ کرنے والے سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔“

ایسے کئی شاندار جملوں پر مشتمل کتاب ”الکیمسٹ“ پائلو کوہیلو نے لکھی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے والا ہر شخص اسے اپنے فہم کے مطابق سمجھ پاتا ہے۔ کہانی ایک ”سنتیاگو“ نامی چرواہے کی ہے جو اپنی بھیڑوں کے ہمراہ زندگی بسر کر رہا تھا کہ اچانک اس کی زندگی میں خوابوں کی صورت تلاطم برپا ہوتا ہے۔ اس کے خواب اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ سفر پر نکلے جہاں کائنات کے کئی راز اس کے منتظر تھے۔ ناول میں مصنف قارئین کو نہ صرف خوابوں کی اہمیت بلکہ ان کی تعبیر کے لیے جہد مسلسل کے راز سے بھی آشنا کرواتا ہے۔ خواب وہ اشارے ہیں جو انسانوں کو ان کے مقاصد حیات سے روشناس کرواتے ہیں۔ نہ صرف آگہی کا سبب بنتے ہیں بلکہ انہیں ان مقاصد کی تکمیل کے لیے بھی اکساتے ہیں۔

اس ناول میں دوسرا اہم موڑ اس کائنات کے اسرار و رموز ہیں جو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو جاننے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ کائنات اور زندگی انسانوں کو مختلف اشارے دیتی ہے کتاب سے اقتباس ہے کہ

”جب قسمت ہماری طرف ہو تو اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس کی اتنی ہی مدد کرو جتنی وہ ہماری کرتی ہے۔“

اسی طرح کہانی میں جب چرواہا اپنے خوابوں کے تعاقب میں نکلتا ہے تو کائنات اس کی ہمسفر بن جاتی ہے۔ اسے خزانہ ڈھونڈنے اور اہرام تک پہنچنے تک کئی اشارے دیتی ہے۔ لڑکے کا بادشاہ سے ملنا، بھیڑیں بیچنا، شیشے کی دکان پر کام کرنا، اپنا تمام سرمایہ کھو دینا اور پھر کیمیا گر سے ملنا کائنات کے وہ اشارے تھے جو بالآخر اسے اس کے مقصد میں کامیاب کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔

ناول کا ایک اہم سبق یہ ہے تقدیر پر تدبیر کو مقدم رکھا جائے۔ یہ کسی بھی انسان کی سب سے بڑی ناکامی ہوگی اگر وہ بغیر کوشش کیے سب کچھ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے۔ اگر کوئی خوابوں کی تکمیل چاہتا ہے تو اسے قسمت سے زیادہ کوشش پر یقین ہونا چاہیے۔ ناول سے ماخوذ ہے کہ

” دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے؟

وہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے خاص لمحے میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات پر کنٹرول نہیں رکھتے اور ہماری زندگیوں پر قسمت کا کنٹرول ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ ”

یہ خوابوں ( چاہے وہ کھلی آنکھوں سے دیکھے گئے ہوں یا بند ) کی کسک ہی ہوتی ہے جو کسی انسان کو قسمت پر یقین کرنے کی بجائے جہد مسلسل میں مبتلا رکھتی ہے۔

ناول سے ملنا والا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ کامیابی کا راستہ کبھی بھی سیدھا نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی دشوار گزار مراحل آتے ہیں۔ چرواہا اپنی بھیڑیں فروخت کر کے جب سفر پر نکلتا ہے تو اسے کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے اپنی جان تک گروی رکھنی پڑتی ہے مگر پھر بھی وہ اہرام تک پہنچنے کا عزم برقرار رکھتا ہے اور اہرام تک پہنچ کر خرانے تک رسائی بھی حاصل کرتا ہے۔ کامیابی کا سب سے بڑا اور اہم راز یہ بتایا گیا ہے منزل تک پہنچنے والے راستے میں آنے والی مشکلات سے کیسے نبرد آزما ہونا ہے۔ کیسے اپنے حوصلے اور عزائم کو بحال رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔

چرواہے کی فاطمہ سے ملاقات اور پھر اس صحرائی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہونا کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ ناول کے اس حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ احساس محبت ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کی روح کو معطر رکھتی ہے۔ صحرائی عورتوں کا اپنے محبوب کے لیے انتظار ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ محبت قید، پابندی یا اپنی گرفت میں لینے کا نام نہیں ہے بلکہ محبت زندگی میں سنہرے رنگ بھرنے کا نام ہے اور انتظار اس جذبے کو مزید خوبصورت بنانے کا ہنر رکھتا ہے۔ ناول میں فاطمہ اپنے محبوب سے کہتی ہے کہ

” میں ایک صحرائی عورت ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا شوہر اس طرح آزاد پھرتا رہے جیسے ہوائیں جو ریت کے ٹیلے بناتی ہیں۔“

یہاں پائلو کوہیلو نے صحرائی زندگی کی منظر کشی بھی پیش کی ہے۔ صحرا میں رہنے والے انسانوں کی زندگی، ثقافت، قبائلی حملے ان سے بچاؤ اور تقدیر کا احوال بتانے والے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

بہرحال کہانی کے آخری حصے میں چرواہے کی ہوا سے ملاقات اور آفتاب سے باتیں اس خیال کا استعارہ ہیں کہ کائنات کے اسرار انسان کی جستجو کے ساتھ منسلک ہیں۔

Facebook Comments HS