ٹالی، چڑیا اور فاختہ
انحطاط صرف سماجی نہیں ہوتا۔ جب زوال شروع ہوتا ہے تو پہلے پہل یہی لگتا ہے کہ ہم اس کا شکار نہیں ہوں گے کیونکہ ہم نے کچھ غلط کیا ہی نہیں ہوتا لیکن ہم یہ بھل بھولا جاتے ہیں کہ ہم بھی اس اکائی کا حصہ ہیں جو اس تباہی، بربادی اور زوال کی ذمہ دار ہے تو پھر ہم کیسے مبرا ہوئے۔
آج کی دنیا جس کے لیے کوئی صفت، جیسے کہ جدید یا قدیم، استعمال کرنا مشکل ہے وہ نام نہاد ہی سہی پر جمہوری روایات کی پرچارک ہے۔ یہ بات اور بھی باعث دلچسپی ہے کہ یہ روایات ہر طرح کے نظام میں موجود ہیں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ماضی میں اور خاص طور پر نازی جرمنی میں اجتماعی سزا کا رواج تھا اور بہت سے بے گناہ لوگ اجتماعیت کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے۔
آج کی دنیا کا وجود اس طرح کے رواجوں اور طریقوں کے خلاف اکٹھے ہونے سے ممکن ہوا تھا۔
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت یا فطرت کی منشا ہے کہ اس دنیا کو دوام اجتماعیت ہی سے ملنا ہے۔ مگر آج کی دنیا یا یوں کہہ لیں کہ معاشرہ انفرادیت کا شکار ہو کر سماجیات کو تہ تیغ کر رہا ہے۔
اس ضمن میں بہت سی مثالیں ہیں جو میں پیش کر سکتا ہوں مگر میں صرف چند ایک پر ہی اکتفا کرتے ہوئے مضمون کو ختم کروں گا تاکہ قارئین کے سوچنے کے لیے بھی کچھ رہنے دیا جائے۔
میں ایک عرصہ سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر مختلف سیمینار کا انعقاد اور ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے مباحثوں کا سن رہا ہوں۔ اس کے لیے بہت سے فنڈز بھی باقی وسائل کے ساتھ فراہم کیے جا رہے ہیں مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں مگر آج بیان نہیں کروں گا۔
قدرت یا فطرت چاہتی ہے کہ ہم اجتماعیت کو ترویج دے کر سماجی انصاف قائم کریں۔ بنیادی طور پر اس دنیا کے دو اہم ترین پہلو ہیں۔ ایک فطری اور دوسرا انسانی۔ انصاف ان دو کے درمیان سب سے پہلے ہونا چاہیے۔ جو کہ نہیں ہے اور یہی بنیادی بگاڑ ہے۔ انسان نے سارا انصاف اپنے لیے مختص کر کے فطرت کے حقوق کو پورا کرنے سے انکاری ہو گیا ہے۔ جو کہ ظلم ہے۔ اور ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے کیونکہ بہت تھوڑے وقت تک برداشت کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں فطرت کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اس لیے فطرت نے جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے مگر انسان یہ سمجھنے سے عاری ہے۔ فطرت کی جوابی کارروائی سے اجتماعی سزا کا شکار پورا معاشرہ ہو گا نہ کہ چند صنعت کار یا سرمایہ دار۔
اس کے علاوہ دوسرا بڑا ظلم جو انسان نے کیا ہے وہ لفظ ”موزوں“ کا خاتمہ ہے۔ اگر انسان سب کو بشمول ماحولیات ”موزوں مواقع“ فراہم کیے جائیں تو ہی سماجی انصاف قائم ہو سکتا ہے مگر آج کا انسان مادہ پرستی اور انفرادیت کا شکار ہونے کی وجہ سے سب کو موزوں مواقع دینے سے گریزاں ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سب ہی میرے برابر کھڑے ہو کر میری انفرادیت کو داغدار کر رہے ہوں اور میں اپنا مقام و مرتبہ کھو بیٹھوں۔ انسان کو چاہیے کہ چرند، پرند، حیوانات، نباتات سب کو زندگی کے مناسب اور موزوں مواقع فراہم کرے تاکہ اس کی اپنی زندگی آسان اور خوشگوار ہو سکے۔
سماجی انصاف اور زندگی کرنے کے موزوں مواقع نہ ہونے کی وجہ سے آج ہم بہت سی اہم، پیاری، خوبصورت، بے ضرر چیزوں سے محروم ہو چکے ہیں یا قریب ہے کہ محروم ہو جائیں۔ پودوں میں ”ٹالی“ جیسے اردو میں شیشم کہا جاتا ہے، پرندوں میں چڑیا اور فاختہ اور جانوروں میں خرگوش۔ تمام متذکرہ بالا چیزیں معصوم، پیاری، نرم و نازک، ملائم ہونے میں اپنی مثال آپ تھے مگر سماجی انصاف نہ ہونے کی وجہ سے یا تو ناپید ہو گئے ہیں یا ہو رہے ہیں۔


