گجرات کا مزارِ حافظ محمد حیاتؒ:سکھ اور مغل تعمیراتی انداز کا حسین امتزاج
گجرات کے خطے کی تاریخ میں شہر کی آباد کاری میں جہاں اس وقت کے حکمرانوں کے معاشی منصوبے تھے وہاں بہت سے درویشوں اور اولیا کا کردار بھی رہا ہے جس سے علاقے کی ترقی کو تقویت ملی۔ روحانیت سے فیض یہ شخصیات اکثر کم آبادی والے علاقوں میں سکونت اختیار کرتے تھے جو آنے والے وقتوں میں گنجان آبادیوں میں تبدیل ہو گئے۔ مثلاً حضرت کبیر الدین شاہ دولہ، جو 1612 ء میں سیالکوٹ سے گجرات منتقل ہوئے، نے شہر کی آباد کاری میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر گجرات کے قلعے کی ترقی میں، جو 1587۔ 88 ء میں تعمیر ہوا تھا۔ گنیش داس و ڈھیرا، جو انیسویں صدیٔ گجرات کے معروف قانون گو تھے، نے اپنی کتاب۔ ’چار باغ پنجاب‘ میں لکھا ہے کہ ابتداء میں قلعۂ گجرات میں بسائے گئے شہرِ اکبر کی آبادی بڑھ نہیں رہی تھی، لیکن شاہ دولہ صاحب کے قلعے کے مشرق میں آباد ہونے اور مساجد و پل بنانے کی بناء پر شہرِ گجرات کی آبادی بڑھنی شروع ہوئی۔
ایک متبرک شخص حضرت حافظ محمد حیات بھی تھے جو افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی کے عہد میں جلالپور جٹاں کے نزد کوٹ امیر حسین میں اپنے روحانی استاد حضرت باقی شاہ اولیا کے حکم پر آباد ہوئے۔ ابدالی کا عہد 1748 ء میں گجرات میں شروع ہوا تھا۔ ہمیں حضرت باقی شاہ کے بارے میں مزید معلومات گنیش داس کی چار باغ پنجاب سے ملتی ہیں جس میں ذکر ہے کہ باقی شاہ ملیر کوٹلہ کے بزرگوں کی نسل سے تھے، جو وزیر آباد میں آباد ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے تین شاگردوں کو روحانی فیض بخشا تھا: دائیم شاہ، حافظ محمد حیات، اور مائی دُرگو، جو ایک ہندو سُنار خاتون تھیں۔ دائیم شاہ کو و زیرآباد میں لاہوری دروازے کے قریب باقی شاہ کے مزار کے پاس دفن کیا گیا تھا۔
حضرت حافظ حیات نے باقی شاہ کے حکم پر کوٹ امیر حسین میں آباد ہو گئے جو اس وقت کشمیر کی طرف جانے کے لیے ایک مشہور راستہ تھا۔ عبد الرحمن کی کتاب ’پِیوٹ آف دی پنجاب: دی ہسٹوریکل جیوگرفی آف میڈیویل گجرات‘ میں ذکر ہے کہ کوٹ امیر حسین کا علاقہ راجہ کلادہوی کی ملکیت تھا لیکن گنیش داس نے اس راجہ کا ذکر نہیں کیا۔ کوٹ امیر حسین اور اس کے گردونواح کے علاقے کشمیر کے ماتحت تھے یا نہیں اس کا ثبوت دیوان کرپا رام کی کتاب ’گلبانامہ‘ میں ملتا ہے۔ کرپا رام جو دیوان جوالہ سہائے کا بیٹا تھا ’جموں کے راجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ کا وزیراعظم تھا۔ گلابنامہ کے مطابق بہلولپور، کڑیانوالہ، دولت نگر، پیروشاہ، عالمگڑھ اور ٹانڈا سمیت گردونواح کے علاقے اٹھارہویں صدی کے وسط تک کشمیر کی سلطنت کا حصہ تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوٹ امیر حسین کشمیر کے ماتحت تھا۔
حافظ حیات نے اپنی روحانیت کے فیض سے عوام کی مدد کی اور اردگرد کی زمین پر خود کاشتکاری کر کے دن میں دو بار مسافروں کو کھانا کھلایا کرتے تھے جس سے ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ ان کا بنایا گیا کمپلیکس ایک حویلی، بارہ دری، سات کنوؤں اور ایک مسجد پر مشتمل تھا جس سے مسافروں کو آسانیاں ملیں۔ گجر سنگھ بھنگی کے دور میں حافظ حیات ؒ 1771 ء میں فوت ہوئے اور اُن کے بعد ان کے شاگردوں نے ان کے مشن کو جاری رکھا۔ ہر سال 19 محرم کو یہاں میلے کا انعقاد کیا جاتا تھا جس کا شمار پنجاب کے بڑے میلوں میں ہوتا تھا اس کا کا تذکرہ ایک برطانوی منتظم اور 1907 ء میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر ڈینزل ایبٹسن نے 1883 ء میں بھی کیا۔ ایبٹسن ’گجرات ڈسٹرکٹ گزٹیر‘ میں لکھتے ہیں کہ حافظ حیات کا میلہ عقیدت و احترام سے منایا جاتا تھا جہاں تیس ہزار عقیدت مندوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔
ماضی میں حافظ حیات ؒ کا کمپلیکس اس کے دلکش نقش و نگار، فریسکو اور تعمیراتی انداز کی وجہ سے ایک پْر وقار جگہ رہی تھی اگرچہ یہ اب اپنی عظمت اور چمک کھو چکے ہیں۔ اس کمپلیکس کو 12 میٹر اونچے ٹیلے پر بنایا گیا تھا۔ مزار کی مسجد ایک مستطیل پلیٹ فارم پر بنی ہے جس کے تین حصے ہیں : منبر اور دو محرابیں۔ مزار کے مغرب میں واقعہ سرائے کے مشرق اور مغرب کی طرف دو دروازے تھے۔ اس کمپلیکس کے کنویں زرعی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ ان سات کنوؤں میں سے جنوب مغربی کونے میں واقعہ کنواں اہم تھا جو مقبرے سے 90 میٹر دور تھا اور اس کی تعمیر کے لئے مورٹر کے ساتھ فلش اینٹوں کا کام کیا گیا تھا۔ اس کی پشتے کی دیوار زمین سے دو فٹ اونچی ہوتی تھی جبکہ کنویں میں سات فٹ نیچے ایک عبارت بھی تحریر تھی جو اب مسخ ہو چکی ہے۔
مقبرے کے جنوب مشرقی طرف واقع بارہ دری یا سمر ہاؤس سب سے زیادہ دلکش تھی۔ مستطیل شکل میں تعمیر شدہ سمر ہاؤس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: مرکزی ہال جس میں دو طرفہ ایوان تھے۔ سمر ہاؤس کی دیواروں کو نقش نگاری اور طاقچوں سے سجایا گیا تھا۔ حافظ حیات کے چار شاگردوں کی قبریں بھی اس احاطے میں ہیں جن میں سے ایک عمر بخش کی قبر خوبصورتی میں غیر معمولی ہے، جن کا انتقال 1835 ء میں ہوا۔ دوسرا شاگرد کنایت شاہ تھا جن کا انتقال 1899 ء یا 1900 ء میں ہوا۔ اس احاطے کے مشرق کی طرف سے ایک کمرہ بھی تھا جس کی دیواروں پر نقش و نگار 2008ئتک تازہ تھے اور راقم نے ان کی تصاویر بھی لی تھیں۔ اس کمرے کی ایک دیوار پر ایک پینٹنگ بھی تھی جس میں سرمئی گھوڑے پر سوار ایک شہزادے کو دو شکاری کتوں کے ساتھ شکار کرتے دکھایا گیا تھا۔
حافظ حیات صاحب کے ہاتھوں آباد کیے گئے علاقے میں آج یونیورسٹی آف گجرات کا مرکزی کیمپس ہے جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ حافظ حیات کے مزار کو 1989 ء میں آثار قدیمہ کے قانون کے تحت محفوظ یادگار قرار تو کر دیا گیا تھا جس سے اس کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن آج یہ آرٹ، میورل اور فریسکو ختم ہوچکے ہیں جو کسی زمانے میں مغل اور سکھ فنِ تعمیر کے مظہر تھے جبکہ اس کے مزار کو مکمل طور پر سفید پینٹ کر کے اس کی اصل حالت سے بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔




