شکاری


اتوار کو چھٹی تھی اور امتحان دے کر گھر میں فرصت ہی فرصت تھی اس لئے جلدی بستر سے اٹھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں ابھی بستر پر لیٹا مستقبل کے سہانے خواب بن ہی رہا تھا کہ موبائل پر شاداب کی کال آ گئی۔ شاداب نے بتایا کہ اُس نے آج شکار کا پروگرام بنایا ہے جس کے لئے ایک عدد ایسے شکاری کی خدمات بھی اُس نے حاصل کر لی ہیں جس کا ثانی اس وقت برصغیر میں کوئی نہیں ہے۔ شاداب کے بقول وہ شکاری ہمیں آج ہرن کا شکار کرائے گا اور اگر موقع ملا تو شیر بھی مار کر گھر لائیں گے۔ اس کے بعد مجھے یہ حکمِ شاہی ملا کہ جلد تیار ہو کر کالج کے مین گیٹ کے پاس پہنچ جاؤں۔ میں فوراً اٹھا نہا دھو کر ناشتہ کیا اور اپنی سائیکل پہ کالج پہنچ گیا۔ اُس وقت دن کے دس بجے تھے اور موسمِ بہار کی دھوپ میں کالج کا باغ بہت خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ شاداب ابھی تک نہیں پہنچا تھا لہذا میں وہیں باغ میں بیٹھ کر رنگ برنگے پھولوں سے دل بہلاتے ہوئے اُس سہانے منظر میں کھو گیا جب میرے سامنے چار ہرن اور ایک شیر ڈھیر ہوئے پڑے ہوں گے اور میں اُن کے اوپر لات رکھ کے سیلفیاں بنا کر فیس بک اور ٹک ٹاک پہ اپلوڈ کروں گا۔

ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ موصوف ایک ساٹھ پینسٹھ سالہ بزرگ کے ہمراہ اس حال میں وارد ہوئے کہ بزرگوں کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ ”آپ کانپ کیوں رہے ہیں۔ کیا سردی لگی ہے؟“ ، میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا، ”نہیں جی بس ویسے ہی کانپنے کا شوق ہے۔ سردی کس کم بخت کو لگتی ہے“ ۔ اس جواب کو سن کر میں نے شاداب کی جانب دیکھا تو اُس کے چہرے کے اثرات یہی بتا رہے تھے، ”آیا مزہ“ ۔ اس کے بعد ہم تینوں کی ایک چورس بینچ پر ایک گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں البتہ میز سامنے نہیں تھا۔ اس گول میز کانفرنس میں شکاری صاحب نے اپنی سی وی پیش کرتے ہوئے اپنے چالیس سالہ درخشاں کیریر کے بارے میں بتایا جو پاکستان، بنگلہ دیش اور برما کے جنگلات میں شیر، چیتے، ہرن اور ریچھ کا شکار کرتے گزرا تھا۔ ”بچو! کیا پوچھتے ہو میرے بارے میں۔ ارے میں تمہیں اپنے قصے سنا کر حیران بھی کردوں گا اور پریشان بھی“ ، اُن کی بات سن کر ہم نے حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھا۔ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے جی کہ میں گورا صاحب کے ساتھ بنگال کے جنگل میں شکار کے لئے نکل گیا۔ ہمارے پاس دو بندوقیں، تیس گولیاں اور پانچ روٹیاں تھیں“ ، بزرگ سگریٹ کا کش لگاتے ہمیں سنا رہے تھے۔ روٹیاں؟ مگر کس لئے؟ ”شاداب نے اچھل کر پوچھا۔“ شیر کو شکار کرنے کے لئے بیٹا کہ اگر گولیوں سے شکار نہ ہوا تو روٹیوں سے کر لیں گے ”، بابا جی نے قدرے ناگواری سے جب جواب دیا تو شاداب وہیں چپ ہو گیا۔“ لو جی تیز بارش، گھنا جنگل اور سنسان خاموشی۔ اتنی خاموشی کے گورا صاحب ڈر گئے ”،“ کس سے خاموشی سے یا جنگل سے؟ ”، اب کہ میں نے ٹوکا۔“ ارے نہیں مجھ سے۔ تم کیا جانو میری جوانی کا عالم کیا تھا۔ یہ چھ فٹ کا قد، چوڑا سینہ اور لمبی لمبی مونچھیں۔ میں تو بازار سے گزرتا تھا تو لوگ دکانیں بند کر دیتے تھے ”،“ جی ہاں تاکہ آپ سامان چوری نہ کرسکیں ”، میری اس بات پر وہ بگڑ گئے اور غصے میں آ گئے۔ “ لگتا ہے تم کو میری باتیں مخول لگتی ہیں۔ ارے ان گناہگار ہاتھوں سے چالیس شیر، پندرہ چیتے اور اکیاسی ہرن شکار کیے ہیں ”، یہ اعداد و شمار سن کر تو ہم واقعی چکرا گئے۔ “ لیکن بزرگو آپ نے اس کا حساب کیسے رکھا کہ چالیس شیر، پندرہ چیتے اور اکیاسی ہرن۔ آپ کیا کاپی پہ لکھ لیتے تھے ”شاداب نے فلسفیوں کی طرح بزرگ کی بات کا رد کر دیا جس پر اُنہوں نے افسوس کے ساتھ سر نیچے جھکا لیا اور پھر کچھ دیر سوچتے رہے کہ ان کو کیسے یقین دلاؤں۔

اب دن ڈھل کر سہ پہر میں بدل چکا تھا مگر بزرگِ مقدس کی کہانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ ”یہ بتائیں بزرگو کہ بنگلہ دیش اور برما آپ جاتے کیسے تھے؟“ میرے اندر ایک دوسرے سوال نے جنم لیا جسے میں کافی دیر سے اپنے سینے میں دبائے بیٹھا تھا۔ ”بچو! وہ بڑا اچھا زمانہ ہوتا تھا۔ میں صبح سویرے سرگودھا سے سلانوالی کی گاڑی پہ بیٹھ کر شام کو لاہور پہنچتا تھا اور اگلے دن لاہور سے پشاور جانے والی شالیمار ایکسپریس پہ بیٹھ کر دن کو بنگلہ دیش۔ وہاں تین چار دن شکار کر کے سانگلہ ہل والی گاڑی پہ بیٹھ کر راستے میں برما چوک اتر جاتا تھا اور پھر سیدھا جنگل میں نکل جاتا تھا“ ۔ بنگلہ دیش اور برما کا یہ روٹ میپ سن کر جہاں مجھے اپنے علم جغرافیہ پر شک ہونا شروع ہو گیا وہیں شاداب نے بھی گوگل میپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں جس نے آج تک ہمیں بنگلہ دیش اور برما کے اس روٹ کا نہیں بتایا۔ ”کیا سوچ رہے ہو تم دونوں۔ میں نے کہا تھا نا کہ حیران بھی کروں گا اور پریشان بھی۔ کر دیا نا حیران اور پریشان“ ۔ شکاری بزرگ کی باتوں نے واقعی ہمارے دماغ کی چولیں تک ہلا ڈالیں اور ہم ابھی تک اس روٹ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے جس کے ذریعے بابا جی سرگودھا سے بنگلہ دیش اور وہاں سے برما جاتے تھے۔

”یار شاداب! ایک بات تو بتا۔ یہ تو لایا کہاں سے ہے؟“ میں نے شاداب کو ایک طرف لے جا کر پوچھا، ”یہ مجھے اپنے کزن کے گھر ملے تھے اور وہاں انہوں نے بڑے مزے مزے کی باتیں کی تھیں۔ اُس وقت بالکل نہیں لگتا تھا کہ یہ پاگل ہے“ شاداب اپنی جگہ جہاں شرمندہ تھا وہیں شرمسار بھی، کیونکہ اُسے پہلی ملاقات میں ہرگز یہ اندازہ نہیں تھا کہ موصوف لمبی لمبی چھوڑنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ”اچھا بزرگو ایک چیز بتائیں کہ شیر کے شکار کے لئے سب سے ضروری اور اہم چیز کیا ہے؟“ ، شاداب نے بزرگ سے سوال پوچھا جو ایک بھڑ سے ڈر کر کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف بھاگ رہے تھے۔ ”حوصلہ۔ شیر کے شکار کے لئے حوصلہ چاہیے بچو، پانچ پاؤ کا دل اور چیتے کا جگر۔ ورنہ شیر کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اب مجھے دیکھو۔ میں نے اتنے شیر شکار کیے ہیں۔ اتنے شیر مگر حوصلہ نہیں ہارا“ اس دوران وہ بار بار بھڑ سے ڈر کر بھاگ رہے تھے اور ساتھ میں کانپ بھی۔ ”لیکن بزرگو اگر کسی کے پاس پانچ پاؤ دل اور چیتے کا جگر نہ ہو تو وہ کیا کرے؟“ میں نے پوچھا۔ ”وہ پھر صبر کرے اور شیر کو چڑیا گھر میں ہی دیکھ کر آ جایا کرے“ شاداب نے جواب دیا جسے سن کر بزرگوار نے قہقہہ لگایا۔ ”میں جوانی میں چھوڑو ابھی بھی بہت بہادر ہوں۔ ابھی اسی وقت اگر شیر آ جائے تو تم دیکھنا میں کرتا کیا ہوں؟“ ، بزرگ نے سینہ چوڑا کرتے ہوئے فخر سے کہا۔ ”اوئے وہ دیکھو شیر!“ شاداب ایک دم چلایا تو میں اتنا خوفزدہ ہوا کہ اوسان خطا ہو گئے۔ کچھ دیر بعد جب اوسان بحال ہوئے اور اپنے ارد گرد دیکھا تو باغ میں بس میں اور شاداب ہی کھڑے تھے۔

Facebook Comments HS