پاک سرزمین شاد باد
17 مارچ 2025 کو بی بی سی نے ایک تفصیلی تحریری و تصویری رپورٹ عام کی جس میں بتایا گیا کہ ”انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں بڑھتا ہوا متعصبانہ رجحان مسلم کاروباری افراد کو غربت کی جانب دھکیل رہا ہے“ ۔
ہندوستان میں نریندر مودی کے راج سنگھاسن پر براجمان ہونے کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک عام ہے جو کبھی شودروں کے ساتھ روا رکھنا برہمنوں اور برہمن مزاجوں کا طرزِ زندگی تھا۔
مساجد پہ ماضی کے مندر ہونے کی دعویداری آج ملک کے کونے کونے میں اپنے عروج پر ہے۔ یہاں تک کہ مزارات بھی اور معین چشتی جیسے بزرگ کی درگاہ بھی ایسے دعوے کی زد میں ہے۔
مسلمانوں کو ہر طرح سے نشانے پر رکھنے کے لیے کیا کیا حربے ایجاد ہوئے، نیلی چھتری کے نیچے ایسی نظیر کہیں اور پانا ناممکن ہے۔ اس کی ایک مثال ”لو جہاد“ کی اختراع کردہ ترکیب ہے۔ اسی طرح ”گاؤ رکشا“ کے نام پر مسلمانوں پہ سرِ عام تشدد کی دسیوں وڈیوز یو ٹیوب پر موجود ہیں۔ علاوہ ازیں خود ساختہ سزا کے تحت مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوز کرنا جسے عدالتیں بھی نہ روک پائیں۔ پھر حال ہی میں اس تعصب نے نئی نئی شکلیں اختیار کیں۔ یو پی میں دکانداروں کو ایسے بورڈ آویزاں کرنے کو کہا گیا جن سے پتہ چلے کہ دکان ہندو کی ہے یا مسلمان کی۔ مہا کمبھ میلے میں کسی مسلمان کو ٹھیلہ تک نہیں لگانے دیا گیا وغیرہ۔
یہ وقت ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش حالات پہ افسوس کے ساتھ ساتھ شکر کا ہے کہ اہلِ پاکستان اپنے بے شمار مسائل کے باوجود بھی ایک ایسی زندگی بسر نہیں کر رہے جس کی تصویر کشی منیر نیازی نے کی تھی۔
چاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں ایسے ”سیانے“ اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں جو قیامِ پاکستان کو ایک غلطی قرار دیتے ہیں اور اکھنڈ بھارت پریمی بنے متحدہ ہندوستان کے متحدہ نہ رہ پانے پر رنج و الم کی ویسی کیفیت میں غرق ہوتے ہیں جو مشیر کاظمی کے لکھے میڈم کے ایک مشہور گیت کے الفاظ میں کچھ یوں بنتی ہے۔
اک ٹیس جگر میں اٹھتی ہے اک درد سا دل میں ہوتا ہے۔ ( بیان کو گمبھیرتا سے بچانے کے لیے دوسرا مصرعہ اگنور کیا ہے۔ )
غالب کے الفاظ میں۔
ع۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔
لیکن مجبوری ہے خود ہی بتانا پڑ رہا ہے کہ آپ جس ہندوستان کو پاکستان کے وجود میں آنے کی وجہ سے منقسم ہونا مانتے ہیں وہ تو کبھی بھی متحد نہیں رہا اور ہمیشہ رجواڑوں میں تقسیم رہا۔ یہاں تک کی راج کے دور میں بھی اس کے اندر 565 آمرانہ ریاستیں ایسی تھیں جن کا نظام نہ راجدھانی دلی سے ملتا تھا اور نہ ایک دوسرے سے۔ اگر جاننا چاہیں کہ نظام تھا کیسا تو دیوان سنگھ مفتون کی دو جلدوں میں مشہور کتاب ”ناقابلِ فراموش“ پڑھ لیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ چوہدری اعتزاز احسن نے اپنی کتاب ”سندھ ساگا“ میں ان گنت دلائل کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ شمالی ہندوستان کا وہ حصہ جو اب پاکستان کہلاتا ہے ہمیشہ سے باقی ہندوستان سے مختلف اور جدا رہا ہے۔
رقیبانِ قیامِ پاکستان کے ہاں مولانا ابوالکلام کی کچھ غیر دوستانہ پیشن گوئیوں کا بھی بہت چرچا ہے جو درست ثابت ہو کر انہیں نہال کر گئیں۔
اس ضمن میں ایک تو ان کا اس بات پر اجماع نہیں ہے کہ یہ پیش گوئیاں بذریعہ تقریر کی گئیں یا بذریعہ انٹرویو۔ پھر کہا جانے لگا کہ یہ شورش کاشمیری کو دیے گئے ایک انٹرویو کا حاصل تھیں لیکن یہ نہ طے ہو سکا کہ یہ کب کی بات ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ قیامِ پاکستان سے ایک سال پہلے کا انٹرویو ہے ( جبکہ ایک سال پہلے کیبنٹ مشن کے آنے اور ناکام لوٹنے تک قیامِ پاکستان کے مطالبے پہ لندن سے ابھی ”قبول ہے“ کے سندیسے کا انتظار تھا۔ ) ۔ اور کچھ اسے 5 / 7 سال بعد کا انٹرویو بتاتے ہیں۔
آئیے اس بارے میں کچھ مزید بات کرتے ہیں۔
جاری ہے۔


