راسپوٹین کی موت (3)

راسپوٹین: گلاس بھر دو ۔۔۔ پال کو بھی دو۔
متری: (بوتل میز پر رکھ دیتا ہے) لو پال لو پال تم بھی لے لو۔۔۔ کیا سوچ رہے ہو؟
پال سیتپانوف: میں سامنے تصویر کی طرف دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ مصوری کا نادر نمونہ ہے ۔۔۔ مقدس باپ، آپ نے ملاحظہ فرمائی یہ تصویر۔
راسپوٹین: (تصویر کی طرف دیکھتا ہے) منظر کشی خوب کی گئی ہے۔مجھے اس کا فریم بھی پسند آیا ہے (اس دوران میں پال سیتپانوف دوسری بوتل سے اپنے گلاس میں شراب انڈیل لیتا ہے۔ )
متری: میں آرٹسٹ کا نام بھو ل گیا ہوں مجھے یوسوپوف نے بتایا تھا، بھلا سا نام ہے۔
پال سیتپانوف: (گلاس اٹھاکر) مقدس باپ کی صحت کے لیئے۔
راسپوٹین: (اپنا گلاس اٹھا کر لبوں کے ساتھ لگاتا ہے) متری تم بھی پیؤ (گلاس غٹاغٹ پی جاتا ہے)
متری: حیرت ہے کہ وہ خاتون ابھی تک نہیں آئی۔
پال سیتپانوف: (راسپوٹین کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے)
یوسوپوف شاید ابھی تک اس کا انتظار کر رہا ہے۔
راسپوٹین: آجائے گی۔۔۔ آج برف باری بھی تو بہت ہو رہی ہے۔
پال اور متری سخت متخیر تھے کہ راسپوٹین اتنا زہر پی چکا ہے ۔ جو بارہ آدمیوں کو ہلاک کرنے کے لیئے کافی ہے ۔ مگر اسے کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہ بالکل تندرست تھا جیسے اس نے کبھی زہر پیا ہی نہیں۔ شراب پینے کے بعد اس نے میز پر سے بسکٹ اٹھا کر کھائے اورباتیں کرتا رہا بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس نے نظر بچا کر اپنا گلاس کانچ کے اس اگالدان میں انڈیل دیا تھا جو اس کے پاس ہی رکھا تھا مگر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ نہیں اس نے سچ مچ زہر پیاتھا۔ بہرحال اس کے متعلق اختلاف ضرور ہے۔ پرنس یوسوپوف اور اس کے ساتھی اوپر کی منزل میں تھے ۔ اور دیر ہونے کے باعث سخت پریشان ہو رہے تھے ۔ انہیں یقین تھا کہ راسپوٹین زہر پیتے ہی مرجائے گا۔ جب بہت دیر ہوگئی اور پال اس کی موت کی خوشخبری سنانے کے لیئے نہ آیا تو یہ لوگ دبے پاؤں نیچے اترے اور کمرے کے پاس جاکر تعجب سے راسپوٹین کی باتیں سننے لگے ۔
راسپوٹین: ایک گلاس اور رہے۔
پال: لیجیئے(گلاس میں زہریلی شراب انڈیلتا ہے)
راسپوٹین: (گلاس خالی کرکے ) آج سردی غضب کی ہے، خون منجمد ہوا جارہاہے۔ تین گلاس ختم کرچکا ہوں، ابھی تک بدن میں گرمی پیدا نہیں ہوئی۔۔۔ لیکن تم لوگ یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر میری طرف کیا دیکھ رہے ہو؟
پال: کچھ نہیں ۔۔۔ کچھ نہیں
متری: (گھبراکر) یہ صریحاً جادوگری ہے۔
راسپوٹین: (مسکرا کر ) کیا جادو گری ہے؟ ۔۔۔ جادو گری سب بکواس ہے۔ تم بہک رہے ۔۔۔ تمہیں ہو کیا گیا ہے۔
پال: (اُٹھ کھڑا ہوتا ہے) خُدا کی قسّم یہ شخص جادو گر ہے۔۔۔
متری: پال، پستول نکالو اور ملعون کا خاتمہ کردو، یہ زہر اسے ہلاک نہیں کرسکے گا۔
راسپوٹین: (ہنستا ہے) تو مجھے زہر دیا گیا ہے ۔۔۔ دوستو! زہر مجھے ہلاک نہیں کرسکتا ۔۔۔ جس شخص کو حکمت الٰہی نے بھیجا ہے جس کو خُدا نے بے شمارقوتیں عنایت کر رکھی ہیں اس کی طرف کوئی آنکھ اُٹھا کرنہیں دیکھ سکتا۔۔۔ یہ زہر میرا بال تک بیکانہیں کرسکتا ۔۔۔(ہنستا ہے) جاؤ، یوسوپوف کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ وہ حسین خاتون ابھی آئی ہے، یا نہیں (ہنستا ہے) اس کے بعد پھر مجھے ہلاک کرنے کی تجویز سوچنا ۔۔۔ خدا تم پر اپنی برکت نازل کرئے۔
متری: پال اس شیطان کی تقریر نہ سُنو۔۔۔ اپنا کام کرو۔۔۔ اس کے رعب میں نہ آؤ۔
پال: (اپنے حواس درست کرتا ہے اور جیب سے پستول نکال کر فائر کرتا ہے ) ایک دو، تین۔
راسپوٹین، کے سینے میں گولیاں اتار کر پال کمرے سے باہر نکلا۔ جہاں اسے پرنس یوسوپوف وغیرہ ملے ۔ پال نے ان سے کہا ۔ شیطان بالآخر جہنم رسید ہوگیا اب روس اس کے شرسے آزاد ہے ۔۔۔ چنانچہ یہ سب لوگ اوپر کی منزل میں شراب پینے لگے مگر تھوڑی ہی دیر میں انہیں نیچے کی منزل میں کچھ گڑ بڑ معلوم ہوئی۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور راسپوٹین اندر داخل ہوا۔ ان سب کو یقین تھا کہ پھیپھڑے پر گولیاں کھا کر وہ مرکھپ چکا ہوگا۔ جب اسے زندہ دیکھا تو ان کے ہوش اُڑ گئے ۔ راسپوٹین خون میں نہایا ہوا تھا۔ لڑکھڑاتا ہوا وہ محل کے پھاٹک تک پہنچ گیا اور اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔
یوسوپوف: متری کہیں سچ مچ یہ راہب خدا رسیدہ ہی تو نہیں؟
متری: ہوسکتا ہے کہ خدا اس کی حفاظت کر رہا ہو۔
یوسوپوف: زہر پی کر اور گولیاں کھا کر بھی کم بخت نہیں مرا۔
متری: بڑا سخت جان ہے۔
پال: کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔
راسپوٹین: (ایک ہاتھ سے اپنا زخم پکڑ کر جس میں سے خون جاری تھا) تم نے مجھے قتل کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے لیکن یہ دیکھو میں زندہ ہوں ۔۔۔ میں زندہ ہوں اور اسی طرح زندہ رہوں گا ۔ کوئی انسانی قوت مجھے ہلاک نہیں کرسکتی زہر اور یہ گولیاں مجھ پر کیا اثر کرسکتی ہیں (ہنستا ہے) تم لوگ بے وقوف ہو کیا اب بھی تمہیں میری عظمت پر شک ہے کیا اب بھی تم مجھے ہلاک کرنے کی ناکام سعی کرتے رہو گے۔۔۔ پھاٹک کھول دو۔ میں باہر جانا چاہتا ہوں اور عنقریب خدا مجھے تم سے انتقام لینے کا موقع عطا کردے گا۔
پال: متری، دُوڑو۔ اس ملعون کی پیٹھ میں اپنا خنجر دستے تک اُتاردو۔ اس کی باتوں میں نہ آؤ۔ یہ خدا رسیدہ بزرگ نہیں شیطان ہے جو ہمیں مرعوب کرنا چاہتاہے۔
راسپوٹین: تم بے وقوف ہو تمہارا زہر اورتمہاری گولیاں مجھے ہلاک نہ کرسکیں۔ یہ خنجر میرا کیا بگاڑے گا؟ ۔۔۔ آؤ اس کو بھی آزما دیکھو۔
پال: متری خدا کے لیئے اس کی باتیں نہ سنو! یہ ہم پر جادو کرنا چاہتا ہے ۔ دوڑو جانے نہ پائے ۔۔۔ لاؤ خنجر مجھے دو۔
راسپوٹین نے جب دروازہ کا ہتا گھمایا تو پال کو جوش آگیا۔ وہ خرافات کا قائل نہ تھا ۔ خنجر لیکر تیر کی طرح دوڑا اور راسپوٹین کی پیٹھ میں
دستے تک اُتار دیا ۔ اب روس کا یہ دجّال راہب آخری بار لڑکھڑا یا اورفرش پر اوندھے منہ گر پڑا۔ کہتے ہیں کہ جب اس کی لاش اُٹھا کر ان لوگوں نے دریا میں پھینکنا چاہی تو اس وقت بھی راسپوٹین کے جسم میں جان کی رمق باقی تھی ۔۔۔ جب اس کو دریابُرد کیا گیا تو ان لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا ۔۔۔ کیونکہ اب واقعی راسپوٹین رُوس کا مہیب بھوت مرچُکا تھا۔
http://www.humsub.com.pk/58470/saadat-hasan-manto-17/

