حق داروں کو ان کا حق دیں!
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کا اختتام ہوا چاہتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس مہینے کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔ اس ماہ مقدس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ اور صحابہ کرام اس مہینے کی آمد کا انتظام فرمایا کرتے تھے۔ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ پاک ہمیں یہ مہینہ دیکھنا نصیب فرما۔ اس تناظر میں دیکھیں تو ہم آپ واقعتاً خوش قسمت ہیں، جنہیں یہ مبارک مہینہ دیکھنا نصیب ہوا۔ اس مہینے میں ہم سب مقدور بھر عبادات کرتے ہیں۔ مجھ جیسوں کے معمولات میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے اور دل نماز، قرآن، تسبیحات کی طرف مائل رہتا ہے۔ میں ایسے کئی خوش قسمت لوگوں کو جانتی ہوں، جو رمضان المبارک میں دنیاوی کاموں سے اپنا دامن بچا کر اپنا زیادہ تر وقت عبادات کے لئے مختص رکھتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر ہے کہ سال کے گیارہ مہینے آدمی دنیا جہان کے کاموں میں مصروف رہتا ہے، لیکن رمضان کا ایک مہینہ خالصتاً اللہ پاک کی عبادت کے لئے مخصوص ہونا چاہیے۔ ایسے لوگوں سے مل کر اور ان کی باتیں سن کر مجھے خود پر پشیمانی ہوتی ہے۔ میں رمضان میں بھی دنیاوی معاملات میں الجھی رہتی ہوں۔ اس مرتبہ ارادہ تھا کہ دفتری کاموں کو بالائے طاق رکھ کر اپنا زیادہ تر وقت عبادات میں صرف کروں گی۔ تاہم یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ رمضان المبارک میں بھی دفتری کاموں نے مجھے گھیرے رکھا۔ کوشش اور ارادے کے باوجود میں اس صورتحال سے اپنا دامن نہیں بچا سکی۔ اگلے سال کے لئے ارادہ کیا ہے کہ زندگی رہی تو انشا االلہ رمضان المبارک کے مہینے میں اپنا سارا دھیان اور وقت رمضان ہی کے لئے وقف رکھوں گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھے اس ارادے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ایک طرف یہ صورتحال ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ہر مسلمان عبادات، صدقات، عطیات کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ اس مہینے میں وہ لوگ بھی نماز کی پابندی کرتے ہیں، جو سارا سال نماز پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ لوگ بھی دل کھول کر خیرات کرتے ہیں جو سال کے باقی مہینے اس عمل سے گریزاں رہتے ہیں۔ اس مہینے کی برکت دیکھیے کہ کیسے یہ دلوں کو نیک کاموں کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ تاہم دوسری طرف ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی جیسے افسوسناک معاملات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اکثر اوقات رمضان کے مہینے میں یہ منفی صورتحال عام مہینوں کی نسبت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ چوری چکاری، گالی گلوچ، لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں بھی رشوت وغیرہ جیسے معاملات معمول کے مطابق چلتے ہیں۔ مختلف خاندانوں میں یہ قصے بھی ہم اکثر سنتے اور دیکھتے ہیں کہ لوگ دوسروں کے مال و دولت پر ناجائز قبضہ جما کر بیٹھے رہتے ہیں۔ اپنے ارد گرد موجود ایسے لوگوں کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ پوسٹ یاد آتی ہے کہ کچھ لوگ اس بات کی سمجھ تو رکھتے ہیں کہ روزے کے دوران کچھ کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن عزیز و اقارب کا ناجائز مال کھانے سے انہیں روزہ ٹوٹنے کا کوئی ڈر خوف نہیں ہوتا۔ بہرحال دعا ہے کہ اللہ پاک اس بابرکت مہینے کے طفیل ہمیں نیکی کی توفیق دے، برائی اور برے لوگوں کے شر سے بچائے رکھے۔ آمین۔
رمضان المبارک کے بعد ہم سب عید کی خوشیاں منانے میں مصروف ہو جائیں گے۔ اتنے مبارک مہینے کے بعد عید کی خوشی منانی بھی چاہیے۔ آج کل کے مادی دور میں بیشتر لوگ سارا سال ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ان حالات میں رمضان المبارک کا مہینہ اور عید کا تہوار یقیناً ہم سب کو اس ذہنی دباؤ سے نکلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم نہایت ضروری ہے کہ عید کی خوشیاں مناتے وقت ہم اپنے گرد و پیش پر ضرور نگاہ ڈالیں۔ یقیناً ہمارے خاندان، گلی محلے، دفاتر وغیرہ میں بہت سے لوگ ہماری اس نگاہ کے منتظر اور مستحق ہوں گے۔ پچھلے کچھ سالوں میں بڑھنے والی مہنگائی نے اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ متوسط اور زیریں طبقے پر کیا بیتی ہو گی۔ مالی دباؤ نے اس طبقے کے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہم اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں اور ذرا غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ نہایت اچھے اور معزز گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بھی مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ سفید پوش لوگ اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے مشکل سے گزارہ کرتے ہیں۔ آپ کو ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے تو کئی مل جائیں گے تاہم یہ سفید پوش لوگ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتے شرم محسوس کرتے ہیں۔ بس غور کرنے کی دیر ہے ہمیں اپنے حلقہ احباب میں کئی ایسے خاندان نظر آ جائیں گے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی مدد کریں۔ انہیں عید کی خوشیاں منانے اور آسانی کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد فراہم کریں۔ ایسا کرنے سے ہمیں عید کی حقیقی خوشیاں نصیب ہوں گی۔
دین اسلام کا درس بھی یہی ہے۔ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ پاک نے امیروں کے مال میں غریبوں کا حصہ رکھ دیا ہے۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمیں رزق کمزوروں اور محتاجوں کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ جب میرے رب اور میرے نبی ﷺ نے یہ درس دیا ہے تو پھر ہمیں غریبوں، محتاجوں، بے کسوں کو وہ حصہ ضرور دینا چاہیے، جو ان کا حق ہے۔ ضرورت مندوں کی امداد کے ضمن میں ایک اور بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ہمیں ہدایت فرماتا ہے کہ مالداروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ جب اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو اور ضرورت مندوں کودیں تو گھٹیا اور ناقص قسم کا مال دینے کا قصد مت کریں، بلکہ اچھی قسم کا مال دیا کریں۔ یہ نصیحت بھی قرآن پاک میں ہمیں ملتی ہے کہ جب ہم کسی حاجت مند کی مدد کریں تو ریا کاری، دکھاوے اور احساس جتلانے سے گریز کریں۔
دعا ہے کہ اللہ پاک مجھ سمیت ہم سب کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم دوسروں کا مال ناحق کھانے سے باز رہیں۔ اللہ پاک ہمیں یہ توفیق بھی دے کہ ہم اپنے رزق میں غریبوں، محتاجوں اور کمزوروں کی بھی مدد کریں اور ان کی زندگی میں آسانی لا نے کا سبب بن سکیں۔


