میں اس سال بھی ناکام رہا
اس سال بھی ہمیشہ کی طرح میرا دھوم دھام سے استقبال کیا گیا۔ مساجد کو دلہنوں کی طرح سجایا گیا، گھروں اور دکانوں کو روشنیوں سے سنوارا گیا۔ ہر طرف لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے، ایک دوسرے کے گھروں میں ملنے جا رہے تھے۔ سوشل میڈیا خوشیوں اور دعاؤں کے پیغامات سے بھرا پڑا تھا۔ گویا ہر طرف جشن کا ماحول تھا۔
اشیائے خورد و نوش کی دکانوں پر گھمسان کا رن پڑا، جیسے کھانے پینے کے لیے مخصوص دن آ گئے ہوں۔ جب امیروں نے بے تحاشا خریداری کی تو مہنگائی آسمان چھونے لگی، اور غربا آدھ کلو کھجور تک خریدنے کی استطاعت سے محروم ہو گئے۔ امراء کے وزن میں اضافہ ہوا، اور غریب سوکھ کر کانٹا ہو گئے۔ لیکن کوئی حرج نہیں! لاکھوں نے خیرات اور زکوٰۃ دینے کے لئے تجوریوں کے منہ کھول دیے۔ پتا نہیں، دینے والوں کی نیت میں فرض کی ادائیگی تھی یا ثواب کی طمع؟ یا پھر انسانی ہمدردی کا کوئی جز بھی شامل تھا؟ دوسری طرف وصول کرنے والوں کا ایک لشکر تھا جن کی بنیادی ضروریات پھر بھی پوری نہ ہو سکیں۔ دینے والے مطمئن تھے کہ ان کا ”مذہبی فرض“ پورا ہو گیا۔
کیا کسی نے سوچا کہ اس نظام کو بدلنے کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے جو لاکھوں کو غربت کے دہکتے صحرا میں دھکیل رہا ہے؟ ستم ظریفی یہ کہ کئی تو اسی استحصالی نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ عوام ان کے محتاج رہیں۔ اور پھر وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں : ”غریب تو اللہ نے بنائے ہیں! یہ شکایت کیوں کرتے ہیں؟ کیا انہیں معلوم نہیں کہ پیغمبروں نے بھی غربت میں صبر کیا تھا؟“
میں مزدوروں، بیماروں، یا غیر مسلموں پر زیادتیاں کرنے کے لئے نہیں آیا۔ لیکن میرے آنے پر دن میں کھانے پینے پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ پانی کی سبیلیں بند کر دی جاتی ہیں، حتیٰ کہ پیاسے کو پانی پلانا بھی جرم ٹھہرایا جاتا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی سے بیمار، کمزور اور مزدور گرمی کی شدت سے جان سے چلے جاتے ہیں۔ انہیں ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے علماء جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ کبھی یہ علماء کسی شہید کے گھر گئے ہیں؟ جہاں کمانے والے ہاتھ کے جانے کے بعد غربت کی دوزخ شروع ہوتی ہے؟ کاش یہ خود روزے کی حالت میں ایک دن مزدوری کر کے دیکھیں! کوئی کہتا ہے : ”خوش قسمت ہیں جو ماہ رمضان میں مر گئے!“ کب تک یہ ظالم مزدوروں کی مردہ لاشوں اور بیماروں کی سسکیوں پر بہشت کی سیڑھیاں چڑھتے رہیں گے؟
کیا کسی نے سوچا کہ میرا مقصد کیا تھا؟
بہتوں نے مجھے ”جشن“ سمجھا، حالانکہ جشن تو میرے جانے کے بعد آتا ہے۔ کچھ نے دن کو نیند اور رات کو لذیذ کھانوں کے لیے وقف کر دیا۔ کچھ نے ثواب کے کھاتے کھولے، گنتی کرتے رہے۔
میں تو اس لیے آیا تھا کہ لوگ اپنی ذات کا تجزیہ کریں :
کردار کی، جسم کی اصلاح کریں۔
نفس پرستی چھوڑ کر نفس کشی کریں۔
روح سے رشتہ جوڑیں، اس کے لئے بری عادات ترک کریں۔
ظلم، لالچ، غصہ، حسد، جھوٹ، کام چوری اور ہیرا پھیری کو ختم کرنے کا عہد کریں۔
تکبر کا لباس اتار کر انصاف کا نظام قائم کریں۔
اور میری خوشبو سے روح کو تازہ کریں، میری روشنی سے آنکھوں کو منور کریں۔ اور پھیلے ہوئے کانٹوں کو سمیٹیں، تاکہ جب میں اگلی بار آؤں تو یہ منظر دیکھوں :
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا، نہ کوئی بندہ نواز


