مستقبل کی کشمکش یا ترقی کا امتزاج؟


انسانی معاشرے کی ترقی کا انحصار علم، شعور اور مہارت پر ہے۔ ایک زمانہ تھا جب تعلیم کو ترقی کی سیڑھی سمجھا جاتا تھا، لیکن آج کے دور میں ہنر مندی کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جا رہا ہے۔ والدین اور نوجوان نسل کے خیالات میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے ؛ وہ تعلیمی ڈگریوں کی بجائے ہنر سیکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک کامیابی کا مطلب صرف ڈگری لینا نہیں بلکہ ایسا ہنر حاصل کرنا ہے جو انہیں فوری روزگار فراہم کرے۔ اس بدلتے رجحان کے پیچھے غربت، روزگار کے محدود مواقع، اور تعلیمی نظام کی خامیاں کارفرما ہیں۔

”تعلیم سے دوری حقیقت یا مجبوری؟“

ہمارے ملک میں تعلیم کے حوالے سے حکومتیں ہمیشہ بلند و بانگ دعوے کرتی آئی ہیں۔ اسکالرشپس، فری تعلیم کے منصوبے اور سکولوں کی بہتری کے لیے پالیسیز تشکیل دی جاتی ہیں، لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ غریب طبقے کے لیے تعلیم حاصل کرنا آج بھی ایک خواب ہے۔ والدین، جو دن بھر محنت مزدوری کر کے بمشکل دو وقت کی روٹی کماتے ہیں، وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے کسی ہنر مند کے پاس بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ وہ کم عمری میں کام سیکھ لیں اور گھر کی کفالت میں مددگار ثابت ہوں۔

ایسا نہیں کہ لوگ تعلیم کی اہمیت سے واقف نہیں، لیکن جب بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو تو تعلیم پیچھے رہ جاتی ہے۔ آج بھی بہت سے خاندان ایسے ہیں جہاں بچے پرائمری کے بعد سکول چھوڑ کر ورکشاپ، درزی کی دکان، یا دیگر ہنر سیکھنے والی جگہوں پر کام سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس مجبوری کی جڑ غربت ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے اور بچوں کو تعلیم سے محروم رکھ رہی ہے۔

”ہنر کی طرف رجحان“

یہ حقیقت ہے کہ ہنر کسی بھی فرد کو خود کفیل بنا سکتا ہے۔ آج کے جدید دور میں ٹیکنیکل سکلز جیسے گرافک ڈیزائننگ، کوڈنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور دیگر ہنر مند شعبے لوگوں کو فوری روزگار دے رہے ہیں۔ ایسے میں تعلیم یافتہ مگر بے روزگار نوجوان دیکھ کر بہت سے لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہنر سیکھنا زیادہ فائدہ مند ہے اور ڈگریاں محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہنر کافی ہے؟ کیا ترقی کے لیے صرف ایک کاریگر بن جانا ہی کافی ہو گا؟ ہنر انسان کو روزگار دے سکتا ہے، مگر ایک وسیع فکری سوچ، معاشرتی ترقی اور قیادت کے لیے تعلیم ناگزیر ہے۔ تعلیم وہ بنیاد ہے جو معاشرے کو سنوارتی ہے، افراد کو شعور دیتی ہے، اور انہیں اپنے حقوق و فرائض سے روشناس کراتی ہے۔ صرف ہنر مند افراد کا معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، اس کے لیے ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور فکری لحاظ سے مضبوط قوم کی ضرورت ہوتی ہے۔

”تعلیم اور ہنر“

اگر ہم حقیقت پسندانہ حل تلاش کریں تو ہمیں تعلیم اور ہنر دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو عملی زندگی سے جڑا ہو، جہاں طلبہ کو صرف نصابی علم نہ دیا جائے بلکہ انہیں ہنر مند بھی بنایا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام آج بھی تھیوری پر مبنی ہے، جہاں طلبہ کو عملی تربیت دینے پر توجہ نہیں دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان ڈگریاں لے کر بھی نوکریوں کے لیے دربدر بھٹکتے ہیں، جبکہ کم تعلیم یافتہ مگر ہنر مند افراد روزگار میں مستحکم ہوتے ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تکنیکی تعلیم پر زور دیا جا رہا ہے۔ چین، جرمنی، جاپان اور دیگر ممالک میں طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی مہارت دی جاتی ہے۔ یہی ماڈل اگر پاکستان میں اپنایا جائے تو نہ صرف تعلیمی نظام میں بہتری آئے گی بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

”غربت کا خاتمہ اور تعلیمی ترقی کی کنجی“

ہمارے ہاں غربت تعلیم سے فرار کی بنیادی وجہ ہے۔ جب تک غربت کا خاتمہ نہیں ہو گا، تعلیم عام نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرے، اسکول جانے والے بچوں کو مالی مدد فراہم کرے، اور تعلیمی اداروں میں فنی تعلیم کو لازمی بنایا جائے۔

عوام کو بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ صرف ہنر پر انحصار کرنا یا صرف تعلیم کے سہارے بیٹھ جانا، دونوں ہی ناقص نظریے ہیں۔ کامیابی تب ہی ممکن ہے جب تعلیم اور ہنر کو ساتھ لے کر چلا جائے۔

تعلیم اور ہنر دونوں ترقی کی راہیں ہیں، لیکن ان میں سے کسی ایک کو ترک کر دینا دانشمندی نہیں۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام اپنانا ہو گا جو ہنر اور علم کو یکجا کرے۔ حکومت، والدین، اور تعلیمی ادارے مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک حقیقی ترقی کرے، تو ہمیں اپنے نوجوانوں کو نہ صرف تعلیم یافتہ بنانا ہو گا بلکہ انہیں ہنر مند بھی بنانا ہو گا تاکہ وہ اپنی اور ملک کی تقدیر سنوار سکیں۔

Facebook Comments HS