بنوں گی ڈاکٹر
صنوبر بیٹا اِدھر دیکھو جب میں تم سے مخاطب ہُوں، اپنے بھائی کی فکر چھوڑو اسے کھلونوں میں ہی مگن رہنے دو۔ بڑا منہ کھولو آ آ یہ کھیر بھی تو جلدی سے ختم کرنی ہے۔ ”ماما آپ ڈوکر کے پاس کیوں گئے تھے“ ۔ ڈوکر نہیں بیٹا، ماما کو ہائی ہوئی تھی۔ اس لیے ڈاکٹر سے بینڈیج کرانے گئی تھی۔ آپ سو رہے تھے اس لیے آپ کو دادو کے پاس ہی چھوڑ گئی تھی۔
اگلی دفعہ آپ کو بھی لے کر جاؤں گی۔ مجھے پتہ ہے میری بیٹی کو ڈاکٹر بننے کا کتنا شوق ہے۔ پھر ہمیں بازار بھی تو جانا ہے۔ ڈاکٹر والا سامان لینے اور صنوبر کو کتابیں لینی بیں اور بستہ بھی۔ اسکول کھلنے ہی والے ہیں۔ پھر صنوبر بھی پاپا کے ساتھ سکول جایا کرے گی۔
ننھی صنوبر نے پھیکی کھیر حلق سے اتاری اور دِن دیہاڑے خوابوں کی چادر اوڑھ کر سو گئی۔ لوگوں کے بولنے کی ہلکی آوازیں آ رہی تھی ایک بڑا ہال نما کمرہ جہاں چبوترے کے گرد میڈیکل سٹوڈنٹس جمع تھے۔ ان کے ہاتھ میں انسانی ڈھانچے کی مختلف ہڈیاں تھیں اور گروپ اسٹڈی جاری تھی۔ ان کا استاد ایک ایک مسل، شریان اور اعصاب کو ٹریس کر کے لیکچر دے رہا تھا۔ اچانک ماحول خاموش ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب کیا آپ کو اندازہ ہے آپ کا انسانی اعضاء کو اس طرح اچھالنا انسانی وقار کے خلاف ہے۔ پلیز بون واپس کریں اور ہیومن فلیش اینڈ بلڈ کی تکریم کرنا سیکھیں۔ لاہور کے ایک پوش گھرانے کے لڑکے نے ”وٹ ایور“ کہا اور کلاس چھوڑ کر چلا گیا۔ ان کا استاد گویا ہوا۔ سٹوڈنٹس یہ کبھی ہماری طرح کے زندہ اجسام تھے۔ حوادث زمانہ نے اُن کی شناخت چھین لی۔ اس لیے آج آپ ان کی ڈائسیکشن کرتے ہیں۔ وعدہ کرو کہ ہمیشہ ہیومن فلیش اینڈ بلڈ کا احترام کرو گے۔ ہر عقیدے نظریے اور تعصب سے بالاتر ہو کر انسانی جان کو محبت اور احترام سے ڈیل کرو گے۔ فرسٹ ائر کے طلبہ کے چہرے زرد پڑ چکے تھے۔
اسی دوران ڈاکٹر ولیم میوزم میں داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں مختلف جار تھے جن میں انسانی اعضاء کسی لیکوئیڈ میں تیر رہے تھے۔ ان کا اسسٹنٹ چبوترے پر تھائرائیڈ، گرانولوما اور دیگر غیر معروف سمپلز کو چھوڑ کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ ساری کلاس استاد کی نقل کرتے ہوئے، بڑے استاد کے احترام میں کھڑی ہو گئی۔ فرسٹ ائر، مجھے ان سے مل کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ یہ صاف سلیٹ کی طرح ہوتے ہیں۔ تمام لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ اور ڈاکٹر ولیم چبوترے پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ میں ایک سرجن ہُوں۔ میرا کام ہے کہ میں جسم کے خراب اعضاء کو جو دوائی سے ٹھیک نہیں ہوتے کاٹ کر نکالتا ہُوں۔ جن کے نمونے آپ کے سامنے ہیں۔ میں آپ لوگوں کو مشین کھولنا اور واپس اسمبل کرنا سکھاؤں گا۔ سٹوڈنٹس اُنکے لمبے قد اور پتلے ہاتھوں سے زیادہ اُنکے سرخ بالوں سے متاثر ہو رہے تھے۔ اس وجہ سے کہ ایسا بابا ہر شعبے میں ہوتا ہے۔ جو ماہر ہوتا ہے اور ضرور ایڈنبرا یونیورسٹی سے پڑھا ہوتا ہے۔
تو آپ لوگ میرے ساتھ آپریشن تھیٹر کیوں نہیں چلتے۔ جی ہاں ابھی، لیکن یاد رہے وہاں کوئی سیلفیز نہیں بنائی جائیں گی۔ اور شور کی تو ہر گز اجازت نہیں۔ میں اُمید کرتا بوں آپ سب ہیپاٹائیٹس بی کی ویکسین لگوا چکے۔ اور اگلے ہی لمحے وہ سب فینائل کی تیز بو اور تیز سیٹی نما شور میں گھرے آپریشن تھیٹر میں موجود تھے۔
اس تیز شور سے ننھی گڑیا کی آنکھ کھل گئی۔ کمرہ دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے سیدھا ہو کر ماما کو آواز لگانا چاہی۔ لیکن ایک زوردار بٹ جھولتا ہوا آیا اور اُسکے جبڑے اور گردن کے بیچ جو کچھ تھا۔ اڑاتا ہوا ساتھ لے گیا۔ ریڈیو کی آواز آئی
”Yes sir, site has been cleared off the militants. No hostages found.“


