راسپوٹین کی موت (2)

سب انتظامات مکمل تھے مگر اندیشہ اس بات کا تھا کہ راسپوٹین کہیں پرنس یوسوپوف کی دعوت مسترد نہ کردے۔ وعدہ خلافی نہ کرجائے۔ رات کے گیارہ بج گئے۔ راسپوٹین نہ آیا۔ اب پرنس اور اس کے ساتھیوں کو سخت تشویش ہوئی۔
متری: کہیں جاسوسوں نے اس کو ہماری سازش سے آگاہ تو نہیں کردیا۔
یوسوپوف: نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ ہمارے سوا اس سازش سے اور کون آگاہ ہے۔ اگر اس کو پتہ چل گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود اس شیطان کے جاسوس ہیں۔
پال سیتپانوف: سوال یہ ہے کہ وہ ابھی تک آیا کیوں نہیں۔
یوسوپوف: کسی معشوقہ کے ہاں رُک گیا ہوگا۔
پال سیتپانوف: ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔
متری: حرا م زادے پر عورتیں یو ں ٹوٹتی ہیں جیسے شہد پر مکھیاں ۔
یوسوپوف: آج آجائے تو یہیں سارا چھتہ ہی نچوڑ دوں۔
پال سیتپانوف: یوسوپوف! تم ٹیلیفون کرو اور اس کے گھر سے پتہ لو کہ کہاں ہے۔
یوسوپوف: ٹھیک ۔ لو میں ابھی کرتا ہوں (نمبر ملتا ہے) ہیلو ۔۔۔ ہیلو۔۔۔ مقدس باپ کہاں ہیں؟ ۔۔۔ کیا کہا؟۔۔۔ چلے گئے؟۔۔۔ کب ؟ ۔۔۔ کہاں؟
(ٹیلیفون کاچونگا رکھ دیتا ہے)
پال سیتپانوف: کہاں گیا؟
متری: گھر میں نہیں ہے کیا؟
یوسوپوف: خادم بتاتا ہے کہ مقدس باپ ٹھیک گیارہ بجے گھر سے نکل گئے تھے۔
متری: مقدس باپ ۔۔۔ شیطان کا بچہ ۔۔۔ مقدس باپ !!
یوسوپوف: ایسا نہ ہو کہ ہماری سازش یہاں دھری کی دھری رہ جائے۔
متری: روس کی نجات اس وقت ناممکن ہے جب تک یہ شیطان زندہ ہے۔
اگر وہ آج نہ آئے تو اسے کل بلایا جائے اور کسی نہ کسی حیلے سے اس کا کام تمام ضرور کردیاجائے۔
پال سیتپانوف: سب انتظامات مکمل ہیں۔ ایسا موقع شاید ہی پھر کبھی ہاتھ آئے۔
یوسوپوف: کچھ دیر اور انتظار کرلیتے ہیں۔ شاید آجائے۔
پال سیتپانوف: اگر اسے آنا ہوتا تو اب تک آگیا ہوتا۔ جہاں خوبصورت رقص و سُرود اورشراب کا سوال ہو وہاں وہ کبھی دیر نہیں کرتا۔ عین وقت پرپہنچا کرتا ہے۔
متری: ہوسکتا ہے کہ ہماری دعوت میں اسے کوئی دلفریب بات نظر نہ آئی ہو۔
یوسوپوف: دعوت کو دلفریب بنانے میں ہم نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ خوبصورت عورت، رقص ، شراب اور تخلیہ یہ سب چیزیں ہم اسے دعوت میں پیش کرچکے ہیں۔ اس کے یہاں نہ آنے کی کوئی اور ہی وجہ ہوگی۔
متری: ٹھہرو۔۔۔ یہ تم نے آواز سُنی ۔
یوسوپوف: وہ آگیا ۔۔۔ یہ آواز اسی کی موٹر کی ہے ۔ وہ آگیا ۔۔۔ اب تم سب تیار ہوجاؤ ۔۔۔ دیکھو ایسی بات نہ ہوکہ وہ تاڑ جائے۔
ٹھیک گیارہ بج کر بیس منٹ پر راسپوٹین کی موٹر دروازے پر آکر رُکی ۔ وہ اس میں سے اترا موٹر خفیہ دروازے پر روکی گئی تھی راہب کو بڑی احتیاط کے ساتھ اندر داخل کیا گیا کہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔
راسپوٹین اسی وقت سیاہ جُبّہ پہنے تھا۔ جواہرات سے مرصع عظیم الشان طلائی صلیب اس کے سینے پر لٹک رہی تھی ۔ اندر داخل ہوکر اس نے اپنا بیش قیمت اوور کوٹ اتار دیا۔ باہرشدید قسم کی برف باری ہو رہی تھی اور سخت سردی تھی۔
یوسوپوف: تشریف لے آیئے۔۔۔ بے کھٹکے اندر تشریف لے آیئے۔
راسپوٹین: مجھے دیر ہوگئی۔
یوسوپوف: خاص دیرتو نہیں ہوئی۔ زہے نصیب کہ آپ تشریف لے آئے ہیں۔
راسپوٹین: جب تم نے بلایا تو مجھے آنا ہی پڑا۔۔۔ تمہاری دعوت سے انکار بھی ہوسکتا تھا جب کہ تم نے ۔۔۔ یہ کون ہے؟
یوسوپوف: مقدس باپ ، آپ مطمئن رہیں ۔ خلوت کا یہاں پورا پورا بندوبست ہے۔ یہ پال سیتپانوف ہیں۔ میرے پرانے دوست ، ہم پیالہ و ہم نوالہ ۔۔۔ آؤ پال مقدس باپ کی زیارت کا شرف حاصل کرو۔
راسپوٹین: (پال کی طرف شفقت آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے) تم سے مل کر مسرت ہوئی ہے۔
پال ستیپانوف: یہ میری عین خوش نصیبی ہے۔
راسپوٹین: بیٹھ جاؤ ۔۔۔ اس کرسی پر بیٹھ جاؤ۔
پال سیتپانوف: (کرسی پر بیٹھ کر) آج پہلی مرتبہ آپ کے دیدار ہوئے ہیں۔۔۔ یہ شرف مجھے ہمیشہ یاد رہے گا ۔ آپ کی عظمت و بزرگی ۔۔۔
راسپوٹین: راسپوٹین کا یہ ادنیٰ ثبوت ہے کہ اگر نکولس دوم روس کا زار ہے تو میں عیسیٰ مسیح ہوں۔ میں روس کو اور تمام دنیا کو نجات دلانے آیا ہوں۔ زار اورز ارینہ میرے سامنے ادب سے جھکتے اور میرا ہاتھ چومتے ہیں، ان کے بچے مجھے سجدہ کرتے ہیں۔ میرا بہت بڑا مرتبہ ہے۔
پال سیتپانوف: (مصنوعی طور پر متاثر ہوکر) اس میں کیا شک ہے مقدس باپ۔
راسپوٹین: یوسوپوف وہ عورت کہاں ہے جس کا تم نے ذکر کیا تھا۔۔۔ وہ حسینہ جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی ۔ مگر مجھ سے تعارف کرنے کی خواہش مند ہے۔
یوسوپوف: ابھی تک آئی نہیں مقدس باپ
راسپوٹین: کیا وجہ ہے کہ اس کے نہ آنے کی۔ تمہارے بیان کے مطابق اسے میری ملاقات کا اشتیاق تھا۔؟
یوسوپوف: جی ہاں ، بہت زیادہ اشتیاق تھا۔ اور میرا خیال ہے کہ بس اب آتی ہی ہوگی ۔۔۔ متری باہر اس کا انتظار کر رہاہے۔ میں جا کر دیکھتا ہوں۔
راسپوٹین: جاؤ پرنس متری کو یہاں بھیج دو اورتم اس خاتون کا انتظار کرو۔
یوسوپوف: بہت اچھا مقدس باپ (چلا جاتا ہے)
راسپوٹین: پال ، اس عورت کو جس کا ذکر ابھی ہو رہا تھا ، کیا تم جانتے ہو!
پال سیتپانوف: جانتا ہوں ۔۔۔ بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔
راسپوٹین: کیسی ہے؟
پال سیتپانوف: بہت حسین عورت ہے اور ناچتی بھی خوب ہے۔ میں نے ایسی رقاصہ آج تک نہیں دیکھی۔
راسپوٹین: خوب ۔ خوب ۔۔۔
پال سیتپانوف: مقدس باپ، میں ہپناٹزم کے متعلق بہت کچھ سن چکا ہوں ۔ کہتے ہیں کہ ایسا علم موجود ہے، جس سے آدمی دوسروں کو مسحور کرلیتا ہے ۔ لیکن مجھے یقین نہیں آتا۔ اس لیئے کہ کوئی قابلِ یقین بات نظر نہیں آتی۔ صرف آنکھوں کے ذریعے ٹکٹکی باندھ کر کسی تندرست آدمی کو بے حس کردینا کہاں تک درست ہوسکتا ہے۔ اور پھر اس بے حس آدمی سے عجیب و غریب کام لینا ۔۔۔ میں کیا عرض کروں، کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔
ایک عجیب چکر میں پھنس جاتا ہوں جب اس علم کے متعلق سوچتا ہوں۔
راسپوٹین: (ہنستا ہے) تم میری رائے پوچھنا چاہتے ہو؟
پال سیتپانوف: جی ہاں!
راسپوٹین: تم نے سنا ہوگا کہ میں ہپناٹزم کا عامل ہوں۔
راسپوٹین: جی ہاں ۔ آپ کے متعلق یہ بات عام مشہور ہے۔
راسپوٹین: جو بالکل غلط ہے۔۔۔ خدائے ذوالجلال نے مجھے جو قوت بخشی ہے اس کو لوگ جہالت اوربیوقوفی کے باعث ہپنا ٹزم سمجھتے ہیں اس نے مجھے برکت بخشی ہے اس نے مجھے ہدایت کار بنا یا ہے ۔ امن اور نجات کی کلید میرے ہاتھ میں دی ہے دنیا و آخر میں میرا مقام بلند ہے ۔ لوگ ان رفعتوں کو دوسرے رنگ میں دیکھتے ہیں وہ مجھے جادو گر سمجھتے ہیں۔ اس لیئے کہ وہ کم عقل اور جاہل ہیں۔ لیکن جو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں خدا کا بھیجا ہواپیغمبر ہوں۔
(پرنس متری اندر آتا ہے)
راسپوٹین: آؤ پرنس متری تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔
متری: میں اس خاتون کی راہ دیکھ رہا تھا مقدس باپ۔
راسپوٹین: ابھی تک نہیں آئی!
متری: جی نہیں، لیکن بس اب آیا ہی چاہتی ہے۔
راسپوٹین: تو بیٹھ جاؤ میرے پاس ۔۔۔ بوتل کھولو، پیؤ اور پلاؤ
(جاری ہے)


Comments are closed.