ہراسانی کا بڑھتا ہوا چلن


ہمارے سماجی ڈھانچے میں گزشتہ چند سالوں کے دوران عام بول چال کی زبان میں جن چند نئی اصطلاحات کا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں ہراسانی، ہراساں کرنا، ذہنی تشدد جیسی اصطلاحات اب ہماری روز مرہ کی زبان کا مکمل حصہ بن چکی ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ ان اصطلاحات کا استعمال زیادہ تر انگریزی کے الفاظ میں ہوتا ہے۔ جیسے sexual harassment، mental harassment، oral harassment etc۔

ہم جس دور میں زندہ ہیں اور ہمارا معاشرتی نظام جن خطوط پر چل رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ایک مردانہ معاشرہ ہے۔ جہاں ہر مرد چار شادیوں اور وہ بھی سولہ سالہ لڑکیوں کے سنگ کے خواب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ خواہ وہ خود ساٹھ سال ہی کا کیوں نہ ہو۔ وہ اپنی عمر کے ہر دور میں ہر عمر کی حوا کی بیٹی پر گرے سے گرا جملہ کہنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔

جس کی سب سے بڑی مثال ہمارے سیاستدان، ہماری اسمبلیاں اور ہماری سینٹ ہے۔

اور اس سے بھی دکھ کی بات وہ خواتین ہیں جو اپنی ہم جنسوں کے بارے میں گھٹیا الفاظ سنتی ہیں اور مسکرا کے سر جھکا لیتی ہیں۔ اگر ایک بار بھی وہ ایوان میں کھڑے ہوکے مذمت کرنے کی اپنے اندر اخلاقی جرات پیدا کر لیں تو شاید ان بدزبان مردوں کو غیرت آ جائے۔

بچیوں، لڑکیوں اور خواتین کو زبانی، کلامی اس ہراسانی کا سامنا زندگی کے ہر شعبے میں ہے۔ اس ہراسانی کی اشکال بدلتی رہتی ہیں لیکن اس کا وجود برقرار رہتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ ہراسانی شکلیں بدل بدل کے آج زیادہ مضبوط اور عام ہو گئی ہے۔

آج جب کہ اکیسویں صدی کا چوتھائی حصہ مکمل ہونے کو ہے۔ ہمارے اس مردانہ معاشرے میں صنف مردانہ کسی بھی عمر کی بچی، لڑکی یا عورت کو ہاتھ لگانے، فحش گیت گنگنانا، گھٹیا جملہ کہنے کی یہ ذہنی آوارگی یا ذہنی عیاشی خوب دل کھول کے ہر جگہ کر رہے ہوتے ہیں۔ موقع محل کے حساب سے ان کی ہراسانی کا طریقہ واردات البتہ بدلتا رہتا ہے۔ فیکٹریوں، چھوٹے دفاتر میں کام کرنے والی لڑکیوں کو آوارہ مرد شادی کا جھانسا دیتے ہیں، دفاتر میں اسی نسل کے مرد ترقی کے خواب دکھا رہے ہوتے ہیں، تعلیمی اور پروفیشنل اداروں میں کامیابی، بہت اچھی کامیابی کے رنگ دکھائے جاتے ہیں۔

یوں تو بچیوں، لڑکیوں کو ہراسانی کا سامنا اپنے گھروں سے لے کے مسجد کے منبر تک ہر جگہ ہے۔ اور اس ہراسانی کی اتنی اقسام ہیں کہ میں انھیں بیان کرنے لگی تو اصل موضوع سے بہت دور نکل جائوں گی اور شاید موضوع کو سنبھال بھی نہ سکوں۔

ہم سب اس بات کو بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ مخلوط اداروں میں کام کرنے، پڑھنے، اُٹھنے، بیٹھنے والیوں کو اپنے ماحول کو متوازن اور مناسب رکھنے کے لئے ساتھ کام کرنے، اُٹھنے، بیٹھنے والے صنف مخالف کی بہت سی باتوں کو برداشت اور نظر انداز کرنا پڑتا ہے جن کے دماغ میں شیطان ہوتا ہے۔

سنی ان سنی کرنے کی اداکاری کرنا پڑتی ہے، کندھا چھونے، ہاتھ لگانے جیسے اقدام پر یہ ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ آپ کو اس عمل کا احساس نہیں ہوا۔ آپ کا لباس بہت اچھا ہے، یہ رنگ تو لگتا ہے آپ ہی کے لئے بنا ہے، لپ اسٹک کا شیڈ تو غضب ڈھا رہا ہے، اف پرفیوم کی خوشبو نے تو پاگل کر دیا، تم ٹراؤزر ہی پہنا کرو،

چلو چائے پیتے ہیں، لنچ کرنا ہے تو کمرے میں آ جاؤ، امتحان کی تیاری کیسی جا رہی ہے، مدد لے سکتی ہو وغیرہ وغیرہ

ان تمام معصوم جملوں میں بظاہر نہ تو راکٹ پھنسا ہے نہ ہی بم بندھا ہے لیکن کہنے والے اور سننے والے خوب جانتے ہیں کہ ان باتوں کا مطلب کیا ہے۔ اس نوعیت کے جملے کہنے والے اتنے ڈھیٹ ہو جاتے ہیں کہ صنف مخالف کی خاموشی اور نظر اندازی کو رضامندی سمجھتے ہوئے دراز دستی سے بھی باز نہیں آتے۔

اور اس صورت حال میں ناکامی یا منہ کی کھانے پڑ جائے تو وہ صنف مخالف کی کردار کشی پر کمر کس لیتے ہیں۔

میں نے ہراسانی سے متعلق اتنی لمبی تمہید اس لئے باندھی ہے کہ کراچی کا سب سے بڑا ہسپتال جسے جناح ہسپتال کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج کل ہراسانی کے ایک ایسے ہی واقعے سے گزر رہا ہے۔

جناح ہسپتال کے شعبہ یورولوجی کے سربراہ ڈاکٹر (ش) علی نے چند ماہ قبل اپنے شعبے میں زیر تربیت ایک ڈاکٹر کو پہلے تفریح کے کچھ پیغامات بھیجے بعد ازاں ایک رات دیر گئے موصوف وارڈ میں آئے اور اس ڈاکٹر کو مریضوں کی فائل کے ساتھ کمرے میں بلایا اور دست درازی کرنے کی کوشش کی۔ متعلقہ ڈاکٹر نہ صرف گھبرا کے باہر نکل گئی اس نے ساتھی ڈاکٹروں کو تمام واقعہ بھی من و عن بتا دیا۔

ہسپتال میں موجود نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کی تحقیقات، ڈاکٹر کی بر طرفی کا مطالبہ کیا۔

مفادات کی چین میں بندھی ہسپتال انتظامیہ نے وقتی طور پر ڈاکٹر (ش) کو وارڈ میں آنے سے روک دیا لیکن وہ ہسپتال سے متعلقہ میڈیکل کالج میں برابر تشریف لا رہے ہیں۔

ہمارے ہسپتالوں کی زندگی میں یہ کوئی پہلا واقعہ یا حادثہ نہیں ہے۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ، حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے اس قسم کے واقعات میں ایسے پیچ ڈال دیتی ہے کہ واقعہ کو پھپھوندی لگنے لگتی ہے، متاثرین واقعہ دوڑتے دوڑتے تھکنے لگتے ہیں۔

اس کی کتنی ہی مثالیں اندرون سندھ میڈیکل کالجوں میں پڑھنے والی بچیوں کی اموات کی شکل میں موجود ہیں۔ معاشرہ، قانونی ادارے، سماجی تنظیمیں سب بھول گئیں کہ ان واقعات کا انجام کیا ہوا؟

ڈاکٹر (ش) علی کے وارڈ کا بھی یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ موصوف اس سے قبل بھی اس نوعیت کے کارنامے انجام دیتے رہے ہیں۔ بس اس بار بازی پلٹ گئی ہے۔

اس واقعہ کی مضبوطی میں سب سے اہم کردار اس لیڈی ڈاکٹر کے اہل خاندان کا ہے جو نہ صرف اپنی بچی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں انھوں نے ہراسانی کے اس واقعے کو انجام تک پہنچانے کا عہد بھی کیا ہوا ہے۔

میرے خیال میں یہاں یہ کہنا بھی بے محل نہ ہو گا کہ حکومت سندھ اور اس کے محکمہ صحت کا کردار اس نوعیت کے واقعات میں ہمیشہ زیرو ہوتا ہے۔

ڈاکٹر موصوف خود کو معصوم ظاہر کرنے کے لئے اس واقعہ کو مختلف رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہت ہی افسوس اور دکھ کے ساتھ مجھے یہ بھی لکھنا پڑ رہا ہے کہ ڈاکٹر (ش) کی زوجہ محترمہ بھی شوہر کو معصوم ظاہر کرنے کے لئے اس بچی کی کردار کشی میں پیش پیش ہیں۔

ہم سب کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم سب کے دائیں، بائیں، دور نزدیک بچیاں لڑکیاں ہیں۔ اور بچیاں لڑکیاں تو سانجھی ہوتی ہیں، ان کے دکھ درد، ان کی عزت عصمت، ان کی مسکراہٹیں، سب سانجھے ہوتے ہیں۔ ان کو دکھ دے کر کوئی کیسے سکون سے رہ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS